Siyasi Manzar
مضامین

ہمارا سیاسی تنزّل اسباب و اِ نسِداد

ڈاکٹر ہمایوں احمد


پیچیدہ سماجی تانا بانا والے ملک میں مسلمانوں کی سیاسی وقعت کا انحطاط ایک بڑا مسئلہ فکر ہے۔ باعث زوال اُمور کی شناخت اور ان کے تدارک کا موثر اقدام ایک اعلیٰ درجے کی فہم رکھنے والے کے لیے بھی کسی امتحان سے کم نہیں ۔ اس الجھی ہوئی کش مکش کی گرہ کشائی کا عمل بآسانی ممکن نہیں ۔ پورے شعور اور پوری مستقل مزاجی کے ساتھ کڑی اور منظم محنت ہی اس کا واحد حل ہے۔ اس بار کے انتخاب میں کسے ووٹ دینا ہے اس کا فیصلہ کوئی مشکل کام نہیں۔ لوگ بخوبی سب کچھ سمجھ رہے ہیں۔ پورا زور اس وقت انتخابی عمل میں مستعدی سے حصہ لینے پر ہونا چاہیے ۔ ہمارے سامنے سب سے زیادہ باعث تشویش امر یہ ہے۔ کافی کچھ ہوتے ہوئے بھی مسلمانانِ ہند سیاسی تنزّل کی طرف رواں دواں ہیں۔ یہ کوئی آج کا مسئلہ نہیں۔ آزادی کے بعد سے ہی کبھی آہستہ تو کبھی تیز رفتار سے یہ سلسلہ بغیر وقفہ و رخنہ کے جاری ہے۔ اس پریشان کن صورت حال پر رائے زنی کوئی نیا موضوع بحث نہیں۔ ہمارے اکابرین ملت نے بارہا بہت کچھ سمجھانے اور لکھنے کاکام کیا ہے۔ پھر بھی سیاسی اعتبار سے مسلمان مسلسل نیچے کی طرف ڈھلان میںلڑھکتے جارہے ہیں۔ کچھ تو بات ہے کہ بگڑی بنتی نہیں ہماری ! آخر اس علّت کی تلافی کی تدبیر کیا ہو سکتی ہے ؟ ہمیں سیاسی شعور اور سماجی بصیرت کی اوجھل اُمور کو پردہ داری سے باہر نکال کے سطح پر لانا ہوگا۔
یہ دیکھنا ہمارا پہلا فرض بنتا ہے کہ ہم خود سے کیا کرسکتے ہیں جو نہیں کررہے ہیں۔ یقینا ہماری مجبوریاں بھی بہت ہیں۔ تاہم ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری لاچاری اتنی نہیں ہے جتنی ہماری لاپرواہی ہے۔ حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر ذہن میں زور ڈالنے پر نظر یہی آتا ہے کہ بہت ساری قابل غور باتیں معقول توجہ سے محروم ہیں۔ ان میں سے صرف دس منتخب نِکات کو سنجیدہ تو جہ کی غرض سے پیش کیاجارہا ہے۔ حکمرانی کسی کی بھی ہو یہ باتیں بہر صورت کام آئیں گی ۔ اگر اُن رہنمائوں کی ذہن میں اتر جائیں جن کی بات سنی جاتی ہے تو ہم امید کرسکتے ہیں قسمت آہستہ آہستہ بدلے گی (ان شاء اللہ )
(۱) دنیا کی تاریخ کو دیکھیں۔ کسی بھی نازک موڑ پر مسلمان کا تصادم دو طرح کے محاذ پر ہوتا ہے۔ پہلا غیر مسلم دشمنانِ اسلام کے ساتھ براہ راست دست و گریبان ہونے کا محاذ جیسے اس وقت فلسطین اور اسرائیل کی جنگ۔ دوسرا اندررون معاشرہ پنپنے والی برائیاں جب جڑ پکڑ لیتی ہیں تو ابھرنے والے مسائل سے نظام ہلنے لگتا ہے ۔ اس دوسرے طرح کے محاذ پر آج پاکستان الجھ رہا ہے۔ اپنے وطن عزیز کے اندر مثبت اور نتیجہ خیز تدابیر کی امید ہم تب ہی کرسکتے ہیں جب ان دونوں طرح کے محاذوں پر کام کرنے کی اہمیت کو سمجھیں۔
