Siyasi Manzar
Top News راجدھانی

’’خلیج فارس ‘‘ کے قومی دن پر ایران کلچرہاؤس میں سمپوزیم

نئی دہلی۔30؍ اپریل۔ایران کلچرہاؤس نئی دہلی میں پرشین گلف کے قومی دن کے موقع پر ایک سمپوزیم بعنوان ’ تاریخ ، جغرافیہ اور خلیج فارس کے سیاحتی امکانات ‘ کا انعقاد ‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سمپوزیم ایران کلچرہاؤس ، سفارتخانہ ایران اور نور انٹر نیشنل مائکروفیلم سینٹر کے باہمی تعاون سے منعقد ہوا۔ اس دوران کلچرل کاؤنسلر ڈاکٹر فرید الدین فرید عصر نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس موضوع پر بات کی اور اس کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی نیز کہا کہ آج کے دور میں صحیح معلومات لوگوں تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔ عدم معلومات یا غلط اور ادھوری معلومات سے بہت سی پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں چاہے وہ پرانی ہوں یا نئی اور حالیہ دنوں سے متعلق ہوں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر انیس الرحمن نے کہا کہ کلچرہاؤس تہذیبی افہام وتفہیم میں ہمیشہ سے ہی ایک اہم رول اداکرتارہا ہے۔ یہاں ٹورزم پر جو فلم دکھائی گئی وہ بہت دلچسپ تھی۔ اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے، ایران کی تاریخ سیاحت اور جغرافیائی اہمیت کے حوالہ سے اہم رہی ہے ۔ خلیج فارس میں سیاحوں کو مدعوکرنے کے لئے مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے بلکہ پوری دنیا میں ٹورزم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ویزا کے عمل کو بھی آسان بنانے کی ضرورت ہے ۔ تاہم خطہ کے دیگر ممالک سے خیر سگالی اس سلسلے میں مفید ثابت ہوگی۔
جامعہ ہمدرد کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آصف نواز نے تینوں موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے لوگوں نے اس کانام تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن کسی کی تاریخ تو بدلی نہیں جاسکتی ہے جغرافیہ بھی بدلا نہیں جاسکتا مگر اس کا اثر کھیلوں پر پڑا کہ اگر کسی تمغہ پر خلیج فارس لکھ دیا جاتا تو کوئی تمغہ لینے نہیں آتا تھا لیکن اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب ایران کے تعلقات سعودی عربیہ سے بہتر ہیں۔ ان کے علاوہ ہندوستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر ایرج الٰہی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تاریخی دستاویزات اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ اسے خلیج فارس ہی کہاجاناچاہئے۔ اس کے بہت سے نمونہ آپ کو ہندوستان کی لائبریریوں میں موجود کتابوں میں بھی مل جائیں گے۔
پروفیسر علی رضا چاوردی شیراز یونیورسٹی اور ڈاکٹر بہزاد، تہران نے بھی ویڈیو کے ذریعہ اپنے علمی اور تحقیق افکار پیش کیے۔
واضح رہے کہ اس موقع پر تاریخ ، جغرافیہ ، فارسی اور ٹوریزم کے’’ مسالک وممالک اور انس المہج وروض الفرج اساتذہ و طلبا موجود تھے علاوہ ازیں مربوطہ دستاویزات کی نمائش اور نورمیکرو فیلم سے شائع شدہ موضوعات میں متعلق دواہم کتابوں کا رسم اجرابھی عمل میں آیا۔

Related posts

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام بین الاقوامی غالب تقریبات کا افتتاح

Siyasi Manzar

SDPI:فاشزم کے متاثرین اور مخالفین کو قریب رکھنے میں ناکامی کانگریس کی شکست کا باعث بنی۔ایس ڈی پی آئی

Siyasi Manzar

اُڈما کے پلیٹ فارم سے عید ملن کے ذریعہ ملک کے باشندگان کو قومی یکجہتی کا پیغام دیا گیا

Siyasi Manzar