بِسْمِ ٱللهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيْمِ
{حدیث نمبر ۔ ۳}
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: «بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ» [رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (8)، وَمُسْلِمٌ (16)] اردو ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔" تعارف راوی: حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما جلیل القدر صحابی، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فرزند اور کثیر الاحادیث راویوں میں سے ایک بلند پایہ شخصیت تھے۔ نام: عبداللہ بن عمر بن خطاب بن نفیل القرشی العدوی۔خلیفۂ ثانی عمربن الخطاب کے فرزند ہیں اور ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہاآپ کی بہن تھیں۔ اتباعِ سنت: آپ سنتِ نبوی ﷺ کے شدید ترین پیروکار تھے۔ آپ ہو بہو نبی کریم ﷺ کے معمولات، راستوں اور طریقوں کی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ روایتِ حدیث: آپ سے کل 2,630 احادیث مروی ہیں جن میں سے بخاری و مسلم میں متفق علیہ احادیث کی تعداد 170 ہے۔آپ کی وفات 73 ہجری میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ أقوال أهل العلم vقَالَ النَّوَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:’’هٰذَا الْحَدِيثُ أَصْلٌ عَظِيمٌ فِي مَعْرِفَةِ الدِّينِ، وَعَلَيْهِ مَدَارُ الْإِسْلَامِ.‘‘[شرح صحيح مسلم (1/149)] vامام امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’یہ حدیث دین کی معرفت میں ایک عظیم اصل ہے، اور اسلام کا دار و مدار اسی پر ہے۔‘‘ v قَالَ ابْنُ رَجَبٍ الْحَنْبَلِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:’’هٰذَا الْحَدِيثُ أَصْلٌ فِي بَيَانِ أَنَّ الْإِسْلَامَ مَبْنِيٌّ عَلَى هٰذِهِ الْأَرْكَانِ الْخَمْسَةِ، وَأَنَّهَا دَعَائِمُهُ الَّتِي لَا يَقُومُ إِلَّا بِهَا.‘‘[جامع العلوم والحكم (الحديث الثالث)] v امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’یہ حدیث اس بات کے بیان میں اصل ہے کہ اسلام ان پانچ ارکان پر قائم ہے، اور یہی اس کے وہ ستون ہیں جن کے بغیر اسلام قائم نہیں رہ سکتا۔‘‘ vقَالَ ابْنُ حَجَرٍ الْعَسْقَلَانِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:’’شُبِّهَ الْإِسْلَامُ بِالْبِنَاءِ، وَأَرْكَانُهُ بِهٰذِهِ الْخَمْسِ، لِأَنَّ الْبِنَاءَ لَا يَثْبُتُ بِدُونِ أَرْكَانِهِ.‘‘[فتح الباري (1/50)] v حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’اسلام کو ایک عمارت سے تشبیہ دی گئی ہے، اور اس کے ارکان کو ان پانچ چیزوں سے؛ کیونکہ عمارت اپنے ستونوں کے بغیر قائم نہیں رہتی۔‘‘ v قَالَ الْقُرْطُبِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:’’خَصَّ هٰذِهِ الْخَمْسَ بِالذِّكْرِ لِأَنَّهَا أَعْظَمُ شَعَائِرِ الْإِسْلَامِ، وَبِإِقَامَتِهَا يَظْهَرُ الِانْقِيَادُ.‘‘ [المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (1/144)] v امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ان پانچ چیزوں کو خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ اسلام کے سب سے عظیم شعائر ہیں، اور انہی کے قیام سے فرمانبرداری ظاہر ہوتی ہے۔‘‘ v قَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ رَحِمَهُ اللهُ:’’هٰذِهِ الْخِصَالُ الْخَمْسُ هِيَ دَعَائِمُ الْإِسْلَامِ، وَأُصُولُهُ الَّتِي بُنِيَ عَلَيْهَا.‘‘ [إكمال المعلم بفوائد مسلم (1/25)] v امام قاضی عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا:’’یہ پانچ خصلتیں اسلام کے ستون اور اس کی وہ بنیادیں ہیں جن پر اسلام قائم کیا گیا ہے۔‘‘ v قَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ رَحِمَهُ اللهُ:’’فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ هٰذِهِ الْأَرْكَانَ هِيَ أَسَاسُ الدِّينِ، وَأَنَّ مَا عَدَاهَا تَابِعٌ لَهَا.‘‘[إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام (1/52)] v امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے فرمایا:’’اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ارکان دین کی بنیاد ہیں، اور ان کے علاوہ باقی اعمال انہی کے تابع ہیں۔‘‘ v قَالَ ابْنُ تَيْمِيَّةَ رَحِمَهُ اللهُ:’’هٰذِهِ الْأَرْكَانُ الْخَمْسَةُ هِيَ الظَّاهِرَةُ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا إِسْلَامُ الْعَبْدِ.‘ [مجموع الفتاوى (7/284)] v شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:’’یہ پانچ ارکان وہ ظاہری اعمال ہیں جن کے ذریعے بندے کے اسلام کو پہچانا جاتا ہے۔