(۲) سیاسی طور پر پچھڑجانے والے ہمیشہ ٹھیک سے یہ طے نہیں کرپاتے ہیں کہ کب کس مدعے کو اٹھایاجانا چاہیے نیز کسی واقعہ کے متعلق اپنے موقف کو اپنے طریقے پر کس طرح سے ترتیب دیاجائے۔ مثلاً مخالف قوتیں مسلمان اور اسلام کو عورتوں کے حقوق کے تعلق سے تنقید کا نشانہ بناتی ہیں اور ہم ان کا جواب دینے لگ جاتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے اس ہدف (Objective) میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ ان کا لایا ہوا مدعا گردش کرنے لگتا ہے۔ اس موضوع پر ہمیں بالکل بے اعتنائی برتتے ہوئے خوب زور سے یہ مدعا اٹھانا چاہیے کہ آج کی حکومت میں ملک کی ماں بہنوں کی عزت محفوظ نہیں ہے۔ ہمارے ماہر مقرر بڑے جلسوں میں پُر زور طریقے سے ایک سانس میں چھ واقعات کو تھوڑی ہندی کے الفاظ کے ساتھ گنوادیں۔ .پہلوان بناکے بھی دیکھ لیا مگر دیش کی ناری کو اپنی مریادہ کی رکچھا کے لیے آنسو بہانے پڑرہے ہیں۔ .منی پور کی دردناک گھٹنا سے پوری دنیا میں دیش کا سرشرم سے جھک گیا۔ .مدھیہ پردیش میں بھاری سنکھیا میں لڑکیاں بال گریہہ سے غائب ہوجاتی ہیں۔ .بنارس ہندویونیورسٹی کے اندر انجینئرنگ کی چھاترا کے ساتھ بلتکار کرنے اور کپڑے نوچ کر وی ڈی او بنانے والا کنال پانڈے ،آنند چوہان اور شکشم پٹیل بنارس ضلع کے بی جے پی آئی ٹی سیل کا ممبر ہے۔ .گجرات کی سرکار مہیلائوں کے ساتھ بلتکار اور ان کی ہتیاکرنے والوں کو ۱۵؍اگست کے دن جیل سے رہائی دیتی ہے ۔.اور تو اور ایک خاتون جج تک کو جنسی زیادتی سے تنگ آکر سپریم کورٹ میں خود کشی کی اجازت کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے یعنی انصاف ان کو بھی نہیں ملا۔ آج دیش کی آدھی آبادی کی عزت خطرے میں ہے تو کیا ایسے میں اس سرکار کو ووٹ دینا دیش بھر کی مہیلائوں کا اپمان نہیں ہے ۔
کرپوری ٹھاکر کو بھارت رتن دیاگیا۔ اگر ہم ایک نعرہ کو زور سے مشتہر کردیں تو اس بڑی آبادی کے جذبات کو چھوئے گا اور ان کے دل میں اترے گا جن کی زمینی طاقت سب سے زیادہ ہے۔ ’’بھارت رتن دے دے دیں گے مگر گنتی ہونے نہیں دیںگے۔ ‘‘ ایک خاص مدعے کی طرف بھی دھیان جانا چاہیے ۔ گجرات کی ایک بند ر گاہ میں کئی ہزار کیلو گرام ہیروئن (heroin) پکڑی گئی تھی۔ آخر اس کا مکمل خاتمہ ہوا یا نہیں؟ اس کو کس طرح سے ٹھکانے لگایاگیا ؟ کچھ ٹھیک سے جانکاری نہیں ہے۔ اگر کہیں سپلائی ہوگیا ہوگا تو پھر یہ نوجوانوں کو غفلت کی نیند سلادے گا۔
جو سب کی ہمدردیاں بٹورتا ہے انتخاب میں وہی کامیاب ہوتا ہے ۔ اس لیے ہمیں اس وقت اُن مدعوں پر زیادہ زور دینا ہے جو دوسروں کے لیے بھی باعث دلچسپی ہوں۔ مسلمانوں پر مرکوز مخصوص مدعوں کو بہت ناپ تول کے احتیاط کے ساتھ ذرا کم مقدار میں اٹھانا چاہیے ۔
(۳) برائے نام ہی سہی مگر کبھی کبھی ہماری پاپسندیدہ پارٹی کے اندر بھی کسی فرد کی جانب سے اچھا کام کیاجاتا ہے ۔ ہمیں اس کا بھی نوٹس لینا چاہیے ۔ اس سے یہ ثابت ہوگا کہ ہم کسی (سیکولر؟) پارٹی کے غلام نہیں ہیں ۔ کوئی بھی ہمارے لیے کچھ اچھا کرے گاتو خوبیوں کی بنیاد پر ہم انہیں خاطر میں لائیں گے ۔ ایک بات ہمیں خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ فرقہ پرست پارٹیاں پوری طرح اصلی فرقہ پرست ہوتی ہیں جب کہ سیکولر پارٹیاں پوری سیکولر نہیں ہو تی ہیں۔ ان کے اندر صحیح سیکولر مشکل سے اِکّا دُکّا ہی ہو تے ہیں۔پتہ بھی نہیں چلاکہ منی شنکر ایئر کب کیسے لاپتہ ہو گئے۔ دوسری طرف فرقہ پرست پارٹیوں میں بھی کچھ لوگ مثبت سوچ رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ۲۸؍دسمبر ۲۰۰۰ء کو عید کے دن رانچی میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد میں کئی مسلم نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے۔ جھارکھنڈ میں بی جے پی کے آدی واسی وزیر اعلیٰ بابو لال مرانڈی کے وقت پانچ دن کے اندر رانچی کے ڈی سی نے خود سے گھر جاکر تین لواحقین کو دو ۔ دو لاکھ کا چیک دیا تھا۔ ایسی مثال سیکولر پارٹی کی حکومت تو نہیں ملتی تھی۔ ہمیں ۱۹۸۰کا مراد آباد ، ۱۹۸۱ء کا بہار شریف اور ۱۹۸۳ء میں آسام کی نیل گھاٹی کے فسادات بھی یاد ہیں جب اندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں۔ ان کے علاوہ سیکولر پارٹی سے وابستہ اور بھی بے شمار زخموں سے بھری یادیں ہیں ۔
اسی طرح ۱۸۔ ۲۰۱۷ء کی بات ہے جب رام گڑھ ضلع کے گوشت تاجر علیم الدین انصاری کو مار مار کے قتل کردیاگیا تھا۔ اس کیس میں جھارکھنڈ کے بی جے پی والے اوبی سی وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے مستعدی سے ایمان دارانہ کوشش کرکے ۱۱ملزمین کو نچلی عدالت سے سخت ترین سزا دلوائی تھی۔ بعد میں بی جے پی کے اندر کی اعلیٰ ذات سیاست کی سازش سے ان مجرمین کو اوپر کی سطح پر بچالیاگیا۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے رگھوور داس نے دو انتہائی نازک موقعوں پر خود سے جائے وقوع پر پہنچ کر رانچی میں دوبڑے دنگوں کو ہونے سے بچالیا تھا۔ ساتھ میں ذاتی دلچسپی لے کر کڈرو (رانچی ) میں واقع حج ہائوس کی شاندار بلڈنگ بنوائی ۔ ان باتوں کو رانچی کا ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے۔
عزت و وقار کا حامل پارلیمنٹ کے اندر گالیاں بکنے جیسی کمینہ پن کی حرکت ہوئی تو اس وقت کی دو رذالہ صفت تعلیم یافتہ ممبران کی دانت نکال کے بے شرمی سے ہنستی ہوئی تصویر اخباروں میں سب نے دیکھی۔ پڑھے لکھوں کے اخلاقی زوال کی یہ دنیا میں بدترین مثال تھی۔ ملک بھر کے لیے سب سے زیادہ باعث شرم بات یہ ہے کہ ان دومطعون خلائقوں میں سے ایک ڈاکٹر اور دوسرا وکیل ہے۔ مگر وہاں موجود راج ناتھ سنگھ کو یہ کرتوت ناگوار گذری اور انھوں نے سرزنش بھی کی۔ راج ناتھ سنگھ کی ستائش میں یہاں ایک سنجیدہ بیان مسلمانوں کی طرف سے آنا چاہیے تھا۔
موجودہ صورت حال میں ہم زیادہ پریشان ضرور ہیں مگر اس سرکار سے تنگ دوسرے بھی ہیں۔ یہ لوگ اوروں کے لیے بھی وبالِ جان ہیں ۔ اروند کیجریوال کو دیکھئے۔ ہم ان کے ساتھ ہیں، ان کی حمایت میں ووٹ ضرور دیں گے ۔ مگر بڑے احترام کے ساتھ کیجریوال صاحب کو یہ یاد دلادینا چاہیے کہ ۳۷۰ ہٹائے جانے کے وقت تالی آپ بھی بجائے تھے۔ دلّی میں اورنگیزیب روڈ کانام بدلے جانے پر اس کی حمایت میں آپ بیان دیئے تھے جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا اس سرکارکو ہٹانے کی جتنی غرض ہم کو ہے اتنی آپ کو بھی ہے۔
