بِسْمِ ٱللهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيْمِ
{حدیث نمبر ۔ ۴}
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا نُطْفَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذٰلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذٰلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكِتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا». [رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (3208)، وَمُسْلِمٌ (2643)] اردو ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، اور آپ سچے اور سچ بتائے گئے ہیں:"تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں جمع کی جاتی ہے، پھر وہ اتنے ہی دنوں تک جما ہوا خون (علقہ) بنتا ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک گوشت کا لوتھڑا (مضغہ) بنتا ہے، پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے، اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل، اور یہ کہ وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت۔پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! تم میں سے کوئی شخص جنت والوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ جہنم والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص جہنم والوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ جنت والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔" تعارف راوی:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی، سابقینِ اولین اور قرآن و فقہ کے عظیم عالم تھے۔ نام و نسب: عبد اللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب ہذلی کنیت: ابو عبد الرحمن ہجرت: آپ نے حبشہ اور مدینہ دونوں طرف ہجرت کی اور غزوہ بدر و احد سمیت اہم جنگوں میں شریک رہے۔ خدمتِ نبوی: آپ کو نبی کریم ﷺ کے خادمِ خاص ہونے کا شرف حاصل تھا۔اسی لیے صاحب النعلین و الطھور و الوسادۃ(جوتے و وضواور تکیہ والے)سے مشہور ہوئے۔ منصب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں آپ کو کوفہ کا قاضی اور بیت المال کا نگران بنا کر بھیجا گیا جہاں آپ نے تعلیم و تربیت کا عظیم کام کیا۔ علمی مہارت: آپ قرات، تفسیر، اور فقہ میں بلند مقام رکھتے تھے۔ وفات: سنہ 32 ہجرت میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ أقوال أهل العلم: قَالَ الْإِمَامُ النَّوَوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ:’’هَذَا الْحَدِيثُ أَصْلٌ عَظِيمٌ فِي بَيَانِ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْإِنْسَانِ، وَبَيَانِ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ.‘‘’’یہ حدیث انسان کی تخلیق کے مراحل کو بیان کرنے اور تقدیر پر ایمان کی وضاحت کرنے میں ایک عظیم اصل اور بنیاد ہے۔‘‘] شرح النووي على صحيح مسلم[ قَالَ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ:’’هَذَا الْحَدِيثُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْأَعْمَالَ بِالْخَوَاتِيمِ، وَأَنَّ السَّعَادَةَ وَالشَّقَاوَةَ مُقَدَّرَتَانِ عَلَى الْعَبْدِ.‘‘’’یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہوتا ہے، اور سعادت و شقاوت بندے کے لیے مقدر کر دی گئی ہیں۔