نئی دہلی، 1 نومبر: عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور تلک نگر کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے نومبر 1984 کے سکھ فسادات میں اپنی جانیں گنوانے والے سکھوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 42 سال گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کی آنکھوں میں آج بھی آنسو ہیں اور وہ انصاف کے منتظر ہیں۔ سکھوں کے قتلِ عام کے معاملے میں آر ایس ایس اور بی جے پی نے ہمیشہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ 14 رہنما سکھوں کے قتلِ عام میں براہِ راست ملوث تھے۔ آر ایس ایس کے رہنما نانا دیشمکھ نے سکھوں کے قتلِ عام کو درست قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود مودی حکومت نے انہیں بھارت رتن سے نوازا۔ کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے کئی رہنما بھی سکھ قتلِ عام میں ملوث آر ایس ایس کے لوگوں کو سزا دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ جرنیل سنگھ نے کہا کہ 1 نومبر سے 3 نومبر 1984 کے درمیان دہلی کی سڑکوں پر سکھوں کا جو قتلِ عام ہوا، وہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا ایک سیاہ باب ہے۔ ہندوستانی نظامِ انصاف کے پاس اب بھی موقع ہے کہ قاتلوں کو ان کی طبعی موت سے پہلے سزا دے کر اس داغ کو دھو دے، ورنہ تاریخ اس ناانصافی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1984 کے سکھ قتلِ عام سے جڑے ان سوالات کے جواب صرف سکھ سماج ہی نہیں بلکہ پورا ملک آج بھی بی جے پی سے مانگ رہا ہے۔ آخر کب تک ان سوالات سے بچتے رہو گے؟ جواب دینا ہی ہوگا۔ جرنیل سنگھ نے کہا کہ آر ایس ایس کے قیام کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کہہ رہے ہیں کہ 1984 کے سکھ قتلِ عام کے دوران آر ایس ایس کے لوگوں نے سکھوں کو پناہ دی تھی۔ ممکن ہے کہ کہیں کسی نے پناہ دی ہو، لیکن ملک کی راجدھانی دہلی میں، جہاں اس قتلِ عام کا سب سے زیادہ اثر دیکھنے میں آیا، وہاں آر ایس ایس کے لوگوں نے کیا کیا، یہ بتانا وزیر اعظم بھول گئے یا شاید انہیں اس کی معلومات ہی نہیں ہوں گی۔ جرنیل سنگھ نے کہا کہ اگست 1993 میں درج کی گئی ایک ایف آئی آر میں آر ایس ایس کے 14 رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ یہ 14 رہنما 1984 کے سکھ قتلِ عام میں براہِ راست ملوث تھے۔ وزیر اعظم صاحب، اس بارے میں کون بات کرے گا؟ آر ایس ایس نے سکھوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا جو کام کیا ہے، اس کا ذکر تو وزیر اعظم نے کیا ہی نہیں۔ جرنیل سنگھ نے کہا کہ آر ایس ایس کے سینئر رہنما نانا دیشمکھ نے ایک اخبار میں موومنٹ آف سول سرچنگ (Movement of Soul Searching) کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا، جس میں انہوں نے 1984 کے سکھ قتلِ عام کو بالکل جائز قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس قتلِ عام کو لوگوں کے غصے کا فطری نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا اور سکھوں کو مشورہ دیا کہ اس تشدد کو ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھوں کو اپنا دفاع کرنے کے بجائے صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سکھوں کو اپنا دفاع بھی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اگر کوئی انہیں مارنے آ رہا تھا تو انہیں کہنا چاہیے تھا کہ آؤ، ہمیں مار ڈالو۔ جرنیل سنگھ نے کہا کہ جو شخص یہ کہہ رہا تھا کہ 1984 کا قتلِ عام بالکل درست تھا، اسی نانا دیشمکھ کو پہلے 1999 میں پدم وبھوشن دیا گیا اور پھر 2019 میں اسی مودی حکومت نے انہیں ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن سے نواز دیا۔ اس سے بڑھ کر زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام اور کیا ہو سکتا ہے؟ وزیر اعظم نے آر ایس ایس کے بارے میں پوری حقیقت بیان نہیں کی۔جرنیل سنگھ نے کہا کہ یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ بی جے پی کے وہ رہنما بھی یہ مطالبہ کر چکے ہیں جو پہلے کانگریس میں تھے۔ ان میں تروندر سنگھ مارواہ اور کیپٹن امریندر سنگھ سمیت کئی رہنما شامل ہیں۔ ان سب نے کہا ہے کہ 1984 کے سکھ قتلِ عام میں ملوث آر ایس ایس کے لوگوں کو سزا دی جانی چاہیے۔انہوں نے دہلی کی سکھ قیادت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آخر انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کیا انہیں شرم نہیں آتی؟ جب سری اکال تخت صاحب کی جانب سے یہ کہا جا چکا ہے کہ آر ایس ایس کے پروگراموں میں شرکت نہیں کرنی چاہیے اور آر ایس ایس پر پابندی عائد کی جانی چاہیے، کیونکہ یہ فرقہ واریت اور نفرت پھیلاتی ہے، اس کے باوجود وہ آر ایس ایس کی 100ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہیں شرم آنی چاہیے۔ آنے والے وقت میں سنگت ان سے اس کا جواب طلب کرے گی۔
شائع شدہ: پیر, 2 نومبر، 2026 | 8:39 AM IST

