Siyasi Manzar
قومی خبریں

اسلام کے وجودکیلئے مدارس لازمی:مولانا ارشدمدنی Maulana Arshad Madani

عصری تعلیم سے بچوںکو محروم نہیں کیا جاسکتا، جمعیۃعلماء ہند ہر طرح کی فرقہ پرستی کے خلاف ،فلسطین کے عوام اپنے ملک کی آزادی کے لئے جنگ لڑرہے ہیں :مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی 13؍نومبر(ایس ایم نیوز)آج دیوبند کے مدنی ہائی اسکول میں جمعیۃعلماء اترپردیش کی مجلس منتظمہ کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے صاف لفظوںمیں کہاکہ مسلم فرقہ پرستی ہویا ہندوفرقہ پرستی جمعیۃعلماء ہند ہر طر ح کی فرقہ پرستی کے خلاف ہے کیونکہ یہ ملک کے اتحادکے لئے تباہ کن ہے ، انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد جب مذہب کی بنیادپر ملک کوتقسیم کرنے کی بعض لوگوں کی جانب سازش شروع ہوئی تواس کے خلاف اٹھنے والی پہلی آوازجمعیۃعلماء ہند کی تھی ، ہمارے بزرگوںکا نظریہ یہ تھا کہ جب ہم تیرہ چودہ سوبرس سے محبت اوراخوت کے ساتھ ایک جگہ رہتے آئے ہیں تواب آزادی کے بعد ہم ایک ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے ؟مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کا نظریہ آج بھی یہی ہے ہم مذہب کی بنیادپر کسی بھی طرح کی تقسیم کے خلاف ہیں کیونکہ ہمارامانناہے کہ محبت ، اخوت بھائی چارہ اوراتحادسے ہی یہ ملک زندہ رہ سکتاہے اورآگے بڑھ سکتاہے ورنہ آج نہیں توکل اورکل نہیںتوپرسوںیہ تباہ وبربادہوجائے گا، انہوں نے وضاحت کی کہ جمعیۃعلما ء ہند کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے ایک مذہبی جماعت ہے جب ملک کو آزادکرانے کا مسئلہ تھا توہمارے اکابرین نے اس کے لئے سردھرکی بازی لگادی 1803 سے 2019تک علمانے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر غلامی کی زنجیروںکو کانٹنے کا کام کیا بعد میں جب شیخ الہند ؒ مالٹاکی جیل سے باہر آئے تو انہوںنے اعلان کیا کہ ملک کی آزادی کا مشن تنہامسلمانوںکی جدوجہد سے پورانہیں ہوسکتااس کے لئے آزادی کی تحریک کو ہندومسلم کی تحریک بنانی پرے گی چنانچہ ہمارے اکابرین ہندومسلم اتحادکی راہ پر آگے بڑھے اورملک کو انگریزوںکی غلامی سے آزادکرالیا اسی موقع پر ہمارے اکابرین نے اعلان کیا کہ ہمارامقصدملک کو غلامی سے آزادکرانا تھا ہماراسیاست سے کوئی لینا دینا نہیںہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے دستورنے شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیا اورجمعیۃعلماء ہند نے بھی اسے اپنے دستورکا حصہ بنالیا ، حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اکابرین کا کرداروعمل ہمارے لئے مشعل راہ ہے ، اور اس کو ہمیں حرزجاں بنالینا چاہئے ہم گھر گھر گاؤں گاؤں قصبہ قصبہ شہرشہر ، قریہ ، قریہ ، کھیت کھیت جائیں اور جمعیۃعلماء ہند کے اس بنیادی اصول کو پہنچائیں کہ اخوت ، ہمدردی ہی وہ پتوار ہے جو ملک کی کشتی کو ساحل سے لگاسکتی ہے ، انہوںنے کہا کہ دستورنے شہریوں کو جو حقوق اوراختیارات دیئے فرقہ پرستوںکی ٹولی نے اسے آگ لگادی ہے ، جمہوریت اورسیکولرزم کی روایت کو ختم کرنے کی درپردہ سازشیں ہورہی ہیں ، جس سے صورتحال انتہائی دھماکہ خیزہورہی ہے ، صبروتحمل اوررواداری کے جذبہ دلوں سے ختم ہوچکے ہیں یہاں تک کہ فرقہ پرستی اب اس انتہاکو پہنچ چکی ہے کہ اب ہر بات کو فرقہ پرستی کی نظرسے دیکھاجانے لگاہے ، اگر دوگاریوں میں ٹکرہوجائے تو اب ملک میں اسی معمولی بات پر قتل ہوجاتاہے ، انہوںنے کہا کہ آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کے