24 جمادی الاول، 1448 ہجری

قومی یکجہتی کے فروغ ، انسانیت نوازی اور امن و شانتی کے قیام کا راز عقیدہ توحید میں مضمر ہے:مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس، اہم ملی و ملکی امور پر قراردادیں منظور

ایک کانفرنس روم میں ایک لمبی میز کے گرد بیٹھے ہوئے مردوں کا ایک گروپ۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس، جس میں اہم ملی و ملکی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اہم نکات

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ نے 2 نومبر 2026 کو اپنے اجلاس میں عقیدہ توحید کے فروغ، قومی یکجہتی، اور ملک کے موجودہ حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کئی اہم قراردادیں منظور کیں۔

  • اجلاس 2 نومبر 2026 کو اہل حدیث کمپلیکس، اوکھلا، نئی دہلی میں منعقد ہوا۔
  • مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے صدارتی خطاب میں ایمان و عقیدہ کی حفاظت پر زور دیا۔
  • چھتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے انعقاد کی منظوری دی گئی۔
  • مہنگائی، بے روزگاری، اور اخلاقی بگاڑ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
  • مساجد کے انہدام اور مدارس کی انکوائری پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
  • یونیفارم سول کوڈ اور قومی وقار کے ترمیمی بل 2026 پر نظر ثانی کی اپیل کی گئی۔