(۴) ایک خطرناک قسم کی سازش زمانے سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ قوم و ملت کے اندر بڑے بڑے مثبت کام کرنے والے کسی بھی قابل شخصیت کو مسلمانوںہی کے اندر ناپسندیدہ بنادیا جاتا ہے۔ اسد الدین اویسی صاحب کے خلاف بی جے پی والے کیوں کارروائی نہیں کرتے ہیں۔ لہٰذا اندر اندر ضرورکوئی ملی بھگت ہے۔ اپنی عجیب وغریب عادت کی وجہ کر مسلمان ہی ایسی مہمل باتوں کو دہرانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہاں صحیح یا غلط کے پیچھے جانے کی بھی ضرورت نہیں ۔ اس کے ذکر سے پہلے یہ پوچھنا چاہیے کہ دوسروں کے خلاف اتنی کارروائیاں ہورہی ہیں مگر رابرٹ واڈرا کو کیوں نہیں بند کیاجاتا ۔ ہمار اسخت اصولی موقف یہ ہونا چاہیے ۔ کسی بھی قابلِ لحاظ مسلمان کے متعلق کوئی منفی بات صرف اورصرف اسی صورت میں کرنی چاہیے جب ایسا لگے کہ اس بات کو نہیں بولنے سے کوئی بہت بڑا نقصان ہوجائے گا۔ وہ بھی پوری احتیاط کے ساتھ اور بالکل برائے ضرورت ۔
(۵) حق بجانب ہوتے ہوئے بھی حق کی لڑائی میں ہم ناکام کیوں ہوجاتے ہیں ؟ اس کے لیے ہماری چھوٹی موٹی کوتاہی پوری طرح ذمہ دار نہیں ہے۔ بالکل صحیح طریقے پر کوشش کرنے کے باوجود بھی ایسا ہوتا ہے۔ یہاں انصاف ملتا تو ہے مگر تاخیر سے ملتا ہے اور کبھی کبھی ہی ملتا ہے۔ علاوہ ازیں سب کو ایک طرح سے نہیں ملتا ہے۔ اس لیے ہر کام کے لیے عدالتوں کی دوڑ لگانا مسئلے کا حل نہیں۔ مسلمانوں کے علاوہ سماجی طور پر کئی اور کمزور طبقے کے ساتھ بھی نا انصافیاں ہورہی ہیں۔ اگر سب مل کر آگے آئیں تو ان کے مسائل کا حل عوامی سطح پر لڑی گئی لڑائی کی بدولت ہی ہو پائے گا۔ یوٹیوب میں شمبھو کمار سنگھ کی باتیں کافی حد تک صحیح معلوم ہو تی ہیں۔ دوہری طرز عمل والے نظام کے خلاف مشترکہ لڑائی کے علاوہ کوئی اور متبادل نظر نہیں آتا۔
(۶) پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ہماری نمائندگی کم ہو تی جارہی ہے ۔ سوچنا یہ ہے اگر یہ کمی دور ہو گئی تو کیا حالات بدل جائیںگے۔ ۲۰۱۲ء کے یوپی انتخاب میں ۵۵یا ۵۶مسلم اراکین اسمبلی منتخب ہو ئے تھے مگر مظفر نگر کی سخت سرد ی میں بھیانک فساد ہوئی اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کوئی خاص کچھ بھی نہیں کر پائے ۔ یہاں ماخذ یا اصل بنیاد کی جانب ہماری توجہ شاید نہیں جاری ہے ۔ غور کریں کافی دنوں سے اقتدار اور اختیار کا مرکز و محور جمہوری اصولوں کے برخلاف عوام کے چنے ہوئے نمائندوں کے ہاتھ سے نکل کے کہیں اور منتقل ہوتاجارہا ہے۔ گالی گلوج اور ماردھاڑ جیسے غیر مہذب عنصر کی سیاست میں شمولیت ایک نیا اضافہ ہے۔ سرکاری وزیر وں کا معتمد یا مددگارِ اعلیٰ (Secretary) ،تگڑم باز ذرائع ابلاغ اور قانونی اداروں کے میل سے پوری طرح ایک مربوط گروہ (Nexus) قائم ہوچکا ہے جو پورے نظام پر بری طرح حاوی وقابض ہے۔ اس تکونا گٹھ جوڑ میں اعلیٰ ذات ہندوئووں کا مکمل قبضہ ہے۔ جعل سازی کا یہی خبیث جال بشمول مسلمان سبھی مظلوموں کے لیے اصل جنجال ہے۔ مسلمان،د لت ، پچھڑا ، آدی واسی ، سِکھ ، عیسائی جیسے سبھی بھگتنے والوں کو سڑک پر مل کے اٹھنا ہوگا۔