‘‘(جامع العلوم والحکم) قَالَ ابْنُ حَجَرٍ الْعَسْقَلَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ:’’فِي الْحَدِيثِ إِثْبَاتُ كِتَابَةِ الْمَقَادِيرِ قَبْلَ وُقُوعِهَا، وَأَنَّ الْمَلَكَ يُؤْمَرُ بِكِتَابَةِ رِزْقِ الْعَبْدِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ.‘‘’’اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ تقدیریں وقوع سے پہلے لکھ دی جاتی ہیں، اور فرشتہ بندے کا رزق، اس کی عمر اور اس کے اعمال لکھنے پر مامور کیا جاتا ہے۔‘‘(فتح الباري) قَالَ الْقُرْطُبِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ:’’هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَعْظَمِ الْأَحَادِيثِ الدَّالَّةِ عَلَى وُجُوبِ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ.‘‘’’یہ حدیث ان عظیم احادیث میں سے ہے جو خیر و شر سمیت تقدیر پر ایمان واجب ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔‘‘(المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم) قَالَ ابْنُ الْقَيِّمِ رَحِمَهُ اللَّهُ:’’فِيهِ أَنَّ الْعِبْرَةَ بِكَمَالِ النِّهَايَاتِ لَا بِنَقْصِ الْبِدَايَاتِ.‘‘ ’’اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ اعتبار کامل انجام کا ہوتا ہے، نہ کہ ابتدائی کمی اور کوتاہی کا۔‘‘(طريق الهجرتين) vالْإِيمَانُ بِالْقَدَرِ: الْإِيمَانُ بِأَنَّ اللَّهَ كَتَبَ كُلَّ شَيْءٍ بِعِلْمِهِ وَحِكْمَتِهِ قَبْلَ وُقُوعِهِ.» تقدیر پر ایمان: یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور حکمت کے ساتھ ہر چیز کو پہلے ہی لکھ دیا ہے۔ vمَرَاحِلُ خَلْقِ الْإِنْسَانِ: يَمُرُّ الْجَنِينُ بِمَرَاحِلِ النُّطْفَةِ ثُمَّ الْعَلَقَةِ ثُمَّ الْمُضْغَةِ حَتَّى يَكْتَمِلَ خَلْقُهُ.» انسان کی تخلیق کے مراحل: جنین ماں کے پیٹ میں نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ کے مراحل سے گزرتا ہے یہاں تک کہ اس کی مکمل تخلیق ہو جاتی ہے۔ vنَفْخُ الرُّوحِ فِي الْجَنِينِ: يُرْسِلُ اللَّهُ الْمَلَكَ لِيَنْفُخَ الرُّوحَ فِي الْجَنِينِ بِأَمْرِهِ سُبْحَانَهُ.» جنین میں روح پھونکنا: اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اللہ کے حکم سے جنین میں روح پھونکتا ہے۔ vكِتَابَةُ الْأَرْزَاقِ وَالْآجَالِ: يُكْتَبُ لِلْإِنْسَانِ رِزْقُهُ وَعُمْرُهُ وَعَمَلُهُ قَبْلَ وِلَادَتِهِ. رزق اور عمر کا لکھا جانا: انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کا رزق، عمر اور عمل لکھ دیا جاتا ہے۔ vعَمَلُ الْمَلَائِكَةِ: الْمَلَائِكَةُ عِبَادٌ لِلَّهِ يُنَفِّذُونَ أَوَامِرَهُ بِدِقَّةٍ وَطَاعَةٍ. فرشتوں کا عمل: فرشتے اللہ کے بندے ہیں جو اس کے احکامات کو مکمل اطاعت اور درستگی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ vحُسْنُ الْخَاتِمَةِ وَسُوءُ الْخَاتِمَةِ: الْعِبْرَةُ فِي حَيَاةِ الْإِنْسَانِ بِمَا يُخْتَمُ لَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ.»حسنِ خاتمہ اور بد خاتمہ: اصل اعتبار انسان کی زندگی کے انجام کا ہے کہ وہ کس حالت پر دنیا سے جاتا ہے۔ vالثَّبَاتُ عَلَى الطَّاعَةِ: الْمُسْلِمُ يَحْتَاجُ إِلَى الِاسْتِمْرَارِ عَلَى الطَّاعَةِ حَتَّى آخِرِ حَيَاتِهِ.»طاعت پر ثابت قدمی: مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے آخر تک نیکی اور اطاعت پر قائم رہے۔ vالْخَوْفُ وَالرَّجَاءُ: يَجْمَعُ الْمُؤْمِنُ بَيْنَ الْخَوْفِ مِنَ الْعِقَابِ وَالرَّجَاءِ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ.» خوف اور امید: مومن اللہ کے عذاب سے ڈرتا بھی ہے اور اس کی رحمت کی امید بھی رکھتا ہے۔ vعِلْمُ اللَّهِ السَّابِقُ: اللَّهُ تَعَالَى يَعْلَمُ كُلَّ شَيْءٍ قَبْلَ حُدُوثِهِ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ.» اللہ کا ازلی علم: اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اس کے وقوع سے پہلے ہی جانتا ہے، اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ vحِكْمَةُ اللَّهِ فِي الْخَلْقِ: خَلَقَ اللَّهُ الْإِنْسَانَ لِحِكْمَةٍ عَظِيمَةٍ وَغَايَةٍ نَبِيلَةٍ وَهِيَ عِبَادَتُهُ.»تخلیق کی حکمت: اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، اور وہ اس کی عبادت ہے۔ vحِكْمَةُ اللَّهِ فِي الْخَلْقِ: خَلَقَ اللَّهُ الْإِنْسَانَ لِحِكْمَةٍ عَظِيمَةٍ وَغَايَةٍ نَبِيلَةٍ وَهِيَ عِبَادَتُهُ.» دنیا کی مختصر زندگی: دنیا فانی ہے جبکہ آخرت ہمیشہ رہنے والی اور جزا و سزا کا گھر ہے۔ vأَثَرُ الدُّعَاءِ: الدُّعَاءُ سَبَبٌ لِلثَّبَاتِ وَالطُّمَأْنِينَةِ وَحُسْنِ الْخَاتِمَةِ.» دعاء کا اثر: دعا انسان کو ثابت قدمی، سکون اور حسنِ خاتمہ کا ذریعہ بنتی ہے۔ vالتَّوَكُّلُ عَلَى اللَّهِ: يَعْتَمِدُ الْمُسْلِمُ عَلَى اللَّهِ مَعَ الْأَخْذِ بِالْأَسْبَابِ الْمَشْرُوعَةِ.» توکل علی اللہ: مسلمان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے لیکن ساتھ ہی جائز اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ vالرَّدُّ عَلَى مُنْكِرِي الْقَدَرِ: الْحَدِيثُ دَلِيلٌ وَاضِحٌ عَلَى ثُبُوتِ الْقَدَرِ فِي الْإِسْلَامِ.» منکرینِ تقدیر کا رد: یہ حدیث اسلام میں تقدیر کے عقیدے کے واضح ثبوت پیش کرتی ہے۔ vالْعَلَاقَةُ بَيْنَ الْعَمَلِ وَالْقَدَرِ: الْعَبْدُ يَعْمَلُ بِاخْتِيَارِهِ وَاللَّهُ قَدْ عَلِمَ وَكَتَبَ أَعْمَالَهُ مُسْبَقًا.» عمل اور تقدیر کا تعلق: انسان اپنے اختیار سے عمل کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال پہلے ہی لکھ دیے ہیں۔ vالْإِخْلَاصُ فِي الْأَعْمَالِ: قَبُولُ الْعَمَلِ مُرْتَبِطٌ بِإِخْلَاصِ النِّيَّةِ لِلَّهِ تَعَالَى. اخلاصِ نیت: اعمال کی قبولیت کا دارومدار اللہ کے لیے خالص نیت پر ہے۔ vمُرَاقَبَةُ اللَّهِ: اسْتِشْعَارُ اطِّلَاعِ اللَّهِ عَلَى الْعَبْدِ يَدْفَعُهُ لِلِاسْتِقَامَةِ.» اللہ کی نگرانی کا احساس: یہ احساس کہ اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے، انسان کو نیکی پر قائم رکھتا ہے۔ vحقوق الجنين: الإسلام اهتم بالجنين وحفظ حياته وحقوقه منذ البداية. جنین کے حقوق: اسلام نے جنین کی حفاظت اور اس کے حقوق کا آغاز ہی سے خیال رکھا ہے۔ v قدرة الله في الخلق: تنوع مراحل الخلق دليل على عظمة قدرة الله تعالى. تخلیق میں اللہ کی قدرت: انسان کی مختلف مراحل میں تخلیق اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی دلیل ہے۔ vحسن الظن بالله: المؤمن يحسن الظن بالله مع الخوف من التقصير والذنوب. اللہ سے حسنِ ظن: مومن اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہے، مگر اپنی کوتاہیوں اور گناہوں سے بھی ڈرتا ہے۔ موضوعات دعويۃ v’’رحلة الإنسان من النطفة إلى الحياة‘‘ يتحدث الموضوع عن مراحل خلق الإنسان في بطن أمه، وعظمة الله تعالى في تكوينه ورعايته حتى يولد إلى الدنيا. ’’نطفہ سے زندگی تک انسان کا سفر ‘‘ اس موضوع میں انسان کی تخلیق کے مراحل اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت بیان کی جاتی ہے کہ کس طرح انسان ماں کے پیٹ میں پرورش پاتا ہے۔ v’’كيف نفهم القدر فهمًا صحيحًا؟‘‘ يبين معنى الإيمان بالقدر، وأن المسلم يؤمن بأن الله كتب كل شيء مع وجوب العمل والأخذ بالأسباب. ’’تقدیر کو صحیح طریقے سے کیسے سمجھیں؟ ‘‘ اس میں تقدیر پر ایمان کا صحیح مفہوم بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز لکھ دی ہے، لیکن انسان کو عمل کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ v’’الأعمال بالخواتيم‘‘ يوضح أن العبرة ليست ببداية الإنسان فقط، بل بما يختم له من طاعة أو معصية عند نهاية حياته. ’’اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے ‘‘ اس موضوع میں بتایا جاتا ہے کہ اصل کامیابی انسان کے آخری انجام پر موقوف ہے، اس لیے ہمیشہ نیک اعمال پر ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔ v’’حسن الخاتمة أسباب وعلامات‘‘ يتناول أسباب حسن الخاتمة مثل الإخلاص والطاعة، وبعض العلامات التي يُرجى بها الخير للعبد عند موته. ’’حسنِ خاتمہ کے اسباب اور نشانیاں ‘‘ اس میں حسنِ خاتمہ حاصل کرنے کے اسباب جیسے اخلاص، تقویٰ اور اطاعت، نیز اچھی موت کی بعض علامات بیان کی جاتی ہیں۔ v’’عظمة الله في خلق الإنسان‘‘ يبين قدرة الله تعالى وحكمته في خلق الإنسان من نطفة ضعيفة حتى يصبح إنسانًا كاملًا. ’’انسان کی تخلیق میں اللہ کی عظمت ‘‘ یہ موضوع اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کو واضح کرتا ہے کہ اس نے ایک کمزور نطفہ سے مکمل انسان پیدا فرمایا۔ v’’دور الملائكة في حياة الإنسان‘‘ يوضح وظائف الملائكة مثل كتابة الأعمال، وحفظ الإنسان، ونفخ الروح في الجنين بأمر الله. ’’انسان کی زندگی میں فرشتوں کا کردار ‘‘ اس میں فرشتوں کے مختلف کام بیان ہوتے ہیں جیسے اعمال لکھنا، انسان کی حفاظت کرنا اور اللہ کے حکم سے روح پھونکنا۔ v ’’هل الإنسان مخيّر أم مسيّر؟‘‘ يبين عقيدة أهل السنة أن الإنسان له إرادة واختيار، لكن كل ذلك داخل مشيئة الله وعلمه السابق. ’’کیا انسان مختار ہے یا مجبور؟ ‘‘ اس میں اہلِ سنت کا عقیدہ بیان کیا جاتا ہے کہ انسان کو اختیار حاصل ہے، لیکن سب کچھ اللہ کے علم اور مشیت کے تحت ہوتا ہے۔ v ’’الإيمان بالقدر وأثره في الطمأنينة النفسية‘‘ يوضح كيف يمنح الإيمان بالقدر راحةً للقلب، ويعين المسلم على الصبر والرضا عند المصائب. ’’تقدیر پر ایمان اور قلبی سکون ‘‘ یہ موضوع واضح کرتا ہے کہ تقدیر پر ایمان انسان کے دل کو سکون دیتا ہے اور مصیبتوں میں صبر و اطمینان پیدا کرتا ہے۔ فوائد حدیث: ۱۔ نبی ﷺ کا مقام و مرتبہ، اور صحابہ کے دلوں میں آپ کی عظمت، کیونکہ وہ آپ کی تعریف[الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ] "سچے اور سچ بتائے گئے" کے الفاظ سے کرتے تھے۔ ۲۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فقاہت، کیونکہ انہوں نے حدیث کے مناسب جملہ ذکر کیا: [الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ] کیونکہ اس حدیث میں بیان کردہ امور غیبی ہیں جو صرف وحی کے ذریعے معلوم ہو سکتے ہیں۔ ۳۔ انسان کی تخلیق کے ابتدائی مراحل کی عظمت اور اس کی قدرت، کہ وہ نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ بنتا ہے، اس میں بشارت اور تنبیہ دونوں پہلو موجود ہیں۔ ۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کہ وہ نطفہ کو محفوظ رکھتا ہے، پھر اسے علقہ اور مضغہ بناتا ہے۔ ۵۔ بچہ کی پیدائش کے مراحل: نطفہ، چالیس دن اورعلقہ(خون کا لوتھڑا)،چالیس دن اور مضغہ(گوشت کا ٹکڑا)،چالیس دن۔ کل ۱۲۰ دن مکمل ہونے کے بعد روح پھونکی جاتی ہے۔ ۶۔ یہ حدیث تکبر کرنے والوں کے لیے علاج ہے، کیونکہ انسان کی ابتدا نطفہ سے ہوئی، اگر اللہ چاہتا تو وہ علقہ اور مضغہ نہ بنتا، تو پھر انسان کس بات پر تکبر کرتا ہے؟ ۷۔ پیٹ میں بچہ کی تقدیر لکھنے کےلیے اللہ کی جانب سے ایک فرشتہ مقرر ہے۔ ۸۔ بندے کو اللہ کی بے شمار نعمتوں پر شکر کرنا چاہیے، کیونکہ اگر وہ ان مراحل پر غور کرے تو اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرے گا۔ ۹۔ تخلیق کے اس مرحلے میں ۱۲۰ دن گزرجانے کے بعد اسقاط جائز نہیں، کیونکہ اتنے دنوں میں اس کے جسم میں جان ڈال دی جاتی ہےاور کسی جان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے۔البتہ اس سے پہلے اسقاط کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے مگر زیادہ راجح یہی ہے کہ وہ بھی جائز نہیں۔ ہاں ! اگر اس کے اسقاط میں کوئی شرعی مصلحت ہے یا اسقاط نہ کرنے میں ماں پر ضرر ہے تو حرج نہیں۔ ۱۰۔ روح پھونکے جانے کے بعد جو بچہ پیٹ سے گرجائے اس کو غسل دیا جائے گا، اس کی تکفین و تدفین کی جائے گی اور اس پر صلاۃ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ ۱۱۔ انسان کو اپنے نفس میں غور و فکر کرنا چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور تمہارے اپنے نفسوں میں بھی (نشانیاں ہیں)، کیا تم دیکھتے نہیں؟" ۱۲۔ غیبی امور میں شریعت کے بیان پر ایمان لانا اور تسلیم کرنا، جیسے روح کا پھونکا جانا اور فرشتے کا لکھنا۔ ۱۳۔ اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت، کہ وہ ہر انسان کے رزق، عمر، عمل اور انجام کو جانتا ہے۔ ۱۴۔ جس رب نے ایک انسان کو مختلف مراحل سے گزارتے ہوئے دنیوی زندگی عطافرمائی ، مرنے کے بعد دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کے لیے بہت آسان ہے۔انسان کو اپنے انسان کے سامنے حاضری کا وقت کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ۱۵۔ رزق کے بارے میں اطمینان اور سکون، کیونکہ وہ پہلے ہی لکھ دیا گیا ہے، اس لیے انسان کو حرام طریقوں کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ ۱۶۔ موت کے وقت کے بارے میں شجاعت اور اطمینان، کیونکہ وہ مقرر ہے، وقت نہ آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ ۱۷۔ اولاد کے بارے میں فکر اور توجہ، کیونکہ ان کی تقدیر اور اعمال لکھے جاتے ہیں۔ ۱۸۔ فرشتوں کی اطاعت اور ان کا اللہ کے حکم کے مطابق کام کرنا۔ ۱۹۔ اعمال کے انجام پر اعتبار ہے، اس لیے انسان کو اپنے خاتمہ کی فکر کرنی چاہیے۔ ۲۰۔ تقدیر پر ایمان رکھنا، کہ سب کچھ اللہ کے علم اور فیصلے کے مطابق ہوتا ہے۔ ۲۱۔ بُرے خاتمہ سے ڈرنا اور اللہ سے اچھے انجام کی دعا کرنا، جیسا کہ سلف صالحین کا طریقہ تھا۔
شائع شدہ: اتوار, 1 نومبر، 2026 | 12:20 PM IST

