24 جمادی الاول، 1448 ہجری

رابطہ عالم اسلامی: ایک تعارف اور اس کے اہم مقاصد

یہ عالمی اسلامی تنظیم اسلام کی دعوت، تعلیمات اور دنیا میں خیر سگالی کو فروغ دیتی ہے۔

مسلم ورلڈ لیگ کے لوگو کے ساتھ ایک شخص پوڈیم پر کھڑا تقریر کر رہا ہے۔
رابطہ عالم اسلامی کے قیام اور اس کے بنیادی مقاصد کا جائزہ۔
اہم نکات

رابطہ عالم اسلامی ایک عالمی اسلامی تنظیم ہے جو 1962 میں قائم ہوئی، جس کا صدر دفتر مکہ مکرمہ، سعودی عرب میں ہے اور اس کا بنیادی کام اسلام کی دعوت کو عام کرنا، اس کی تعلیمات کی صحیح تشریح پیش کرنا، اور دنیا میں قوموں کے درمیان محبت، خیر سگالی اور یکجہتی کا پیغام عام کرنا ہے۔

  • رابطہ عالم اسلامی کا قیام 1962 میں مکہ مکرمہ، سعودی عرب میں ہوا۔
  • تنظیم کا بنیادی مقصد اسلام کی دعوت کو عام کرنا اور اس کی صحیح تشریح پیش کرنا ہے۔
  • اس نے وثیقہ مکہ مکرمہ پر 1200 سے زائد علماء کے دستخط حاصل کیے ہیں۔
  • رابطہ ہر سال اسلامی مذاہب کے علماء کے بڑے کانفرنسوں کا انعقاد کرتا ہے۔
  • تنظیم کی ایک ذیلی شاخ الہیئۃ العالمیۃ للعلماء والمسلمین ہے۔
  • محمد بن عبد الکریم العیسی 2016 سے اس کے جنرل سیکرٹری ہیں۔

رابطہ عالمی اسلامی ایک عالمی اسلامی تنظیم ہے جس کا صدر دفتر مکہ المکرمہ سعودی عرب میں ہے، اس تنظیم کی بنیاد م ۱۴؍ذی الحجہ ۱۳۸۱ھ؁ موافق ۱۹۶۲ء؁ میں پڑی، اس کا بنیادی کام یہ ہے کہ اسلام کی دعوت کو عام کرے اور اس کے تعلیمات و مبادیات کی واضح اور صحیح تشریح پیش کرے نیز دنیا میں پائی جانے والی قوموں کے درمیان محبت خیر سگالی اور یکجہتی کا پیغام عام کرے۔ رابطہ کے بنیادی ارکان کے انتخاب کے لئے یہ معیار طے پایا کہ اس کا ممبر انہیں لوگوں کو بنایا جائے جو پورے عالم اسلام میں اپنے اپنے ملکوں میں بحیثیت عالم دینی امور و مسائل میں قیات کر رہے ہوں۔اسلامی وحدت کی جڑوں کو مضبوط کرنے اور قومی برادریوں کی اقدار کو اجاگر کرنے میں اس تنظیم کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔

۱۔اس ضمن میں سب سے پہلے وثیقہ مکہ مکرمہ کو ذکر کیا جا سکتا ہے جس پر پوری دنیا کے منتخب شدہ بارہ سو 1200 علماء کرام اور مفتیان عظام نے دستخط کئے ہیں اور اس میں مختلف مذاہب و مسالک کے علماء واکابرین شامل ہیں۔ اس وثیقہ میں ان سبھی بارہ سو اکابر علماء نے باہمی ا خوت اور فرقہ بندی سے دوری اور یکجہتی پر اتفاق کیا ہے۔

۲۔اسی ضمن میں رابطہ ہر سال بڑے بڑے کا نفرسوں کا انعقاد کرتی ہے تاکہ اسلامی مذاہب کے علماء سے رابطہ بنار ہے اور ایک مخصوص ہدف تک پہنچنے میں سب متفق ہوں یعنی ان میں کوئی مذہبی، ملکی اور قومی و تاریخی اختلاف رونما نہ ہو سب ایک اسلام کے جھنڈے تلے متحد رہیں۔

۳۔اس ضمن میں رابطہ نے ایک ذیلی تنظیم الہیئۃ العالمیۃ للعلماء والمسلمین کے نام سے بنائی جس کا واحد مقصد ہے کہ امت مسلمہ کے تمام علماء کی کوششوں کو ایک مثبت سمت میں مرکوز کیا جا سکے اور موجودہ دو کے چیلنجر سے نمٹنے کے لئے انھیں باہم اتحاد کے ساتھ مقابلہ کرنے کو تیار کیا جائے۔

۴۔نیز امت میں جو فکری طور پر غیر ہم آہنگی ہے اور مبالغہ آمیزی کی جو روش ہے اس پر قابو پایا جائے اور سب کو وسطیت و اعتدال کی لڑی میں پرو دیا جائے۔

رابطہ عالم اسلامی کے اہم اہداف:

۱۔اسلام کی نشر و اشاعت کرنا اور پوری دینا کو دین اسلام کی خوبیوں کے روشناس کرنا۔

۲۔اسلام کے مبادیات کی روشن اور واضح و درست تشریح اقوام عالم کے سامنے پیش کرنا۔

۳۔اسلام کے خلاف اٹھنے والی آوازوں اور شکوک وشبہات کا ازالہ کرنا۔

۴۔اسلامی یکجہتی کو فروغ دینا۔

۵۔عالم اسلام کے درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنا ۔

کچھ نامور اور مشہور مذہبی ادارے اس تنظیم کی ماتحتی میں رو بہ عمل ہیں۔

المجمع الفقہ الاسلامی، اس میں عالم اسلام کے مشہور ترین فقہاء اسلام کو پیش آنے والے جدید ترین مسائل پر اجتہاد کرتے ہیں اور امت مسلمہ کیسامنے اس کا حل پیش کرتے ہیں۔