دوران ہم نے اس بات کو خصوصیت کے ساتھ اٹھایاتھا اوران سے پوچھاتھا کہ آخرکس طاقت نے لوگوںمیں اس طرح کا تعصب اورنفرت بھردیا ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ اگراسے روکانہیں گیا تو ملک تباہ ہوجائے گامگر اس سلسلہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ، فلسطین میں جاری جنگ کے تناظرمیں انہوںنے کہا کہ فلسطین کے عوام اپنے ملک کے آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں اوریہ جنگ ایک دودن میں نہیں جیتی جاسکتی بلکہ اس کے لئے اسی طرح مسلسل قربانیاں دینی پڑے گی جس طرح ہم نے اپنے ملک کی آزادی کے لئے قربانیاں دی ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہی لوگ اول جلول باتیں کرتے ہیں جو فلسطین کی تاریخ سے واقف نہیں ہے اسرائیل کا کوئی وجودنہیں تھا لیکن سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ایک سازش کے تحت امریکہ ، برطانیہ اوردوسری طاقتوں نے یہودیوں کو وہاں لاکر آبادکیا ، انہوںنے آگے کہا کہ فرقہ پرستی نے حیرت انگیز طورپر عالمی شکل اختیارکرلی ہے اس کا افسوس ناک نظارہ اس جنگ میں دیکھنے کو مل رہاہے کہ جب مجبوروبے بس فلسطین کے عوام کے خلاف یہودی اورتمام عیسائی ممالک نہ صرف متحدہوچکے ہیں بلکہ کھل کر اسرائیل کی حمایت کررہے ہیں، بعض لوگ اسے عالمی جنگ بنانا چاہتے ہیں لیکن اگر سرزمین عرب کو میدان جنگ بنایا گیا توپھر مسلمانوںکی کوئی چیز محفوط نہیں رہ سکے گی ، مولانا مدنی نے کہا کہ وہ اسلام دشمن طاقتیں جو دنیا کو تباہ کرنا چاہتی ہیں اورمسلمانوں پر زمین تنگ کردینے کے درپے ہیں وہ چاہتی ہیں کہ اس جنگ کو عالمی جنگ بنادیا جائے ۔ اجلاس میں ارتدادکے فتنہ پر بھی مولانامدنی نے تفصیل سے گفتگوکی اورکہا کہ اس کی بنیادی وجہ مخلوق تعلیم ہے ، انہوںنے کہا کہ اگر کوئی مسلم لڑکا کسی غیر مسلم لڑکی سے ناجائزتعلق رکھتاہے تواسلام اس کو لعنت سمجھتاہے ، جہاں تک ہندومذہب کی بات ہے توان کے یہاں ذات پات کا تصوربہت مضبوط ہے ، مسلمانوں میں ایسا نہیں ہے لیکن ان کے یہاں ایک برادری کی دوسری برادری میں شادی نہیں ہوسکتی ، مگر اس کے باوجود حالیہ دنوںمیں مسلم لڑکیوںسے شادیوں کے افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں انہوںنے کہا کہ یہ بلاسبب نہیں ہے بلکہ فرقہ پرستوںکاایک ٹولہ منظم طورپر اس کی پشت پناہی کررہاہے کہ مسلم بچیوںکو مرتدبنایاجائے انہوںنے کہا کہ اس کے سدباب کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے الگ الگ اسکول قائم کریں جہاں ہمارے بچے بچیاں مذہبی اوراسلامی ماحول میں رہ کر تعلیم حاصل کرسکیں ، مدرسے اسلام کے وجودکے لئے ضروری ہے لیکن ہم اپنے بچوں کو عصری تعلیم سے محروم نہیں رکھ سکتے ۔ کیونکہ اگر ایسا کیا گیا توپھر وہ ملک کے قومی دھارے سے کٹ جائیںگے ، مدنی ہائی اسکول کاذکر کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ہم اسے انٹرکالج بنائیںگے ہماراپروگرام یہاں ایک لاء کالج قائم کرنے کا بھی ہے جہاں ہندومسلم کی تفریق کئے بغیر میرٹ والے بچوں کو مفت قانون کی تعلیم مہیاکی جائے گی ۔

Related posts

پہلے مرحلے میں 102 سیٹوں کی ووٹنگ اختتام پذیر

Siyasi Manzar

Bihar Special Status:وزیر اعظم مودی نے پھرکیوں وعدہ کیاتھا…، خصوصی درجہ کو لے کر بہار میں سیاست تیز تیجسوی یادو نے مرکز کو گھیر ا

Siyasi Manzar

باپ کے موبائل چھیننے پر 16 سالہ لڑکے نے خودکشی کر لی، بچوں کو اس طرح کےنشے سے بچائیں۔

Siyasi Manzar

Leave a Comment