24 جمادی الاول، 1448 ہجری

حاسدانہ کردار اخلاقی گراوٹ کی بد ترین مثال و ایمان کے منافی عمل: سرفراز احمد فیضی

جامع مسجد ابو ہریرہ، چاند پار میں بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان اجلاس عام منعقد ہوا۔

حاسدانہ کردار اخلاقی گراوٹ کی بد ترین مثال و ایمان کے منافی عمل: سرفراز احمد فیضی
حاسدانہ کردار اخلاقی گراوٹ کی بد ترین مثال و ایمان کے منافی عمل: سرفراز احمد فیضی
اہم نکات

جامع مسجد ابو ہریرہ، چاند پار میں بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان اجلاس عام منعقد ہوا۔ پروگرام سے قبل نماز مغرب ادا کی گئی، جس کی امامت شیخ عمیر مقتدیٰ مئوی نے فرمائی۔

  • جامع مسجد ابو ہریرہ، چاند پار میں بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان اجلاس عام منعقد ہوا۔
  • پروگرام سے قبل نماز مغرب ادا کی گئی، جس کی امامت شیخ عمیر مقتدیٰ مئوی نے فرمائی۔
  • نمازِ مغرب کے بعد باقاعدہ اجلاس کا آغاز ہوا۔

جامع مسجد ابو ہریرہ، چاند پار میں بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان اجلاس عام منعقد ہوا۔ پروگرام سے قبل نماز مغرب ادا کی گئی، جس کی امامت شیخ عمیر مقتدیٰ مئوی نے فرمائی۔ نمازِ مغرب کے بعد باقاعدہ اجلاس کا آغاز ہوا۔ اس علمی و دعوتی پروگرام کی سرپرستی شیخ عادل فیضی چاندپاری نے فرمائی، جب کہ صدارت کے فرائض استاذ الاساتذہ شیخ حافظ محمد شمیم املوی نے انجام دیے۔ نظامت کی ذمہ داری شیخ عبداللہ احسان اللہ فیضی نے سنبھالی۔

پروگرام کا آغاز حافظ ابوالعاص چاندپاری کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ اس کے بعد شیخ انیس الرحمن رحمانی، مدرس کلیۃ عائشہ صدیقہ اللبنات نے اپنی دل نشیں آواز میں نعت پیش کی اور سامعین کو محظوظ کیا۔ ناظمِ اجلاس شیخ عبداللہ احسان اللہ فیضی سکریٹری جمعیت السلام ٹرسٹ اعظم گڈھ نے کتاب و سنت کی دعوت عام کرنے پر روشنی ڈالی۔ آپ نے خصوصیت کے ساتھ توحید اور سنت کی دعوت کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور واضح کیا کہ امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے متاثر ہوئے بغیر اللہ کے دین کی دعوت پیش کرتی رہے گی۔ آپ نے اہلِ حدیث علماء کی علمی و دعوتی جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ علمائے اہلِ حدیث نے ہمیشہ کتاب و سنت کی روشنی میں باطل عقائد اور غلط نظریات کا مقابلہ کیا ہے اور معاشرے میں پائے جانے والے ہر طرح کے فتنے کی سرکوبی کی ہے آج بھی جماعت اہل حدیث ہی عقیدہ توحید اور اتباع سنت کی محافظت میں پیش پیش ہے اور ان شاءاللہ تا قیامت یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا

