بائیسواں کل ہند مسابقۂ حفظ و تجوید و تفسیرِ قرآن کریم شاندار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
اختتامی اجلاس میں ملک بھر کی علمی و دینی شخصیات کی شرکت، مسابقے کے انعقاد کو تاریخی و مثالی قرار دیا
4؍نومبر2026ء’’قرآنِ کریم ہی عباد و بلاد کے لیے امن و آشتی کا ابدی منشور ہے۔ اگر اس کی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں اپنایا جائے اور اس کے معانی و مطالب کو عملی طور پر زندگی کا حصہ بنایا جائے تو یقیناً یہ دنیا میں امن و سکون، اخوت و بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی رواداری کے فروغ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ ہر طرف امن و امان کا بول بالا ہوگا، فتنہ و فساد کا قلع قمع ہوگا اور معاشرے کو انتشار و افتراق سے محفوظ رکھنے کی راہیں ہموار ہوں گی اور سعادت دارین حاصل ہوگی۔‘‘ ان خیالات کا اظہار امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے گزشتہ2؍نومبر 2026ء کی شام اہل حدیث کمپلیکس میں منعقد مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے زیر اہتمام دو روزہ عظیم الشان بائیسواں کل ہند مسابقہ حفظ و تجوید و تفسیر قرآن کریم کے اختتامی اجلاس میں کیا۔
آپ نے صدارتی خطاب میں اجلاس میں موجود حاضرین ، اساتذہ و طلبہ اور ان کے والدین اور مسابقہ میں بھیجنے والے اداروں کومبارک باد پیش کی اور کہا کہ آج انسانیت کو مختلف النوع چیلنجز کا سامنا ہے، وہ سسک رہی ہے اور گوناگوں مسائل اور آزمائشوں سے دوچار ہے۔ ایسے پرفتن اور اضطراب انگیز ماحول میں ہمیں قرآنِ کریم کی طرف رجوع کرنا ہوگا، اسے سینے سے لگانا ہوگا اور حرزِ جاں بنانا ہوگا۔
امیرِ محترم نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور فہمِ سلف و تعامل کی روشنی میں قرآن وسنت کی تعلیمات کو سمجھنا اور عمل میں لانا ہوگا، تاکہ ہر طرح کے شکوک و شبہات اور فکری انتشار سے محفوظ رہتے ہوئے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرسکیں اور خدمات انسانیت کا حق ادا کرسکیں۔
اس موقع پر تقریبا ڈیڑھ سو سے زائد مدارس و جامعات، کلیات و معاہد اور اسکولوں سے تشریف لائے ہوئے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ آپ مدارس کی قدر کریں اور انہیں اپنے لیے عظیم نعمت سمجھیں۔ یہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے اور حقوق انسانیت کے ضامن ہیں، جہاں سے بلند ہونے والی ’’قال اللہ و قال الرسول‘‘ کی دل نواز صدائیں نہ صرف ہمارے کانوں کو حلاوت بخشتی ہیں، بلکہ دینِ اسلام کی سربلندی اورخدمت خلق کا مؤثر ذریعہ بھی ہیں۔
امیرِ محترم نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ جب ہم حاملینِ قرآن ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآنِ کریم کے آداب و اخلاق سے آراستہ ہوں اور ہم اپنے اندر قوتِ برداشت و تحمل پیدا کریں۔ ہمیں دوسروں کی تغلیط و تبدیع سے حتی الامکان اجتناب کرنا چاہیے اور قرآنِ کریم کے فہم و تدبر میں مقصدِ نزولِ قرآن اور عہدِ نزول کے احوال و کوائف کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ نیز قرآنِ کریم کی تفسیر و تشریح میں احادیثِ نبویہ کو ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ سنتِ نبویہ قرآنِ کریم کے معانی و مطالب کو سمجھنے کا بنیادی ماخذاور اصل اصول ہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سلفی نے اس اختتامی اجلاس میں خیر مقدمی خطاب کرتے ہوئے اس بابرکت اور نورانی اجتماع کو باعثِ سعادت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم سب قرآن کریم کی رفعت و عظمت کے ترانے سننے اور اس کے نور سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے مسابقے کے کامیاب انعقاد پر اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کی اور بالخصوص امیر جمعیت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے پروگرام کی کامیابی کا بڑا سہرا انہی کے سر ہے، جنہوں نے اسے نہایت حسن و خوبی سے آراستہ کیا۔ جماعت و جمعیت کی ترقی، استحکام اور سربلندی کے لیے ان کی شبانہ روز محنتیں اور گراں قدر مساعی لائقِ تحسین ہیں۔
مولانا خورشید عالم مدنی، نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی ایک نمایاں صفت ’’مجید‘‘ ہے، جس کے معنی ہیں عظمت و شرف والی کتاب۔انہوں نے اس عظیم روحانی و قرآنی مجلس کے انعقاد پر امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور ان کے رفقائے کار کو دلی مبارک باد پیش کی۔
