حرمین شریفین کی حرمت اور مکہ و مدینہ کی قداست، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی حفاظت و صیانت، اور مملکتِ سعودی عرب کا امن و استحکام، نیز اس کی سلامتی و استقرار، اہلِ اسلامِ عالم کے لیے بے حد اہم ہے اور وقت کا تقاضا ہے۔
اس وقت دنیا میں مسلم ممالک کی تعداد 57 ہے، جو اسلامی سربراہی کانفرنس (او آئی سی) کے ممبر ہیں۔ دو اور ممالک ہیں جو او آئی سی کے ممبر کے طور پر درج نہیں ہیں۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ فرنگی استعمار کے دورِ عروج میں، جب خلافتِ عثمانیہ اپنی ماضی کی شان و شوکت اور رعب و دبدبہ کھو رہی تھی اور بوجوہ اس پر ضعف و اضمحلال طاری ہو چکا تھا، عالمِ اسلام کے بیشتر خطوں میں استعماری اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا، بلکہ ان پر قبضہ ہو رہا تھا۔
جنگِ عظیمِ اول میں جرمنی اور اس کے حلیفوں کی شکست ہوئی۔ بالآخر صہیونیوں، صلیبیوں اور اپنوں کی وجہ سے خلافتِ عثمانیہ کا زوال ہو گیا۔ اسی دور میں استعماری قبضہ شباب پر تھا، اور اس کے آثارِ بد میں ایک اثر یہ تھا کہ فرنگیوں نے خطۂ ارضِ اسلام کی بندر بانٹ کی، اور ساتھ ہی یہ حالِ بد سامنے آیا کہ تقریباً تمام ممالکِ مسلمہ میں شرعی قوانین پر پابندی عائد کر دی گئی۔
خود نام نہاد مسلمان حکمرانوں نے جمہوریت اور سیکولرزم کو گلے لگایا، اپنے ملک کا دستور سیکولرزم کی روشنی میں مرتب کیا، خود ساختہ قوانین بنائے گئے، اور اسلامی حدود و تعزیرات اور دیگر احکامِ شرعی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ صرف بعض ممالک میں کچھ اسلامی شریعت پر عمل درآمد کا سلسلہ باقی رکھا گیا۔
استعمار کے خونیں پنجے سے آزادی کے بعد بھی مسلم ممالک میں کامل طور پر شرعی قوانین پر عمل درآمد نہ رہا۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو ملک کا دستور و آئین قرار دیا گیا۔
جو مسلمان شریعت پر عدمِ عمل پیرا ہونے کی وجہ سے کمزور اور اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید سے محروم ہو کر بے وزن، ذلیل و خوار اور بے وقار ہوتے گئے۔
جب عمومی طور پر دنیائے اسلام میں حکومتی سطح پر شرعی قوانین پر عمل کو ترک کیا جا رہا تھا، اس وقت شریعت پر عمل، کتاب و سنت کی بالادستی اور اعلاءِ کلمۃ اللہ کے لیے دعوت و اصلاح کی متعدد تحریکیں اٹھیں۔
اور انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں۔ اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے، دعوت و اصلاح اور تربیت و تزکیہ کا عمل آگے بڑھا۔
یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و احسان ہے کہ بارہویں صدی کے ایک عظیم مصلح، مجددِ دین، امام الدعوۃ، شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کو پیدا کیا، جنہوں نے دعوت و اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور دعوتِ توحید اور عمل بالاسلام کی دینی فہم کو اپنا مشن بنایا.