‘‘ v قَالَ الشَّاطِبِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:’’جُعِلَتْ هٰذِهِ الْأَرْكَانُ أُصُولًا لِلدِّينِ؛ لِأَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَيْهَا سَائِرُ الْأَعْمَالِ.‘‘ [الموافقات (2/5)] v امام شاطبی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ان ارکان کو دین کی بنیادیں بنایا گیا ہے؛ کیونکہ تمام اعمال انہی کی طرف لوٹتے ہیں۔‘ v قَالَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:’’إِنَّمَا خَصَّ هٰذِهِ الْخَمْسَ؛ لِأَنَّهَا أَظْهَرُ أَعْمَالِ الْإِسْلَامِ وَأَعْظَمُهَا [معالم السنن (1/72)] v امام خطابی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ان پانچ چیزوں کو خاص اسی لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہ اسلام کے اعمال میں سب سے زیادہ ظاہر اور سب سے عظیم ہیں۔‘‘ فوائد حدیث: ۱۔ ان پانچ ارکان کی اہمیت، جن پر دینِ اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ۲۔ ان ارکان میں سے کسی ایک کو چھوڑ دینے کا خطرہ۔ ۳۔ اسلام کی خصوصیات شرعی اہمیت کے اعتبار سے مختلف ہیں، بعض ارکان بنیاد کے طور پر ہیں جو پانچ ہیں، اور بعض مستحبات ہیں۔ ۴۔دونوں شہادتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، ان میں سے ایک دوسری کے بغیر کافی نہیں، اس طرح وہ دونوں مل کر ایک ہی رکن بن جاتے ہیں۔ ۵۔ اسلام ایک کامل دین ہے، اس میں نہ اضافہ قبول ہے نہ کمی، جیسا کہ "بُنِيَ الإسلام" کے لفظ سے واضح ہے کہ اس کی عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ ۶۔ صحابہ کرام کی امانت اور دقتِ نظر حدیث کو نقل کرنے میں، چنانچہ بعض روایات میں ترتیب مختلف آئی ہے، جیسے ایک راوی نے "صوم رمضان" کو "حج" سے پہلے ذکر کیا، لیکن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "حج اور رمضان کے روزے اسی طرح سنے ہیں"، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ الفاظ کی ترتیب کا بھی اہتمام کرتے تھے، اگرچہ معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۷۔ نبی کریم ﷺ کی عظمت اور شرف کہ آپ نے عبودیت اور رسالت دونوں کو جمع فرمایا: "عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"۔ ۷۔اس حدیث میں دین کی بنیاد اور اس کے ستونوں کی جامع وضاحت ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمالِ اسلام منظم اور مرتب ہیں۔ ۸۔"بُنِيَ" کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسلام ایک مضبوط عمارت کی مانند ہے، جس کے ستون مضبوط ہونے چاہئیں۔ ۹۔ توحید (شہادتین) تمام اعمال کی اصل اور بنیاد ہے، اس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں۔ ۱۰۔نماز کو شہادتین کے بعد سب سے اہم رکن قرار دیا گیا، جو اس کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ ۱۱۔ زکوٰۃ میں مال کی طہارت اور معاشرتی توازن کا پہلو نمایاں ہے۔ ۱۲۔روزہ نفس کی تربیت، صبر اور تقویٰ پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ ۱۳۔حج امتِ مسلمہ کی وحدت اور اجتماعیت کی عظیم علامت ہے۔ ۱۴۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عقیدہ نہیں بلکہ عمل کا بھی نام ہے۔ ۱۵۔ارکانِ اسلام میں ترتیب حکمت پر مبنی ہے، پہلے عقیدہ پھر عبادات۔ ۱۶۔لا الہ الا اللہ کی شہادت کا مطلب یہ ہےکہ ہر طرح کی عبادت کی مستحق ذات صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔وہی سچا اور برحق معبودہے اس کے سوا جن کی بھی عبادت کی جاتی ہے وہ سب طاغوت اور جھوٹے معبود ہیں اور ان کی پرستش کرنے والے باطل پرست ہیں۔ ۱۷۔محمد رسول اللہ کے ماننے کا مطلب یہ ہےکہ آپ ﷺ کے حکموں کی تعمیل کی جائے، آپﷺ کی خبروں کی تصدیق کی جائے، آپ ﷺ کے منع کردہ امور سے کلی اجتناب کیا جائے۔ ۱۷۔یہ حدیث تعلیمِ دین میں جامعیت اور اختصار کا بہترین نمونہ ہے۔ ۱۸۔اس میں نبی ﷺ کا اسلوبِ تعلیم واضح ہے کہ مختصر مگر جامع کلمات میں پوری شریعت کے اصول بیان فرما دیے۔ ۱۹۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے بنیادی امور سیکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ ۲۰۔اسلام کے مذکورہ ارکان میں سے کسی رکن کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے اسے ترک کرنے والاکافر ہوجائے گا، البتہ سستی و کاہلی سے چھوڑنے والاسخت کبیرہ گناہ کا مرتکب اور فاسق ہوگا، لیکن ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوگا سوائے صلاۃ(نماز) کے کہ محققین اہل علم کی ایک معتبر تعداد نے سستی و کاہلی سے بھی تارک صلاۃ کو خارج ملت قرار دیا ہے۔
شائع شدہ: اتوار, 1 نومبر، 2026 | 12:13 PM IST