اجلاس کے صدر شیخ حافظ محمد شمیم املوی استاذ مدرسہ اسلامیہ انوار العلوم املو نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام علماءکرام مہمانانِ گرامی اور شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کیا۔ بالخصوص شیخ عادل فیضی چاندپاری کی خدمات اور تعاون کو سراہا۔ آپ نے خصوصی خطاب کے لیے ممبئی سے تشریف لانے والے شیخ سرفراز فیضی کا بھی شکریہ ادا کیا، جو طویل سفر طے کرکے کتاب و سنت کی دعوت پہنچانے کے لیے تشریف لائے تھے۔ اپنے خطاب میں آپ نے سورۂ احزاب کی آیات 70-71 کی روشنی میں سچ بات کہنے اور تقویٰ کی اہمیت بیان کی اور واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ سچائی اختیار کرنے والوں کے اعمال درست فرماتا اور ان کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ اسی کے ساتھ آپ نے شرک کی سنگینی کی طرف توجہ دلائی اور اس سے توبہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا آپ نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کہا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرے اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ تحقیق و تصدیق کے بعد ہی کسی بات کو نقل کریں تبھی معاشرتی زندگی مامون ہوگی

اجلاس کا خصوصی خطاب ممبئی سے تشریف لائے ہوئے شیخ سرفراز فیضی نے فرمایا۔ آپ نے اپنے خطاب میں ایمان کے اثرات اور اس کے عملی تقاضوں پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایمان محض عقائد و نظریات کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ اس کا اثر انسان کی پوری زندگی، عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرتی رویوں میں ظاہر ہونا چاہیے۔ آپ نے ابتدائی دور کے مسلمانوں کی زندگیوں میں ایمان کے نتیجے میں آنے والی تبدیلیوں کا تذکرہ کیا اور حسنِ اخلاق کو ایمان کی تکمیل کی اہم علامت قرار دیا۔ اس سلسلے میں آپ نے نبی کریم ﷺ کی حدیث پیش کی:أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ایمان کے اعتبار سے کامل ترین مؤمن وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔

خصوصی خطاب کا ایک اہم موضوع حسد بھی تھا۔ شیخ سرفراز فیضی نے حسد کی حقیقت، اس کی مختلف صورتوں، اس کے نقصانات اور اس سے بچنے کے طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آپ نے بتایا کہ حسد انسان کے دل کو متاثر کرتا ہے، نیکیوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور معاشرے میں باہمی نفرت و عداوت کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو اپنے دل کی اصلاح کرتے ہوئے دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے آپ نے دوران خطاب فرمایا کہ کہ حاسد کبھی شاکر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی شاکر کبھی حاسد ہوسکتا ہے حسد کا علاج بتاتے ہوئے آپ کہا کہ ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے رزاق اور حکیم ہونے پر مکمل یقین رکھیں اور صبح و شام کے اذکار کا اہتمام کریں اپنی نعمتوں کا بیجا اظہار نہ کریں

اس اجلاس میں متعدد علماء، اہلِ علم اور معزز احباب نے شرکت فرمائی، جن میں شیخ انعام الرحمن رحمانی، شیخ انیس الرحمن رحمانی، شیخ غفران رحمانی، شیخ عمیر مقتدیٰ مئوی، شیخ حارث عالی،

حافظ محمد عاقب بندی گھاٹ حافظ عبداللہ املوی، ماسٹر عبدالرَب املوی، انصار احمد نیتا جی اسرار احمد لوہیا اشتیاق احمد امتیاز احمد عظمت گڈھ شہاب الدین، جمشید احمد، محمد ہاشم بھٹو پردھان چاند پار ماسٹر عبد العزیز شہزاد عبد الحسیب محمد احمد

کے علاوہ کثیر تعداد میں مرد و خواتین شامل تھے۔

اجلاس کے اختتام پر ناظمِ اجلاس شیخ عبداللہ احسان اللہ فیضی نے تمام علماء، مہمانانِ گرامی، شرکائے اجلاس اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور دعائیہ کلمات کے ساتھ پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔ اس کے بعد نمازِ عشاء ادا کی گئی، اس کے بعد تمام شرکائے اجلاس کے لیے ہاشم پردھان نے اپنے دولت کدے پر ضیافت کا عمدہ انتظام کیا اور شکریہ کے ساتھ مہمانوں کو الوداع کہا

شائع شدہ: بدھ, 4 نومبر، 2026 | 8:14 PM IST

یہ خبر شیئر کریں

واٹس ایپفیس بکایکسٹیلیگرام