نئی دہلی:3نومبر (ایس ایم نیوز) دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ بی جے پی ایک طرف خود کو تاجروں کا سب سے بڑا ہمدرد بتاتی ہے، وہیں دوسری طرف اس کی غلط معاشی پالیسیوں اور بے تحاشہ مہنگائی نے دہلی کے تاجروں کا کاروبار تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ غذائی اشیاء، دالوں، خوردنی تیل، دودھ، پٹرول، ڈیزل اور روزمرہ کی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی جیب پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔ مہنگائی کے باعث خریدار تہواروں کے موقع پر بھی کھل کر خریداری نہیں کر پا رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر دکانداروں اور چھوٹے کاروباریوں کی فروخت پر پڑ رہا ہے۔دیویندر یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں، معاشی مندی اور بے قابو مہنگائی کے باعث تہواروں سے پہلے ہی بازاروں میں زبردست کساد بازاری چھائی ہوئی ہے اور تاجروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شدید معاشی مندی، بے روزگاری کی ریکارڈ سطح اور غیر معمولی مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید کم ہوگئی ہے، جس کے لیے بی جے پی حکومت کی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2026 میں خوردہ مہنگائی کی شرح 5.54 فیصد اور تھوک مہنگائی کی شرح 11.39 فیصد تک پہنچنے کا براہ راست اثر دہلی سمیت ملک بھر کے کروڑوں تاجروں اور غریب و متوسط طبقے کے خاندانوں کی روزی روٹی پر پڑا ہے۔دیویندر یادو نے کہا کہ بی جے پی کی نام نہاد تاجر تنظیم نے دیوالی کے سیزن میں دہلی کے ایک دن کے کاروبار کو 10 ہزار سے 12 ہزار کروڑ روپے کی بنیاد بنا کر یکم نومبر کو مبینہ طور پر 11 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا من گھڑت دعویٰ کرکے بی جے پی کے اشارے پر دہلی کے تاجروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ دہلی کے اہم بازاروں کی انجمنوں نے اس دعوے کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔دیویندر یادو نے کہا کہ اگر رام لیلا میدان کے آس پاس کے بازار مہاریلی کے دن کھلے رہتے تو ریلی میں شرکت کے لیے آنے والے لاکھوں افراد یقینی طور پر خریداری کرتے، جس سے مقامی تاجروں کے کاروبار کو فائدہ پہنچتا۔ لیکن بی جے پی کی سازش کے تحت بازار بند کروا کر تاجروں کو ممکنہ معاشی فائدے سے محروم کردیا گیا۔ بی جے پی ایک طرف تاجروں کی ہمدرد ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف انہی کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کا کام کر رہی ہے۔
شائع شدہ: بدھ, 4 نومبر، 2026 | 9:45 AM IST

