28 جمادی الاول، 1448 ہجری

جہیز کا ناسور اور برباد ہوتے خاندان

محمد حسین چنڈی گڑھ

جہیز کا ناسور اور برباد ہوتے خاندان
جہیز کا ناسور اور برباد ہوتے خاندان
اہم نکات

محمد حسین چنڈی گڑھ ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی رسمیں پائی جاتی ہیں جو انسانوں کی زندگی کو مشکل بنا رہی ہیں۔

  • محمد حسین چنڈی گڑھ
  • ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی رسمیں پائی جاتی ہیں جو انسانوں کی زندگی کو مشکل بنا رہی ہیں۔
  • انہی رسموں میں ایک خطرناک رسم جہیز کی بھی ہے۔

محمد حسین چنڈی گڑھ

ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی رسمیں پائی جاتی ہیں جو انسانوں کی زندگی کو مشکل بنا رہی ہیں۔ انہی رسموں میں ایک خطرناک رسم جہیز کی بھی ہے۔ جہیز ایک ایسی سماجی برائی بن چکی ہے جس نے نہ جانے کتنے گھروں کی خوشیاں چھین لی ہیں، کتنی بیٹیوں کے خواب توڑ دیے ہیں اور کتنے والدین کو قرض اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ شادی ایک ایسا خوب صورت رشتہ ہے جس کے ذریعے دو خاندان آپس میں جڑتے ہیں، لیکن افسوس کہ آج اس پاکیزہ رشتے کو مال و دولت اور سامان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ لڑکی کی خوبیاں، اس کی تعلیم، اس کے اخلاق اور اس کے کردار کو دیکھنے کے بجائے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کتنا سامان لے کر آئے گی۔

آج ہمارے معاشرے میں لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی والوں پر طرح طرح کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔ کہیں موٹر سائیکل کی مانگ ہوتی ہے، کہیں گاڑی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، کہیں لاکھوں روپے نقد مانگے جاتے ہیں اور کہیں گھر کے سامان کی لمبی فہرست تھما دی جاتی ہے۔ اگر لڑکی کے والدین ان مطالبات کو پورا نہ کر سکیں تو انہیں طرح طرح کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ بعض اوقات رشتہ بھی توڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے، قرض لیتا ہے اور اپنی جمع پونجی تک خرچ کر دیتا ہے۔

ذرا سوچئے! ایک باپ جو اپنی پوری زندگی محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے، اپنی بیٹی کو پڑھاتا لکھاتا ہے اور اس کے اچھے مستقبل کے خواب دیکھتا ہے، جب اس کی شادی کا وقت آتا ہے تو وہ جہیز کی فکر میں دن رات پریشان رہتا ہے۔ کبھی وہ اپنی زمین فروخت کرتا ہے، کبھی زیورات بیچتا ہے اور کبھی قرض لے کر لوگوں کی فرمائشیں پوری کرتا ہے۔ اس کے باوجود بعض لالچی لوگوں کی خواہشات ختم نہیں ہوتیں۔ کیا یہ انسانیت ہے؟ کیا کسی بیٹی کی شادی اس کے والدین کے لیے اتنا بڑا بوجھ بن جانی چاہیے؟

اسلام نے شادی کو آسان بنایا ہے اور اس میں سادگی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً

(سورۃ الروم: 21)

ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی کا اصل مقصد میاں بیوی کے درمیان محبت، سکون اور رحمت پیدا کرنا ہے، نہ کہ مال و دولت کا لین دین کرنا۔ لیکن افسوس کہ ہم نے شادی کو ایک کاروبار بنا دیا ہے۔ لڑکی والوں سے سامان لینا عزت اور شان سمجھا جانے لگا ہے، حالاں کہ اسلام میں کسی پر مالی بوجھ ڈالنے کی تعلیم نہیں دی گئی۔

اسلام نے عورت کو بہت عزت اور حقوق عطا کیے ہیں۔ نکاح کے وقت شوہر پر مہر ادا کرنا لازم کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً

(سورۃ النساء: 4)

ترجمہ: اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں مہر عورت کا حق ہے اور اسے ادا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس کے برعکس صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ لڑکے والے مہر دینے کے بجائے لڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں شادی کو آسان رکھنے کی تعلیم دی۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس مہر دینے کے لیے کچھ نہیں تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی تلاش کر لو۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کے لیے بڑی دولت اور قیمتی سامان کی ضرورت نہیں، بلکہ سادگی اور آسانی کو اہمیت دینی چاہیے۔

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً

(مسند احمد)

ترجمہ: سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔

اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ شادی میں فضول خرچی اور دکھاوے سے بچنا چاہیے۔ جتنی شادی آسان ہوگی، اتنی ہی لوگوں کے لیے نکاح کی راہ آسان ہوگی۔ لیکن آج ہم نے شادی کو اتنا مہنگا بنا دیا ہے کہ غریب آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرنے سے بھی ڈرتا ہے۔