ڈاکٹر سید فاروق، صدر ہمالیہ ڈرگس نے مسابقۂ قرآن کریم کے کامیاب انعقاد پر مسرت و اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جمعیت کے ذمہ داران کو اس بابرکت قرآنی پروگرام کے حسنِ انعقاد پر منظوم انداز میں مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے اس عظیم دینی کاوش کو سراہا اور مسابقے میں شریک تمام طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے لیے ستائشی کلمات پیش کیے۔
مولانا محمد علی مدنی نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند و امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار نے کہا کہ اللہ جل شانہٗ نے اس کتابِ مقدس کو اپنے آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمایا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے ذمے لی۔انہوں نے مسابقۂ قرآن کریم کے کامیاب انعقاد کو نہایت مستحسن، قابلِ قدر اور لائقِ ستائش اقدام قرار دیتے ہوئے اس کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی۔
مولانا شفیق عالم جامعی، امیر شہری جمعیت اہل حدیث حیدرآباد و سکندر آباد نے کہا کہ موجودہ حالات میں مدارس و مساجد کو منظم انداز میں نشانہ بنانے اور انہیں گزند پہنچانے کی کوششیں تشویش ناک ہیں۔ ایسے نامساعد حالات میں مسابقۂ قرآن کریم کے انعقاد کا فیصلہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی غیر معمولی جرأت، عزم و حوصلے اور دینی بصیرت ، اعتدال و رواداری کا آئینہ دار ہے۔
ناظم اجلاس مولانا شہاب الدین مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی نے اپنے خطاب میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی طرف سے تمام شرکاء کا استقبال کیا اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کی خدمات کا ذکر کیا اور بتایا کہ یہ بائیس واں مسابقہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کی منور متنوع خدمات کی ایک اہم کڑی ہے۔جس کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران خصوصا امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند شیخ اصغر علی امام مہدی سلفی ہم سب کے شکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں ۔
مولانا محمد خورشید عالم محمدی، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث ہریانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے قائد مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اس وقت قرآن کریم کا کل ہند بائیسواں مسابقۂ حفظ و تجوید و تفسیر منعقد کرکے اپنی دور اندیشی، قرآن کریم سے گہری محبت، قلبی وابستگی اور غیر معمولی شغف کا بین ثبوت پیش کیا ہے۔ بلاشبہ یہ مسابقہ تاریخی کامیابیوں سے ہم کنار ہوا ہے ۔
پروفیسر اخترالواسع پروفیسر ایمرٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اس مسابقے میں انہیں گزشتہ کئی برسوں سے شرکت کا موقع مل رہا ہے اور یہ ان کے لیے باعثِ شرف ہے کہ وہ قرآن کریم کے حوالے سے جمعیت کے حسنِ سلوک، اس کے تئیں ذمہ داران کی عقیدت و محبت اور ان کی قرآنی وابستگی کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے اس امر پر خصوصی مسرت کا اظہار کیا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے اس مسابقے کو کسی مخصوص مسلک کے دائرے میں محدود رکھنے کے بجائے تمام مسالک کے طلبہ کے لیے یکساں طور پر کھلا رکھا ہے، بلکہ بطور حکم دیگر مکاتبِ فکر کے نامور قراء کو بھی مدعو کیا جاتا ہے یہ وسیع القلبی، رواداری اور علمی و دینی کشادہ نظری کی ایک قابلِ قدر مثال ہے۔
حافظ شکیل احمد میرٹھی، سابق امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ قرآن کریم کا محض حفظ کرلینا کافی نہیں، بلکہ طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے معانی و مفاہیم کا فہم حاصل کریں اور اس کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اتاریں ۔ انہوں نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد پر امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور جمعیت کے تمام ذمہ داران و اراکین کا شکریہ ادا کیا اور بائیسویں کل ہند مسابقۂ حفظ و تجوید و تفسیرِ قرآن کریم کے کامیاب انعقاد پر مرکزی جمعیت کو مبارک باد پیش کی۔
مولانا عبدالسلام سلفی، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی نمایاں اور قابلِ قدر خدمات میں اس کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا سالانہ مسابقۂ قرآن کریم بھی ایک اہم اور لائقِ تحسین کاوش ہے۔ اس مسابقے کی اہمیت اس اعتبار سے دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ کل ہند سطح کا علمی و قرآنی اجتماع ہے، جس میں ملک کے تقریباً تمام اہم مدارس کے طلبہ شریک ہوتے ہیں۔