والہیئۃ العالمیۃ للکتاب والسنۃ : یہ برانچ قرآن مجید کے متعلق مختلف فنون اور اس کے علی اعجاز پر بحث و تحقیق کرتا ہے ۔ اس طرح رسول اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور آپ کی سنت کے علمی و فنی اعجاز اور اس پر ابھرنے والے سوالات کا جواب دیتا ہے۔

الہیئۃ العالمیۃ للاغاثۃ والرعایۃ والتنمیۃ: یہ شعبہ مملکت میں عرب کی متنوع امدادی خدمات مثلا تعلیم، اغاثہ، اور معاشرتی ضرورت کی خدمات میں مالی تعاون پیش کرتا ہے۔ اس تنظیم کی تاسیس سے لے کر اب تک اس کے مختلف سکریڑی و ذمہ دار رہے ہیں:مثلاً

1962 سے 1970 تک محمد سرور الصبان پھر

1972سے 1976تک محمد صالح فراز پھر

1976سے 1983تک محمد بن علی الحرکان پھر

1983 سے 1994 تک عبداللہ بن عمر نصیف پھر

1994 سے 1995 تک احمد محمد علی پھر

1996سے 2000 تک عبد اللہ بن صالح العبید پھر

2000 سے 2016 تک عبداللہ بن عبد المحسن الترکی پھر

2016 اب تک محمد بن عبد الکریم العیسی اس کے جزل سکریٹری ہیں۔ ان کی پیدائش 1385ھ؍1965 ء میں ہوئی۔ قبل ازیں وہ سعودی عرب کے محکمہ عدل میں وزیر تھے جب عبد اللہ آل الشیخ نے سعودی مجلس شوری کا انھیں ممبر بنا یا تھا پھر 2009 ء میں شاہی فرمان بموجب دیوان ملکی کے مستثار بنائے گئے جنہیں وزیر کا درجہ حاصل تھی۔ پھر شعبان 1436میں آپ رابطہ عالم اسلامی کے امین عام منتخب ہوئے۔1443ھ میں شاہی فرمان کے بموجب عرفہ میں مسجد نمرہ میں حج کا خطبہ دیا اس طرح وہ خطباء حج میں تیرہوی خطیب تھے۔

ابتدائی تعلیم جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ میں حاصل کیا اور وہیں سے بیچلر کی تعلیم مکمل کیا پھر العہد العالی للقضاء میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کیا۔ وہاں آپ کی تھیسس فرسٹ پوزیشن سے کامیاب ہوئی۔ آپ نے اپنے فن میں مقالہ لکھنے کے لیے مختلف ملکی و بیرونی ملک اداروں کا دورہ کیا پھر آپ مختلف تعلیمی مناسب کے ممبر رہے یہاں تک کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی علماء کی اتھارٹی کمیٹی ہیئۃ کبار العلماء کے بھی ممبر رہے۔ اور آج بھی رابطہ عالم اسلامی کے امین عام ہوتے ہوئے آپ متعدد اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں۔ ہیئۃ کبار علماء کے ممبر اور سعودی مجلس شوری کے مشیر اور جامعۃ الملک سعود میںرئیس المجلس الاستثاری برائے کلیۃ الحقوق ہیں۔ 2019ء میں آپ رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کے صدر منتخب کئے گئے ہیں۔ تقریباً دسیوں کتابیں آپ کی منظر عام پر آچکی ہیں۔

۶۔رابطہ کے اہداف و مقاصد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ دنیا بھر میں مسلم اقلیتوں اور ان کے مسائل کا خیال رکھتا ہے اور ان کے ساتھ ایسا رابطہ استوار رکھتا ہے جو ان کے حالات و مشکلات کو ان ممالک کے دستاویز و قوانین کے دائرے میں حل کرے۔

۷۔موسم حج سے استفادہ کرتے ہوئے علماء و دانشوران اور اداروں کے سربراہوں کے باہمی اجتماع کو ممکن بناتا ہے تاکہ مسلمانوں کے حالت بہتر بنانے کے لئے علمی اور فکری حل اور تجویز پیش کر سکے

۸۔تہذیبی مکالمے کو فروغ دیتے ہوئے ثقافت مکاملہ کو بھی عام کرتا ہے۔

۹۔امت مسلم کے شعور میں اعتدال اور میانہ روی کے مفاہیم کو عام کرتا ہے۔

یہ تنظیم ایک خود مختار تنظیم ہے اور اقوام متحدہ میں اقتصادی و سماجی کونسل کے تحت غیحر حکومتی تنظیموں کی حیثیت سے مبصر رکن ہے۔ یہاں سے دو علمی مجلے صادر ہو تے ہیں:

(۱) مجلۃ رابطۃ العالم الإسلامی جو ماہنامہ ہوتا ہے۔

(۲) الاعجاز العلمی یہ بھی ایک ماہنامہ رسالہ ہے۔

شائع شدہ: بدھ, 4 نومبر، 2026 | 2:13 AM IST

یہ خبر شیئر کریں

واٹس ایپفیس بکایکسٹیلیگرام