جہیز کی اس رسم کا سب سے زیادہ نقصان لڑکیوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بہت سے والدین صرف اس لیے اپنی بیٹیوں کی شادی نہیں کر پاتے کہ ان کے پاس جہیز دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ کئی لڑکیاں بڑی عمر تک گھر میں بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ ان کے والدین ہر وقت اسی فکر میں رہتے ہیں کہ نہ جانے ان کی بیٹی کا رشتہ کب ہوگا اور وہ اس کے لیے ضروری سامان کہاں سے لائیں گے۔ یہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ ایک لڑکی کی شادی اس کے اخلاق، تعلیم اور کردار کے بجائے جہیز کی بنیاد پر طے کی جائے۔

بعض گھروں میں شادی کے بعد بھی لڑکی کو سکون نہیں ملتا۔ اسے جہیز کم لانے کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ کبھی شوہر ناراض رہتا ہے، کبھی ساس اور نندیں بات بات پر اسے پریشان کرتی ہیں اور کبھی مزید سامان لانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ بعض لڑکیوں کو اتنا پریشان کیا جاتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ کہیں انہیں گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور کہیں جہیز کے مطالبات پورے نہ ہونے پر ان پر ظلم کیا جاتا ہے۔ بعض واقعات میں تو لڑکیوں کی جان تک چلی جاتی ہے۔ یہ سب ہمارے معاشرے کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

ترجمہ: عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ محبت، عزت اور نرمی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ جو لوگ جہیز کے لیے اپنی بہوؤں کو پریشان کرتے ہیں، انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔

یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی باپ اپنی خوشی اور اپنی حیثیت کے مطابق بیٹی کو کچھ تحفے دیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس تحفے کو لازمی سمجھنا یا اس کے لیے لڑکی والوں پر دباؤ ڈالنا غلط ہے۔ جہیز کو شادی کی شرط بنانا اور اس کے نہ ملنے پر لڑکی کو پریشان کرنا ظلم ہے۔ کسی بھی والدین کو اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرض لینے یا اپنی جائیداد فروخت کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔

جہیز کی اس برائی کو بڑھانے میں دکھاوے اور معاشرے کی غلط سوچ کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ لوگ دوسروں کی شادی دیکھ کر اپنی شادی میں بھی اسی طرح کا انتظام کرنا چاہتے ہیں۔ کسی نے گاڑی دی تو دوسرا بھی گاڑی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی نے لاکھوں روپے خرچ کیے تو دوسرا اس سے زیادہ خرچ کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ اس طرح ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی غریب خاندان بھی قرض لے کر شادی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنی زندگی کو مشکل بنانا عقلمندی نہیں ہے۔

اس برائی کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ لڑکے والوں کو چاہیے کہ وہ جہیز کا مطالبہ نہ کریں اور اپنے بیٹوں کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ شادی کو مال حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھیں۔ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ جہیز لینے سے صاف انکار کریں اور اپنے والدین کو بھی اس غلط رسم سے روکیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی میں غیر ضروری خرچ نہ کریں اور سادہ نکاح کو فروغ دیں۔

علمائے کرام اور ائمہ مساجد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ جمعہ کے خطبات اور دینی مجلسوں میں جہیز کی برائیوں پر روشنی ڈالیں۔ لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیمات بتائیں اور انہیں سمجھائیں کہ بیٹی کی شادی میں آسانی پیدا کرنا نیکی کا کام ہے۔ شادی کی تقریبات میں غیر ضروری رسموں، فضول خرچی اور دکھاوے سے بچنے کی تلقین بھی کی جائے۔

ہمیں اپنی بیٹیوں کو بوجھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھنا چاہیے۔ ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینی چاہیے اور ان کے لیے ایسے رشتے تلاش کرنے چاہئیں جہاں ان کی عزت ہو، نہ کہ ان کے ساتھ آنے والے سامان کی قدر کی جائے۔ اسی طرح لڑکوں کو بھی اچھے اخلاق اور ذمہ داری کا احساس دلانا ضروری ہے۔

آخر میں ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جہیز کسی بیٹی کی قیمت نہیں ہے اور نہ ہی شادی کوئی کاروبار ہے۔ ایک باپ اپنی بیٹی کو محبت اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتا ہے، اس سے مزید دولت اور سامان کا مطالبہ کرنا اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں خوشیاں قائم رہیں، غریب والدین سکون سے اپنی بیٹیوں کی شادی کر سکیں اور خاندان ٹوٹنے سے بچیں تو ہمیں جہیز کی اس بری رسم کو ختم کرنا ہوگا۔

آئیے! ہم سب مل کر عہد کریں کہ نہ جہیز لیں گے، نہ جہیز دیں گے اور نہ کسی کو اس کے لیے مجبور کریں گے۔ ہم شادی کو آسان بنائیں گے، سادگی کو اپنائیں گے اور اپنی بیٹیوں کو عزت کے ساتھ رخصت کریں گے۔ کیونکہ بیٹی بوجھ نہیں، اللہ کی رحمت ہے؛ شادی کاروبار نہیں، ایک مقدس رشتہ ہے؛ اور جہیز عزت نہیں بلکہ ایک ایسی رسم ہے جس نے ہمارے معاشرے کی بہت سی خوشیاں چھین لی ہیں۔

شائع شدہ: اتوار, 8 نومبر، 2026 | 4:50 PM IST

یہ خبر شیئر کریں

واٹس ایپفیس بکایکسٹیلیگرام