نئی دہلی:5 نومبر(ایس ایم نیوز) اُردو اکادمی دہلی میں تعلیمی و ثقافتی مقابلے جاری ہیں ۔آج صبح دس بجے اردو ڈراما مقابلہ برائے مڈل زمرہ ( چھٹی تا آٹھویں جماعت) کے طلبہ و طالبات کے درمیان منعقد ہوا جس میں 18 اسکولوں کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس مقابلے میں پروفیسر محمد کاظم، شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی اور ڈاکٹر جاوید حسن، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ جج کی حیثیت سے شریک رہے۔ڈراموں کے اختتام پر پروفیسر محمد کاظم اور ڈاکٹر جاوید حسن نے تمام ڈراموں کے موضوعات اور ان کی پیشکش کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر تمام ڈرامے اچھے تھے، جب کہ بعض ڈراموں کی پیشکش نہایت عمدہ اور متاثر کن تھی۔ انھوں نے طلبہ و طالبات کی اداکاری، کرداروں کی ادائیگی اور اسٹیج پر پیشکش کے انداز کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ڈراموں کے موضوعات عصرِ حاضر کے اہم سماجی اور معاشرتی مسائل سے ہم آہنگ تھے۔ ان موضوعات کے انتخاب سے طلبہ کی سماجی شعور اور اپنے گرد و پیش کے حالات سے واقفیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔انھوں نے اسٹیج پر مکالموں کی ادائیگی کے مختلف طریقوں اور اس کے فنی تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے وضاحت کی کہ ہر مکالمہ اپنے اندر ایک خاص کیفیت، جذبہ اور مفہوم رکھتا ہے، اس لیے اسے موقع و محل، کردار کی نفسیاتی کیفیت اور ڈرامے کی مجموعی صورتِ حال کے مطابق ادا کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے آواز کے اتار چڑھاؤ، لہجے کی مناسبت، الفاظ کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات، حرکات و سکنات اور مکالموں کے درمیان مناسب وقفے کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے مختلف ڈراموں میں موجود باریک فنی و معنوی نکات کی نشان دہی کرتے ہوئے طلبہ کو ان کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان چھوٹی چھوٹی جزئیات پر توجہ دے کر ڈرامے کی پیشکش کو مزید مؤثر اور جاندار بنایا جا سکتا ہے۔آخر میں انھوں نے اردو اکادمی، دہلی کو اس نوعیت کے بامقصد مقابلوں کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکادمی، دہلی طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، انھیں اظہار کے مواقع فراہم کرنے اور ان کی ادبی و تخلیقی استعداد کو پروان چڑھانے کے سلسلے میں ایک اہم اور قابلِ قدر کارنامہ انجام دے رہی ہے۔
شائع شدہ: جمعہ, 6 نومبر، 2026 | 12:13 AM IST

