21 جمادی الاول، 1448 ہجری

جامعہ ملیہ اسلامیہ احتجاج: این ایس یو آئی کے فیضان خان اور ذیشان خان تہاڑ جیل سے رہا

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے پر گرفتار رہنماؤں کی رہائی۔

دو آدمی، دونوں نے گلے میں نارنجی رنگ کے پھولوں کے ہار پہنے ہوئے ہیں، اپنے دائیں ہاتھ ہوا میں اٹھائے ہوئے مسکرا رہے ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے پر جاری احتجاج اور گرفتاریوں کا احوال۔
اہم نکات

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے پر احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے این ایس یو آئی کے فیضان علی خان اور ذیشان احمد خان کو تہاڑ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ انہیں 28 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا اور 29 اکتوبر کو 3 دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔

  • فیضان علی خان اور ذیشان احمد خان کو تہاڑ جیل سے رہا کر دیا گیا۔
  • انہیں 28 اکتوبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیٹ نمبر 4 کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا۔
  • 29 اکتوبر کو انہیں 3 دن کی عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیجا گیا تھا۔
  • جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 2006 سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔
  • یونیورسٹی انتظامیہ نے 15 مئی 2027 تک طلبہ یونین کا آئین مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • انتخابات 16 جولائی 2027 سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے 6 ہفتوں کے اندر کرائے جائیں گے۔

نئی دہلی:31اکتوبر (ایس ایم نیوز) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کے احتجاج کے دوران نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یوآئی) کے جامعہ یونٹ کے صدرفیضان علی خان اورجامعہ کے سابق طالب علم ذیشان احمد خان کو تہاڑ جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ فیضان علی خان جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبہ کرنے والے طلبا کے ساتھ بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے تھے، جبکہ ذیشان خان بھی طلبا کی حمایت کررہے تھے۔ احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد انہیں اگلے دن عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے تین دنوں کے لئے تہاڑجیل بھیج دیا گیا تھا۔دہلی پولیس نے 27 اکتوبرکوجامعہ کیمپس کے باہربی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ کردی تھی۔ اس کے اگلے دن 28 اکتوبر2026 کو فیضان علی خان اورذیشان خان کوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیٹ نمبر-4 کے قریب سے حراست میں لیا تھا۔ اس کے بعد انہیں 29 اکتوبرکواسپیشل ایگزیکٹیومجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں تین دن کی عدالتی حراست میں تہاڑجیل بھیج دیا گیا تھا، جس کے بعد جامعہ کے طلبا کی ناراضگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا ءو طالبات اسٹوڈنٹس یونین کے لئے احتجاج کررہے تھے اورکچھ طلبا بھوک ہڑتال پربیٹھے تھے۔ جامعہ انتظامیہ سے مسلسل بات چیت کے بعد بھی کوئی راستہ نہیں نکل رہا تھا، جس کے بعد جامعہ انتظامیہ نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے لائبریری بند کرنے، کلاسیزاورامتحانات آن لائن کرنے کا نوٹس جاری کردیا تھا۔ ساتھ ہی ہاسٹل خالی کرانے کی بھی تیاری شروع ہوگئی تھی، تاکہ طلبا کے احتجاج کو کمزورکیا جاسکے، لیکن طلبا کے حوصلے نہیں ٹوٹے اوربڑی تعداد میں طلبا احتجاج کرنے لگے، جس کے بعد جامعہ انتظامیہ نے ان کے مطالبات تسلیم کرلئے۔ قابل ذکرہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سال 2006 سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کرائے گئے ہیں۔ احتجاج کے درمیان، یونیورسٹی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ یونین کا آئین 15 مئی 2027 تک مکمل ہو جائے گا، اور انتخابات 16 جولائی 2027 سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے 6 ہفتوں کے اندرکرائے جائیں گے۔ انتظامیہ نے احتجاج سے متعلق تادیبی کارروائی اورکیمپس پرتمام پابندی ہٹانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

شائع شدہ: اتوار, 1 نومبر، 2026 | 11:47 AM IST

یہ خبر شیئر کریں

واٹس ایپفیس بکایکسٹیلیگرام