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی۔ اس دعوت و تجدیدِ دین کی مخلصانہ کاوش میں اللہ تعالیٰ نے ہر خیر و برکت عطا کی۔ توحیدِ خالص کا بول بالا ہوا، اتباعِ سنت کا جذبۂ صادق بیدار ہوا، شرک و بدعت کا ازالہ ہوا، اور شیخ الاسلام، مجدد الدعوۃ کی دعوت کو قبولِ عام حاصل ہوا۔
امام محمد بن سعود رحمہ اللہ نے اس دعوت کی بھرپور حمایت کی۔ بالآخر اس دور میں پہلی سعودی حکومت کی تاسیس عمل میں آئی۔ یہ حکومت کتاب و سنت کی اساس پر قائم ہوئی تھی۔ پھر یہ حکومت زوال پذیر ہوئی۔ تاریخ میں اس کی پوری داستان اول تا آخر درج ہے۔ پھر سعودی حکومت کا دوسرا دور آیا اور پہلے سے وسیع علاقے میں حکومت قائم ہوئی۔ حکومت کا دستور و آئین کتاب و سنت سے ماخوذ تھا۔
پھر یہ حکومت بھی بوجوہ زوال پذیر ہو گئی۔
پھر بالآخر تیسری سعودی حکومت قائم ہوئی، اور 1932ء میں شاہ عبدالعزیز عبدالرحمن بن آل سعود نے متحدہ، وسیع و عریض حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا اور اس کا نام مملکتِ سعودی عرب رکھا، اور پورے ملک میں کتاب و سنت سے ماخوذ قوانین کا نفاذ کیا۔
مظاہرِ شرک و بدعت کا ازالہ کیا۔ بالآخر اس دور میں ایسا ملک وجود میں آیا جہاں مکمل طور پر عملاً شرعی احکام و قوانین پر عمل شروع ہوا۔ اہلِ حق نے موافقت کی اور اہلِ باطل نے بھرپور مخالفت کی۔
یہ سعودی حکومت صحیح معنوں میں اسلامی حکومت کہلانے کی مستحق ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ترقی و خوشحالی عطا فرمائی۔ کل کا معاشی طور پر کمزور ملک دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن گیا۔ 96 سال کی تاریخ اس کے امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کی گواہ ہے۔ اس سے مسلمانوں کو عالمی سطح پر مسلمانوں کا قائد ٹھہرانے میں مدد ملی۔ اغیار نے بھی اس کی اہمیت اور عظمت کو تسلیم کیا۔ جہاں بھی مسلمان کسی بحران، آفت اور مصیبت سے دوچار ہوئے، سعودی عرب نے امداد و اعانت کا ہاتھ بڑھایا، بلکہ جہاں انسانی المیہ رونما ہوا، اس نے ہر طرح انسانی خدمات بڑھ چڑھ کر پیش کیں۔
آج سعودی عرب اعدائے دین کے نرغے میں ہے۔ حوثیوں کے ذریعے اس پر حملے ہو رہے ہیں، جن کی پشت پر اصلاً دنیائے رفض و تشیع ہے۔ تمام اعدائے اسلام اعلانیہ یا خفیہ حوثی باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔
یہ بات جگ ظاہر ہے کہ آخر ان بے مال و زر حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا کام رافضی ایران کر رہا ہے، جس کے اسرائیل کے ساتھ گہرے سفارتی، سیاسی اور تجارتی تعلقات ہیں۔
اعدائے دین، اہلِ کتاب، مشرکین و کفار اور ملحدینِ زمانہ، صحیح ایمان و اعتقاد اور منہجِ سلف کے تمام مخالفین، اہلِ زیغ و ضلال اور بدعت و خرافات کے شیدائیوں کی شدید خواہش ہے کہ یہ اسلامی ملک امن و استحکام کے لحاظ سے کمزور ہو جائے، اسلامی عقائد اور دینی اقدار و روایات کا حامل ملک فساد و بدامنی کا شکار ہو جائے، اور لوگوں میں قلق و اضطراب اور انتشار و بدنظمی کا ماحول پیدا ہو جائے، اور اسلامی شریعت کا نمائندہ واحد ملک بھی باقی نہ رہے۔
اسلامیانِ عالم، علماء، دانشوران اور اصحابِ عقل و خرد، عوام کو اس حقیقت پر مبنی دشمنانِ اسلام کی سازشوں کو سمجھنا چاہیے۔
موجودہ وقت میں امتِ مسلمہ مجموعی طور پر کمزوری کے دور سے گزر رہی ہے۔
سعودی عرب کے امن و استقرار کو غارت کیا گیا تو امت، بحیثیتِ امت، مزید ضعف و اضمحلال اور ذلت و خواری کے عمیق غار میں چلی جائے گی۔
نوشتۂ دیوار پڑھنے کی سخت حاجت ہے، اور فتنوں کے ایام میں تمسک بالکتاب و السنۃ اور ثبات علی الدین، دنیا کی سعادت اور آخرت میں نجات کی کلید ہے۔
شائع شدہ: بدھ, 4 نومبر، 2026 | 9:26 AM IST