نئی دہلی:۲؍نومبر۲۰۲۶ء مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس آج ۲؍نومبر ۲۰۲۶ء کو اہل حدیث کمپلیکس،اوکھلا،نئی دہلی میں زیرصدارت مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ، امیرمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند منعقدہوا،جس میںملک کے تقریبا تمام صوبوںسے آئے ہوئے معززارکان مجلس عاملہ وذمہ داران صوبائی جمعیات اہل حدیث نے شرکت کی ۔اجلاس کا آغاز مولانا طہ سعید خالد عمری نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث اڈیشہ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔اس کے بعدامیرمحترم مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مؤقر اراکین اورذمہ داران صوبائی جمعیات کو خوش آمدید کہا اور ان کی شرکت پر ان کاصمیم قلب سے شکریہ ادا کیا اور ایمان وعقیدہ کی حفاظت اور دینی شناخت کے تحفظ، دعوت توحید وسنت اور حکمت و بصیرت کا تقاضا، ملی اتحاد، باہمی اخوت اور اجتماعی شعور کی بیداری، جماعت اہلحدیث کے علمی ودعوتی تشخص اور اس کی تجدیدعہد، تعلیم وتربیت ملت کے مستقبل کی ضمانت، نوجوان نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت، موجودہ قومی حالات اور آئینی اور شہری ذمہ داریاں، سماجی خدمت اور انسانیت کے لیے خیر خواہی، جماعتی تنظیم، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی استحکام، خواتین کی دینی تعلیم و ترقی اور معاشرتی کردار، میڈیا، صحافت اور ڈیجیٹل دنیا میں موثر نمائندگی وغیرہ امور پر پُر مغز خطاب فرمایا۔ اور فتنوں اور جنگ و جدل کے دور میں کتاب وسنت اور سلف صالح کے فہم و تعامل کی روشنی میں زندگی گزار نے کی تلقین کی اور کہا کہ فتنوں کے دور میں دینی بصیرت ، انسانی ہمدردی اور آئینی روح کو بروئے کار لائیں اور فتنہ وفساد سے بچیں۔ بعد ازاںمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانامحمدہارون سنابلی کے ذریعہ گزشتہ اجلاس عاملہ کی کارروائی کی خواندگی عمل میں آئی،جس کی شرکاء اجلاس نے توثیق کی۔اس کے بعدمرکزی جمعیت کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی جس پر اراکین نے اطمینان و خوشی کا اظہار کیا ۔اجلا س میں ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز نے شعبہ تعمیرات کی رپورٹ پیش کی جس پر مؤقراراکین نے اعتماد واطمینان کااظہار کیا۔ مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملی ،جماعتی وملکی اورعالمی اہم امورومسائل کے سلسلے میں قراردادیںاورتجاویز پیش کی گئیں جنہیں ارکان عاملہ نے اتفاق رائے سے منظورکیا۔اجلاس عاملہ میں بطور خاص چھتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے انعقاد کو منظوری دی گئی۔ قرار دداد میں عصر حاضر میں عقیدہ توحید کی اہمیت و ضرورت، معنویت اور افادیت کے پیش نظر علماء کرام سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی تقریروں، تحریروں اور وعظ و نصیحت میں عقیدہ توحید کو ترجیہی طور پر موضوع سخن بنائیں۔ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے فہم و تعامل کو سامنے رکھیں اور کسی بھی طرح نفاق و شقاق کو اپنی صفوں میں آنے نہ دیں۔مسلکی و نظریاتی اختلاف سے اوپر اُٹھ کر اتحاد و اتفاق اور یگانگت و رواداری کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کے خلاف ایسی زبان و بیان سے گریز کریں جس سے ایک دوسرے کی دل آزاری ہوتی ہو۔ اجلاس میں ملک میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، ناخواندگی، اخلاقی بگاڑ، سماجی استحصال اور رشوت کی صورتحال ، شراب نوشی و منشیات کے استعمال اور فحاشی اور جہیز کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور عوام و خواص سے اپیل کی گئی کہ ان کے سد باب کے لیے آگے آئیں۔ قرار داد میں کہ وہ جمہوریت کے چوتھے ستون کے طور پر ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا متوقع کردار ادا کرے ۔ اسی طرح قومی یکجہتی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، خیر سگالی، اتحاد و اتفاق ، رواداری، احترام باہمی اور امن و شانتی کے قیام کی اہمیت و ضرورت پر زور دیا گیا اور اسے ملک کی تعمیر وترقی کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے ہر طرح کے تشدد اور منافرت سے دور رہنے کی اپیل کی گئی ۔ نیز اس اجلاس میں دہشت گردی کی ہر شکل کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے بزدلانہ و غیر انسانی عمل قرار دیا گیا۔ قرار داد میں قومی راجدھانی دہلی اور ملک کے مختلف حصوں میں آئے دن مساجد کے انہدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور ملک کے مختلف حصول میں مدرسہ بورڈ کو کالعدم قرار دینے اور مختلف حوالوں سے مدارس کی انکوائری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکومتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ آئین میں اقلیتوں کو دی گئی مذہبی تعلیمی آزادی کا پاس و لحاظ رکھیں۔ساتھ ہی ملک کے مختلف صوبوں میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کو آئین میں دیئے گئے اقلیتوں کے پرسنل لا ء میں مداخلت قرار دیتے ہوئے حکومت سے اس پر نظر ثانی کر نے کی اپیل کی گئی نیز قومی وقار کے ترمیمی بل ۲۰۲۶ء کے ذریعہ وندے ماتر م کی لازمیت پر عقیدہ توحید کے منافی ہونے کی وجہ سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اسی طرح ایس آئی آر کے نام پر ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر رائے دہندگان خصوصاً مسلمانوں کے ناموں کے حذف کیے جانے کو جمہوریت مخالف قرار دیا گیا ۔ ساتھ ہی تمام شہریوں خصوصاً مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ایس آئی آر اور مردم شماری کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ اسی طرح قرار داد میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام دو روزہ اہل حدیث کمپلیکس میں جاری بائیسواں عظیم الشان آل انڈیا مسابقہ حفظ و تجوید و تفسیر قرآن کریم کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران خصوصا امیر محترم کو دلی مبارکباد پیش کی۔ قرار داد میں بلا دحرمین شریفین کے مختلف مقامات خصوصا شاہ خالد انٹر نیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے دہشت گردانہ حملوں کی پر زور مذمت کرتے ہو ئے تلقین کی گئی کہ بلا د حرمین شریفین کے تقدس و حرمت سے چھیڑ چھاڑ نہ کیا جائے۔ نیز فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور ظلم وزیادتی پر مذمت کی گئی اورکہا گیا کہ مذاکرات اچھی بات ہے مگر مذاکرات اورجنگ اورجنگ بندی کے نام پر قضیہ فلسطین کو پیچھے ڈھکیلے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔اخیر میں ملک وملت او ر جماعت کے اہم شخصیات کے انتقال پر ملال پر اظہار افسوس اور ان کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کی گئی۔

شائع شدہ: منگل, 3 نومبر، 2026 | 12:50 AM IST

یہ خبر شیئر کریں

واٹس ایپفیس بکایکسٹیلیگرام