Siyasi Manzar
Top News راجدھانی

16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’’لہرا دو ترنگا‘‘:ابھیجیت ڈپکے

سی جے پی کی پریس کانفرنس: انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف ملک گیر تحریک کا اعلان

نئی دہلی، 15 اکتوبر 2026

سی جے پی (Cockroach Janta Party) نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے 23 اکتوبر سے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات کو نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سی جے پی کے رہنما ابھیجیت ڈپکے نے مرکز کی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کی۔ اس موقع پر آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا اور اداکار پرکاش راج بھی موجود تھے۔

انتخابی فہرستوں کی نظرثانی پر اٹھائے سوالات

پریس کانفرنس کے دوران ابھیجیت ڈپکے نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل پر اعتراضات ظاہر کیے اور مطالبہ کیا کہ اس عمل کو ختم کیا جائے۔ ان کا الزام تھا کہ انتخابی فہرستوں سے بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے سے ووٹروں کے حقوق اور انتخابی عمل کی شفافیت کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔

ڈپکے نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے سے متعلق شواہد پیش کیے گئے ہیں اور پارٹی ان ریاستوں کا دورہ کرے گی جہاں آئندہ انتخابات ہونے والے ہیں، تاکہ ووٹر لسٹوں سے متعلق شکایات اور ثبوت جمع کیے جا سکیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔

تاہم، ووٹر لسٹوں سے حذف کیے گئے ناموں کی حتمی تعداد، اس کی وجوہات اور اس عمل کے انتخابی اثرات کا تعین متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے۔

23 اکتوبر سے ملک گیر تحریک

سی جے پی نے اعلان کیا کہ 23 اکتوبر سے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف تحریک کو وسیع کیا جائے گا۔ پارٹی کے مطابق کسانوں، دلتوں، طلبہ اور نوجوانوں کو اس مہم سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔

ڈپکے نے حکومت کی قانونی حیثیت پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ انتخابی عمل سے متعلق اٹھنے والے سوالات کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جا رہا۔ یہ الزامات پارٹی کے مؤقف کا حصہ ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ دستاویزات اور سرکاری موقف کا جائزہ ضروری ہے۔

دہلی میں احتجاج اور سکیورٹی کے انتظامات

یہ پریس کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دہلی میں سی جے پی کے احتجاج، پولیس کارروائیوں اور مظاہرین کی حراست کے معاملے پر سیاسی کشیدگی جاری ہے۔ پارٹی رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو حالیہ احتجاج کے بعد عدالتی تحویل میں بھیجا گیا ہے۔

دوسری جانب، 16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’’لہرا دو ترنگا‘‘ احتجاج کی اپیل کی گئی ہے۔ حکام نے متوقع مظاہرے کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے 16 اکتوبر کے مجوزہ احتجاج کو روکنے سے انکار کیا، تاہم امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری پولیس پر ہوگی۔

سی جے پی کا کہنا ہے کہ اس کی تحریک انتخابی شفافیت اور جمہوری حقوق سے متعلق سوالات کو اجاگر کرنے کے لیے ہے۔ اب اس معاملے میں اہم بات یہ ہوگی کہ انتخابی فہرستوں سے متعلق شکایات کا ازالہ شفاف طریقے سے ہو اور تمام فریق اپنے دعووں کے حق میں قابلِ تصدیق شواہد پیش کریں۔

Related posts

Jamal Siddiqui:صوفیاء کی حفاظت کرنا بی جے پی کا عزم:- جمال صدیقی

Siyasi Manzar

محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء کے 720ویں عرس شریف کے اختتام پر کابینہ کے وزیر عمران حسین نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی

Siyasi Manzar

ایرانی صدر ابرا ہیم رئیسی بااثر شخصیت کے مالک اور سادہ زندگی گزارتے تھے

Siyasi Manzar