24 جمادی الاول، 1448 ہجری

مرکزی حکومت کا دہلی ہائی کورٹ سے کرشی بھون کی مسجد ہٹانے کا مطالبہ

حکومت نے کہا کہ سرکاری احاطے میں مذہبی ڈھانچہ سیکولر حیثیت کے خلاف ہے۔

ایک سفید عمارت جس میں سرخ محرابیں اور چھوٹی میناریں ہیں، ایک بڑی عمارت کے سامنے کھڑی ہے۔
مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں کرشی بھون کے احاطے میں واقع مسجد کو ہٹانے کے لیے حلف نامہ داخل کیا ہے۔
اہم نکات

مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں کرشی بھون کے احاطے میں موجود مسجد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، کیونکہ یہ سرکاری املاک کے سیکولر کردار کے خلاف ہے اور سنٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ ماسٹر پلان کے تحت کامن سنٹرل سکریٹریٹ کی عمارتوں 4 اور 5 کی تعمیر میں رکاوٹ ہے۔

  • مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں کرشی بھون کی مسجد ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
  • حکومت کے مطابق، سرکاری دفتر کے احاطے میں مذہبی ڈھانچہ سیکولر حیثیت کے خلاف ہے۔
  • مسجد کی موجودگی سنٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ ماسٹر پلان کے تحت تعمیر میں رکاوٹ ہے۔
  • کامن سنٹرل سکریٹریٹ کی عمارتوں 4 اور 5 کی تعمیر قومی اہمیت کا منصوبہ ہے۔
  • کرشی بھون کے 2 کلومیٹر کے دائرے میں شاہی مسجد جابتا گنج موجود ہے۔
  • حکومت مسجد کے لیے الگ جگہ مختص کرنے پر مجبور نہیں کی جا سکتی۔

حکومت نے کہا کہ ’’کسی بھی مرکزی سرکاری دفتر کے احاطے کی حدود میں مستقل مذہبی ڈھانچہ قائم کرنا، اسے برقرار رکھنا یا اس پر دعویٰ کرنا ناقابل قبول ہے اور یہ سرکاری املاک کی سیکولر حیثیت کے خلاف ہے

نئی دہلی ـ: 3نومبر،سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت ’کرشی بھون‘ کے احاطے میں واقع مسجد کو لے کر مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔ اپنے حلف نامے میں مرکز نے کہا ہے کہ ’کِرشی بھون‘ میں موجود مسجد سرکاری املاک کے سیکولر کردار کے خلاف ہے اور اسے ہٹایا جانا چاہیے۔ مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ ’کِرشی بھون‘ احاطے میں واقع ’قدیمی مسجد‘ کو ہٹانے کی ضرورت ہے، تاکہ سنٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ ماسٹر پلان کے تحت کامن سنٹرل سکریٹریٹ کی عمارتوں 4 اور 5 کی ازسرنو تعمیر کی جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تعمیر قومی اہمیت کا ایک انتہائی اہم عوامی منصوبہ ہے اور پروجیکٹ کی جگہ پر فی الحال مسجد موجود ہونے کی وجہ سے اس کے نفاذ میں رکاوٹ آ رہی ہے۔حلف نامے میں مرکزی حکومت نے واضح طور پر دلیل دی ہے کہ کسی بھی مرکزی سرکاری دفتر کے احاطے کی حدود میں مستقل مذہبی ڈھانچہ قائم کرنا، اسے برقرار رکھنا یا اس پر دعویٰ کرنا ناقابل قبول ہے اور یہ سرکاری املاک کی سیکولر حیثیت کے خلاف ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ایریا میں واقع عوامی زمین پر کوئی مستقل مذہبی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ مرکز نے اپنے حلف نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ ’کِرشی بھون‘ اور سنٹرل سکریٹریٹ کمپلیکس سیکولر عوامی احاطے ہیں، جو خاص طور پر سرکاری، انتظامی اور عوامی خدمات کے کاموں کے لیے مختص ہیں۔ ایسے میں احاطے کے اندر مذہبی ڈھانچے کو برقرار رکھنا مناسب نہیں ہے۔کومت نے یہ بھی بتایا کہ کامن سنٹرل سکریٹریٹ کی عمارتوں 4 اور 5 کی تعمیر سنٹرل وسٹا ماسٹر پلان کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس منصوبے کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے لیے پروجیکٹ کی جگہ پر موجود مسجد کو ہٹانا ضروری ہے۔ مرکز نے عدالت کو یہ بھی بتایا ہے کہ ’کِرشی بھون‘ کے آس پاس 2 کلومیٹر کے دائرے میں شاہی مسجد ’جابتا گنج‘ واقع ہے، جو آس پاس کے لوگوں کو نماز ادا کرنے کی مکمل سہولت فراہم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ’کِرشی بھون‘ کے احاطے کے اندر الگ سے مسجد کی ضرورت نہیں ہے۔حلف نامے میں مرکزی حکومت نے کہا کہ اسے ’کِرشی بھون‘ یا سنٹرل سکریٹریٹ کے احاطے کے اندر اس مسجد کے لیے الگ جگہ مختص یا مقرر کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ عوامی انتظامی علاقے میں مذہبی مقام کے لیے الگ سے جگہ فراہم کرنا سیکولر اصولوں کے خلاف ہوگا۔ سنٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے تحت مرکزی حکومت کئی پرانی عمارتوں کو ہٹا کر نئی کامن سنٹرل سکریٹریٹ عمارتیں تعمیر کر رہی ہے۔ اسی منصوبے کے تحت ’کِرشی بھون‘ کا احاطہ بھی ازسرنو تعمیر کے منصوبے میں شامل ہے۔

شائع شدہ: بدھ, 4 نومبر، 2026 | 2:26 AM IST

یہ خبر شیئر کریں

واٹس ایپفیس بکایکسٹیلیگرام