عثمان غني السراجي
بلادِ حرمین شریفین، یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، پوری امتِ مسلمہ کے لیے عقیدت، محبت اور احترام کا مرکز ہیں۔ سعودی عرب کی سرزمین پر حرمین شریفین کی موجودگی اسے عالمِ اسلام میں ایک خاص مقام عطا کرتی ہے۔ اس سرزمین کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی کوشش صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
یمن کی حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ اس تنازعے کو محض ایک سرحدی اختلاف سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اس میں علاقائی طاقتوں کی کشمکش، سیاسی مفادات اور مشرقِ وسطیٰ کا امن بھی شامل ہے۔
حوثی تحریک کی ابتدا اور تاریخی پس منظر
حوثی تحریک، جسے عربی میں ’’انصار اللہ‘‘ کہا جاتا ہے، 1990ء کی دہائی میں شمالی یمن کے علاقے صعدہ میں ایک مذہبی و سماجی تحریک کے طور پر ابھری۔ اس تحریک کی قیادت حسین بدرالدین الحوثی نے کی۔ 2004ء میں یمنی حکومت کے ساتھ مسلح تصادم شروع ہوا اور حسین الحوثی مارے گئے۔ اس کے بعد ان کے بھائی عبدالملک الحوثی نے تحریک کی قیادت سنبھالی۔
2011ء میں یمن میں سیاسی بحران پیدا ہوا اور 2014ء میں حوثی جنگجوؤں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ 2015ء میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی۔ یوں یمن کا داخلی تنازع ایک بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہو گیا۔
بلادِ حرمین کے امن کو خطرات
حوثی تحریک کی سب سے زیادہ تشویش ناک سرگرمیوں میں سعودی عرب کی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں۔ سعودی شہری آبادی، ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی کوششوں نے پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا ہے۔
ایران کی جانب سے حوثیوں کو عسکری معاونت، اسلحے اور تربیت فراہم کیے جانے کے شواہد بھی مختلف بین الاقوامی اداروں اور تحقیقی رپورٹس میں زیرِ بحث رہے ہیں۔ تاہم حوثی تحریک کو محض کسی دوسرے ملک کا تابع سمجھنا بھی درست نہیں، کیونکہ اس کے اپنے مقامی سیاسی اور عسکری مفادات بھی ہیں۔
خطرناک عزائم اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی مسلح تحریک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ایک دوسرے ملک کی سرزمین، شہریوں اور مقدس مقامات کے امن کو خطرے میں ڈالے؟
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت تمام مسلمانوں کے دلوں میں ہے۔ ان مقدس شہروں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ حوثیوں کے خلاف کسی مخصوص خفیہ منصوبے یا حرمین شریفین پر قبضے کی نیت کا دعویٰ مستند ثبوت کے بغیر نہ کیا جائے۔ اصل توجہ ان کے ثابت شدہ عسکری اقدامات اور علاقائی عدم استحکام پر ہونی چاہیے۔
شائع شدہ: جمعرات, 5 نومبر، 2026 | 10:18 PM IST