مولانا محمد اسماعیل سرواری، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث راجستھان نے کہا کہ اس نورانی و روحانی مجلس کے انعقاد پر وہ امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو اپنی جانب سے اور جمعیت اہل حدیث راجستھان کی طرف سے تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
مولانا طہٰ سعید عمری مدنی، نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث اڈیشہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند گزشتہ بائیس برسوں سے اس قرآنی مسابقے کا مسلسل انعقاد کرتی آ رہی ہے۔ اس عظیم دینی و قرآنی خدمت پر انہوں نے صوبائی جمعیت اہل حدیث اڈیشہ کی جانب سے امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور ان کے تمام رفقائے کار کو دلی مبارک باد پیش کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
مولانا عبدالقدوس عمری، مدھیہ پردیش نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بامقصد مسابقہ ہے، جس میں شرکت کرنے والا ہر طالب علم کامیاب اور مبارک باد کا مستحق ہے۔ انہوں نے اس کامیاب قرآنی و دینی کاوش پر قائد جماعت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو مبارک باد پیش کی۔
مولانا عبدالعلیم عمری، ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث تمل ناڈو و پانڈیچری نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو بے شمار خصائص و امتیازات سے نوازا ہے اور اس کی خدمت و اشاعت ایک عظیم سعادت ہے۔ انہوں نے اس کامیاب مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے تمام ذمہ داران کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان مخلصانہ مساعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں بہترین اجر و ثواب سے نوازے۔
ڈاکٹر عبداللطیف کندی، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث جموں و کشمیر نے کہا کہ بائیسواں کل ہند مسابقۂ حفظ و تجوید و تفسیرِ قرآن کریم امت کو قرآن کی تعلیمات سے ازسرِنو وابستہ کرنے اور امن وامان کے قیام کے سمت ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے مسابقے کی ایک نمایاں خصوصیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے مختلف مدارس، جامعات، معاہد اور اسکولوں کے طلبہ کو ایک ہی چھت تلے جمع کرکے اتحاد و یکجہتی اور قرآنی اخوت کی ایک خوب صورت مثال قائم کی ہے، جو لائقِ ستائش ہے۔
پروفیسر مظہر آصف ،وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اس اختتامی اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران، بالخصوص امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مسابقۂ قرآن کریم کے کامیاب انعقاد پر جمعیت کی پوری قیادت اور منتظمین کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس قرآنی و علمی کاوش کو سراہا ،اس کی اہمیت و معنویت پر روشنی ڈالی اور تدبر و عمل بر قرآن کی دعوت دی۔
مولانا شمس الحق سلفی، نائب ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث جھارکھنڈ نے اس موقع پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے قائد جماعت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور ان کی پوری ٹیم کو بائیسویں کل ہند مسابقۂ حفظ و تجوید و تفسیرِ قرآن کریم کے کامیاب اور تاریخی انعقاد پر دلی مبارک باد پیش کی اور اس عظیم قرآنی و دینی کاوش کو جماعت و جمعیت کی قابلِ قدر خدمت قرار دیا۔
قاری علاء الدین قاسمی، استاذ دارالعلوم دیوبند وقف نے مسابقہ کے کل چھ زمروں کے بیس حکم صاحبان کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا دلی شکریہ ادا کیااور کہا کہ یہ مسابقہ مرکزی جمعیت کی دینی، دعوتی، رفاہی اور دیگر ہمہ جہت خدمات کا ایک اہم اور قابلِ قدر حصہ ہے۔ انہوں نے مسابقے کی کامیابی اور حسنِ انتظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے اس مسابقے میں بحیثیتِ حکم شرکت کرتے آ رہے ہیں اور ہر سال اسے انتظامی حسن، شرکاء کی تعداد اور دیگر پہلوؤں سے گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید بہتر پاتے ہیں۔ انہوں نے بالخصوص اس بات کی نشان دہی کی کہ وہ ملک و بیرونِ ملک منعقد ہونے والے قرآنی مسابقوں میں دارالعلوم دیوبند وقف کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن شرکاء کی تعداد کے اعتبار سے یہ مسابقہ اپنی مثال آپ ہے۔ مزید برآں انہوں نے اس امر کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مسلکی رواداری اور وسیع القلبی کا بین ثبوت قرار دیا کہ اس میں کسی امتیاز کے بغیر ہر مسلک کے طلبہ کو شرکت کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