(۷) ہم لوگ سماجی طور پر اپنے سے کم حیثیت والوں کے ساتھ ملنے جلنے میں ہچکچاتے ہیں ۔ ہر چندکہ آداب و تصنّع میں وہ لوگ فارورڈ ہندوئوں کے اتنے نفیس الطبع یا مہذب نہیں ہوتے ہیں،مگر کچھ مشکلوں کے باوجود بھی ان سے نزدیکی تعلقات قائم کرنے ہوںگے۔ عید کے موقع پر ہماری محفلوں میں مشراجی، جھاجی، پاٹھک صاحب، سنگھ صاحب، شریواستو صاحب، سنہا صاحب، مکھرجی صاحب تلنگانہ کے ریڈی صاحب، نائیڈو صاحب وغیرہ بھرے رہتے ہیں۔ مگر بیٹھا جی ، رام صاحب، پاسوان صاحب، لکڑا صاحب، منڈا جی، ٹرکی صاحب، یادو صاحب، مہتو جی، وشو کرما جی، اورائوں، منڈل، لوہرا جیسے کتنے ہوتے ہیں ؟ ہم اخلاق سے مل جل کر اپنے اچھے خیالات اور صحیح حقائق کو ان تک ٹرانسفر کرسکتے ہیں اور ان کے سوچ کو مثبت سمت میں ٹرانسفورم (Transform) کرسکتے ہیں۔
(۸) ملک میں ہم ۱۵فیصدکے قریب ہیں۔ وقعت و منزلت کے اعتبار سے یہ تعداد اچھی خاصی غیر معمولی ہے۔ مگر زیادہ تر اپنی سرگرمیوں میں ہم اپنے ہی اندر محدود دہتے ہیں۔ دوسرے کمزور طبقوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف بھی ہم کو خوب زور شور سے آوازیں بلند کرنی چاہیے ۔ فتنہ پر ور ظالموں پر ہمارا یہ اقدام ضرور گراں گذرے گا۔ ان سے یہ بات ہضم نہیں ہو گی۔ ہمیں روکنے ڈرانے کی کوششیں بھی ہو ں گی ۔ مگر بغیر ڈرے ہوئے ہمارے رہنمائوں کو برجستہ جواب دینا چاہیے جب بھی مسلمانوں پر ظلم ہوا ہے غیر مسلم بھائیوں نے ہمارے حق میں ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ لہٰذا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاکر ہم تو اپنے نیک غیر مسلم بھائیوں کے احسانوں کا قرض اتار رہے ہیں۔
(۹) اسلام مساوات سکھاتا ہے یہ ایک آفاقی سچائی ہے۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے یہ بات مسلم معاشرہ میں صرف تقریروں میں دلکشی پیدا کرنے والی چیز بن کر رہ گئی ہے۔ زمین پر چلئے پھرئے تو حالت کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔
ممبر پر سے کبھی کسی خطیب کو یہ کہتے نہیں سنا جاتا ہے کہ اسلامی مزاج سے غیر ہم آہنگ برادریت کی وجہ کر کتنی مشکلیں بڑھیں اور کتنا نقصان ہوا۔ غیر مسلم مظلوموں کے بیچ ہماری مساوات والی کشش اور طاقت بے اثر ہو گئی۔
(۱۰) تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب تدبیر سے چھوٹ ہر گز نہیں ہے۔
الغرض انتخاب کے موقع پر ضروری اقدام میں کوئی کثر باقی نہ رہے مگر نتیجوں کے لیے محتاط رہنا ہے۔ کوئی بھی منتخب ہو ہماری سرگرمیاں انتخاب کے بعد بھی بدستور جاری رہنی چاہیے ۔ کسی بھی منتخب نمائندے سے ہمارے پڑھے لکھے باشعور لوگوں کو منصوبے کے ساتھ ملتے جلتے رہنا چاہیے ۔ وہ لوگ عموماً ملنے پر خوش ہوتے ہیں۔ عین ممکن ہے اچھے مدعے زیر غور آتے رہیں اور مثبت نتیجے برآمد ہوں۔ ترقی کرنے والی زندہ قومیں حکمت عملی اور اس کے عمل درآمد پر مسلسل کام کرتی ہیں۔ مستقل مزاجی کے ساتھ کڑی محنت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ راہِ حق کی تلاش تو کیجئے رہنمائی اللہ کرے گا۔

Related posts

عورتوں کو میراث سے محروم کرنا گناہ عظیم ہے

Siyasi Manzar

جہیز کوئی رواج نہیں،ایک بدنما داغ ہے

Siyasi Manzar

لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے پدرانہ معاشرے کا رویہ کب بدلے گا؟

Siyasi Manzar