ریاض سعودی عرب 6/ ستمبر 2026(پریس ریلیز) گزشتہ روز "رابطہ کمیٹی اردو جالیات، ریاض” کے بینر تلے جناب خورشید عالم (حفظہ اللہ) کے دولت کدے پر احباب جماعت کے ساتھ ایک پروقار اور پرکیف دینی و ملاقاتی نشست کا اہتمام کیا گیا، جو علم، دعوت وتبلیغ اور علمی ومنہجی بنیادوں کا ایک بہترین مجلس ثابت ہوئی۔ اس نشست کے مہمانانِ خصوصی جناب حافظ محمد طاہر حنیف سلفی، اور ابو الکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی (جامعہ اسلامیہ سنابل) کے روح رواں شیخ محمد رحمانی سنابلی مدنی (حفظہ اللہ) تھے۔
یہ نشست جماعت کے خیر خواہوں، ریاض کے متحرک علماء، طلباء، دین دوست تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ان افراد کا ایک حسین امتزاج تھی جو دینی و دعوتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے آئے ہیں۔
نمازِ عشاء کے فوراً بعد ہی احباب کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
مہمانِ خصوصی کے منتظر حاضرین نے اس وقت کو غنیمت جانتے ہوئے باہم علمی و فکری گفتگو کی۔
سعد بکر سلمہ اللہ نے اپنی خوبصورت اور ترتیل سے پر تلاوتِ قرآن مجید سے مجلس کو منور کیا۔
بعد ازاں محفل میں مجلس کے آداب اور کسی آنے والے کے استقبال میں کھڑے ہو کر مصافحہ کرنے سے متعلق شرعی نقطہ نظر جیسے اہم مسائل پر علمی تبادلہ خیال ہوا۔
دیکھتے ہی دیکھتے ضیوف کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہوا کہ کشادہ جگہ ہونے کے باوجود مجلس تنگ داماں نظر آنے لگی اور تشنگانِ علم فرش پر ہی براجمان ہو گئے۔ اس اثناء میں حاضرین کے لیے چائے و ناشتے کی ضیافت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
مہمانِ خصوصی شیخ محمد رحمانی سنابلی مدنی (حفظہ اللہ) کی شیخ حسان ابو المکرم کے ہمراہ تشریف آوری کے بعد مجلس کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
ڈاکٹر مصطفیٰ نے تمام حاضرین و مہمانانِ گرامی کا پرخلوص انداز میں استقبال کیا۔
شیخ طاہر حنیف سلفی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی حالیہ کاوشوں، جاری تعلیمی و دعوتی سرگرمیوں کے موجودہ حالات پر نہایت مختصر گفتگو کی۔
تاکہ حاضرین کو زیادہ سے زیادہ شیخ محمد رحمانی حفظہ اللہ کے کلمات سے استفادہ کا موقع مل سکے۔
شیخ محترم نے اللہ رب العزت کی حمد و ثناء کے بعد اپنی کسرِ نفسی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ "یہ مجلس علماء اور طلبہ سے پر ہے، جن میں سے اکثر علم و تقویٰ میں مجھ سے آگے ہیں”۔
اس کے بعد آپ نے موجودہ دور میں علماء کی ذمہ داریوں، سماجی اصلاح اور دعوتی چیلنجز کے حوالہ سے نہایت پرمغز اور جامع نکات پیش کیے۔
شیخ نے واضح کیا کہ موجودہ وقت ہندوستان میں دعوتی نقطہ نظر سے انتہائی اہم اور سازگار ہے، جس کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلفی دعوت اور منہجِ سلف کو حکمت و بصیرت کے ساتھ عام کیا جانا چاہیے۔
– آپ نے علماء کو سماجی اصلاح، امت کی صحیح رہنمائی اور ناگہانی آفات و دشوار حالات میں حکمتِ عملی اپنانے کی طرف توجہ دلائی۔
گفتگو کے دوران علامہ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کے ذریعہ قائم کردہ دہلی کے عظیم علمی مرکز، ابو الکلام آزاد اور جامعہ اسلامیہ سنابل کے تعلیمی و دعوتی خدمات کا خاص ذکر رہا۔ شیخ نے بتایا کہ ادارہ کا سالانہ تعلیمی بجٹ (20) کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے (تعمیری و فلاحی اخراجات اس کے علاوہ ہیں)۔ ادارے کے تحت ناگپور اور لکھنؤ میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے دو اسکولوں کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ یہ علمی ستارہ ہم سب کی توجہ اور تعاون کا مستحق ومنتظر ہے۔
خطاب کے بعد سوال و جواب کی نشست رہی جس میں شیخ محترم نے حاضرین کے سوالات کے نہایت تشفی بخش اور مدلل جوابات دیے۔
مجلس کے اختتام پر ڈاکٹر مصطفیٰ نے رب کریم کا شکر ادا کرتے ہوئے تمام ذمہ داران، مہمانانِ گرامی اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
تمام مہمانوں کے لیے ایک پر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں خاطر تواضع کی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔
عشائیہ کے بعد شیخ کے محبین کے ساتھ ایک مختصر اور غیر رسمی بیٹھک ہوئی جس میں عام سماجی حالات، مشورے اور تبادلہ خیالات کا سلسلہ جاری رہا۔ دیر رات تقریباً ۱۱:۳۰ بجے یہ مبارک مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
اس بابرکت اور کامیاب پروگرام کی سرگرمی میں مہمانانِ خصوصی، طلباء جامعة الامام وجامعة الملك سعود کے علاوہ مندرجہ ذیل احباب اور علماء کرام پیش پیش رہے:
ڈاکٹر معراج عالم تیمی مدنی
شیخ آفتاب عالم مدنی
شیخ انعام الحق مبارک پوری
شیخ فواز محمد إسماعيل
شیخ محمد ذاکر امیرالحق مدنی
شیخ عطاء الرحمن مدنی
شیخ حسان ابو المکرم
شیخ فیاض احمد تیمی
شیخ خالد محمد الیاس
اور احباب اراکین رابطہ کمیٹی اردو جالیات ریاض
جلال محمدی نثار احمد
اللہ تعالیٰ ایسی علمی و دعوتی مجالس بار بار نصیب فرمائے، ہمیں علمِ نافع اور عملِ صالح کی توفیق دے، ہمارے ایمان میں اضافہ فرمائے اور اس مجلس کے مقیمین و ذمے داران کو جزاء خیر سے نوازے، آمین۔