مولانا حفظ الرحمن مدنی، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آسام نے مسابقے کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کے مسلسل انعقاد پر امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو لائقِ صد مبارک باد پیش کی اور ان کی اس قرآنی و دعوتی کاوش کو سراہا۔
مولانا مطیع الرحمن شیث محمد مدنی، ڈائریکٹر جامعۃ الامام الالبانی، مغربی بنگال نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس نوعیت کے قرآنی مسابقات طلبہ کی حوصلہ افزائی، ان کے اندر شوقِ قرآن کو فروغ دینے اور علمی صلاحیتوں کو نکھارنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے اس کامیاب اور بامقصد مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کے تمام ذمہ داران کو دلی مبارک باد پیش کی۔
مولانا عبدالاحد مدنی، استاذ جامعہ ریاض العلوم دہلی اور محاضر المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ دہلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن کریم سے وابستگی دنیا کی تمام نسبتوں میں سب سے زیادہ معزز و محترم نسبت ہے۔ انہوں نے اس کامیاب اور بابرکت مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے تمام ذمہ داران کو دلی مبارک باد پیش کی۔
ڈاکٹر جنید حارث، صدر شعبۂ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند گزشتہ بائیس برسوں سے مسلسل اس مسابقے کا انعقاد کرتی آ رہی ہے، جو یقیناً ایک قابلِ تحسین اور لائقِ صد مبارک باد دینی و علمی خدمت ہے۔
قاری شعیب مدنی صاحب، جامعۃ الفلاح حیدرآباد نے بحیثیتِ حکم مدعو کیے جانے پر اپنی فرحت و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند گزشتہ بائیس برسوں سے مسلسل اس مسابقے کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے ماضی کے حالات کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آج سے پچیس برس قبل قرآن کریم کی بے حرمتی اور قرآن سوزی جیسے مذموم واقعات پیش آ رہے تھے۔ ایسے نازک حالات میں امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے نہایت حکمت و دانائی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قرآنی مسابقے کا سلسلہ شروع کیا، اور قرآن کے تراجم شائع کیے، جس کے مثبت اثرات پورے ہندوستان میں مرتب ہوئے۔
حافظ محمد عبدالقیوم ، نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کہا کہ اس مسابقے کے منتظمین، اس میں شریک تمام متسابقین اور ان کے ادارے و والدین یکساں طور پر لائقِ مبارک باد ہیں۔ انہوں نے بالخصوص ان مدارس و اداروں اور والدین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی دعوت پر ملک کے گوشے گوشے سے اپنے طلبہ کو اس قرآنی مسابقے میں شرکت کے لیے بھیجا اور اس عظیم دینی و قرآنی کاوش کو کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ادا کیا۔
مولانا عظیم اللہ قاسمی، نمائندہ جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ اس نورانی و بابرکت مجلس کے انعقاد پر وہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی جانب سے خادمِ قرآن امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
مولانا انعام الحق مدنی، نائب ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ مسابقہ مسلسل بائیس برسوں سے منعقد ہوتا آ رہا ہے اور اس کے مثبت و دوررس اثرات ملک کے گوشے گوشے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس عظیم قرآنی و دعوتی خدمت پر انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، بالخصوص امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو لائقِ صد مبارک باد قرار دیا۔
مولانا راشد اثری، نائب ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی اتر پردیش نے کہا کہ قرآن کریم تمام علوم و معارف کا معدن اور بے پایاں خزینہ ہے۔ انہوں نے اس شاندار قرآنی مسابقے کے انعقاد پر امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور ان کی پوری ٹیم کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کی اس قرآنی و دعوتی کاوش کو سراہا۔
مفتی افروز عالم قاسمی، صدر دارالقضاۃ انڈیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے گوشے گوشے سے حفاظ و متسابقین کی شرکت پر مشتمل یہ مسابقہ ایک مثالی اور لائقِ تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے اس بامقصد قرآنی پروگرام کے کامیاب انعقاد پر امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو دلی مبارک باد پیش کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔
مولانا تنویر ذکی مدنی نے کہا کہ حفظِ قرآن، حفاظتِ قرآن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس خوب صورت اور کامیاب مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، بالخصوص اس کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو دلی مبارک باد پیش کی اور ان کی اس قرآنی خدمت کو لائقِ تحسین قرار دیا۔
مولانا جرجیس سراجی، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی اتر پردیش نے کہا کہ مسابقۂ قرآن کریم کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے انعقاد کے ذریعے نئی نسل کو کتاب اللہ سے جوڑنے اور اس کے حفظ و فہم کا ذوق بیدار کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے، وہ نہایت قابلِ قدر ہے۔ اس عظیم قرآنی کاوش پر انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو دلی مبارک باد پیش کی۔
مولانا عطاء الرحمن قاسمی، صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی نے اپنے خطاب میں بائیسویں کل ہند مسابقۂ حفظ و تجوید و تفسیرِ قرآن کریم کے کامیاب انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، بالخصوص اس کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو دلی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے امیر جمعیت کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ جس انداز سے دینی و قرآنی خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ نہایت اہم اور قابلِ قدر ہے۔
جناب سراج الدین قریشی، سابق صدر انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نے کہا کہ قرآن کریم کو اپنے سینوں میں محفوظ کرنے کی عظیم سعادت حاصل کرنے والے طلبہ یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اس کامیاب اور بامقصد مسابقے کے انعقاد پر امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور ان کی پوری ٹیم کو دلی مبارک باد پیش کی اور اس قرآنی کاوش کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
مولانا محمد عامر مدنی، استاذ جامعہ فیض عام، مئو نے اپنے خطاب میں بائیسویں کل ہند مسابقۂ حفظ و تجوید و تفسیرِ قرآن کریم کے نہایت کامیاب انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے تمام ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا اور اس عظیم قرآنی و دینی کاوش کو قابلِ قدر قرار دیا۔
اس تاثراتی مجلس میں دیگر جن ممتاز شخصیات نے اپنے خیالات و تاثرات کا اظہار کیا، ان میں مولانا منظر احسن سلفی، ڈائریکٹر ارقم اسکول، ممبئی اور قاری صلاح الدین مظاہری، صدر شعبۂ قرائت، مدرسہ مظاہر علوم، سہارن پور ، مولانا عبدالغنی مدنی استاذ المعہد العالی للتخصص فی الدرسات الاسلامیہ، نئی دہلی، مولانا عبدالمبین ندوی، سابق استاذ جامعہ ریاض العلوم دہلی وغیرہم خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق، بائیسویں کل ہند مسابقۂ حفظ و تجوید و تفسیرِ قرآن کریم میں ملک بھر سے تقریبا150 مدارس، مکاتب، معاہد، جامعات، کلیات اور عصری اسکولوں کے تقریباً 670 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ یہ مسابقہ چھ زمروں پر مشتمل تھا: پہلا زمرہ مکمل حفظِ قرآن کریم، دوسرا بیس پاروں، تیسرا دس پاروں، چوتھا پانچ پاروں، پانچواں ناظرۂ قرآن کریم اور چھٹا زمرہ تفسیرِ قرآن کریم کے لیے مختص تھا۔ ان متنوع زمروں کے ذریعے طلبہ کو حفظ، قرائت اور فہمِ قرآن کے میدان میں اپنی علمی و فنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا۔مسابقے کے مختلف زمروں میں منصفانہ اور معیاری فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے ملک کے مشہور و معروف تعلیمی اداروں سے وابستہ ممتاز قراء، حفاظ اور علمائے کرام کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ہر زمرہ کے اول دوم و سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو شہادت تفوق، گراں قدر نقدی و دیگر انعامات کے ساتھ تمام شرکاء کو توصیفی اسناد اور تشجیعی انعامات سے نوازا گیا۔ اس اہم علمی و قرآنی سرگرمی کی انجام دہی میں تقریباً بیس حکم صاحبان نے اپنی گراں قدر خدمات پیش کیں، جن کے علمی تجربے اور فنی مہارت سے مسابقے کے معیار اور وقار میں مزید اضافہ ہوا۔اس موقع پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران واراکین عاملہ و مدعو خصوصی، تمام صوبائی جمعیات کے امراء و نظام، حفاظ و قراء وعلماء، سرپرست کے علاوہ دہلی و اطراف کی چیدہ واہم شخصیات بھی شریک تھیں۔
شائع شدہ: بدھ, 4 نومبر، 2026 | 7:01 PM IST

