Siyasi Manzar
Blog مضامین

’’ایک چادر میلی سی ‘‘کا نامور ناول نگار، راجندر سنگھ بیدی

 

 

 

 

انجینئر محمود اقبال 
یکم ستمبر، اردو ادب کے نامور افسانہ نگار اور ناول نگار راجندر سنگھ بیدی کا یوم پیدائش ہے۔01ستمبر،2015ء کو وہ سیالکوٹ،پنجاب (موجودہ پاکستان)میں پیدا ہوئے تھے۔بیدی نے ابتدائی تعلیم لاہور کینٹونمنٹ کے اسکول میں حاصل کی ۔ا س کے بعد خالصہ اسکول ، ایس،بی،بی،ایس ،لاہور سے 1931ء میں میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میںپاس کیا۔اس کے بعد ڈی ،اے، وی، کالج لاہور میں داخلہ لیا اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا اور بس! اس کے بعد وہ مزید اعلی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہے۔وجہ تھی گھریلو معاشی تنگدستی۔ ماں بار باربیمار رہنے لگی تھی،اور 1933ء میں ماں کا انتقال بھی ہوگیا۔والد نے بھی ملازمت چھوڑدی تھی۔خاندان کی معاشی ذمہ داریاں نوجوان بیدی پر آگریں۔ مجبوراًبیدی کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر1933 ء میںلاہور پوسٹ آفس میں کلرک کی ملازمت اختیار کرنی پڑی تھی۔ قریب 8سال تک انہوں نے پوسٹ آفس میںنوکری کی۔لیکن،بیدی کی ادبی صلاحیتیں کیسے ابھریں؟وہ بھی بغیر کسی اعلیٰ تعلیم و ڈگری کے؟ایک تو گھر کا ماحول ادبی تھا،دوسرے ان کے والد ہیرا سنگھ اردو اور فارسی ادب سے بہت لگاؤ رکھتے تھے۔اپنے بچوں کو اچھی اچھی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ بیدی، بچپن ہی سے مطالعہ کے شوقین ہوگئے تھے۔ لاہور کا ادبی ماحول بھی ان کے لئے سازگار بنا ،ادبی کلا کو جلا ملی اور انکی صلاحیتوں میں نکھار آیا۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتے،ادبی نشستوں میں شرکت کرتے اور لکھتے رہے۔ ڈاک خانہ میں ملازمت کے دوران انہوں نے اردو، پنجابی اور انگریزی میں نظمیں اور کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں۔اسی دور میں انکی کتاب ’’مہارانی کا تحفہ‘‘، نے انہیں نمایاں مقام عطا کیا اور ادبی حلقوں میں انکی پہچان بنی۔1947ء میں بیدی نے لاہور سے جموں ہجرت کی تھی جبکہ ان کا خاندان’’روپڑ‘‘ منتقل ہوگیا تھا۔جموں میں بیدی نے ’’ جموں ریڈیو اسٹیشن‘‘ میں کام شروع کیا اور بعد میں وہ ڈائیریکٹر کے عہدہ پر بھی فائز ہوئے ۔ اس کے بعدوہاں سے وہ1949ء میں دہلی ہوتے ہوئے اس وقت کی ’’بمبئی‘‘ کی راہ پکڑی اور وہیں سے آ خری دم تک اردو ادب کو فیضیاب کرتے رہے۔

 

بیدی کا سب سے مشہور ناولٹ ’’ایک چادر میلی سی‘‘ ہے، جو 1962ء میں شائع ہوا۔ اس میں پنجاب کے دیہی معاشرہ ، عورت کی زندگی، رسم و رواج، غربت اور انسانی جذبات کی نہایت گہری عکاسی دیکھنے اورپڑھنے کو ملتی ہے۔’’ایک چادر میلی سی‘‘ کے لئے انہیں 1965ء میںمعتبر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا،جو ادبی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ساہتیہ اکادمی نے بعد میں اس شاہکار ناول کا انگریزی ترجمہ (Ordained by Fate)بھی شائع کیا تھا۔ آگے چل کر 1986ء میں اسی نام سے ’’ایک چادر میلی سی‘‘ہندی فلم بھی بنی ۔اگر راجندر سنگھ بیدی کی صرف ایک تخلیق منتخب کرنی ہو تو ’’ایک چادر میلی سی‘‘ کا نام سب سے پہلے آئے گا۔یہ ناول نہیں،بلکہ ناولٹ ہے۔جس کا پس منظر اور کینویس تقسیم ہندسے پہلے کے دیہی پنجاب کے معاشرہ سے ہے۔ اس میں عورت کی سماجی حیثیت، رسم و رواج، جنس، غربت اور خاندانی نظام کو انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار’’ رانو‘‘ ہے۔ حالات اسے ایک ایسے رشتے کو قبول کرنے پر مجبور کرتے ہیں جسے عام حالات میں وہ کبھی قبول نہ کرتی ۔ یہاں ’’چادر‘‘ سے مرادمحض ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں، بلکہ عورت کی عزت، سماجی ملکیت اور معاشرتی بندھن کی علامت کے طور پرہے۔
پنجاب کا مطلب؟پانچ دریاؤں کی سر زمیں۔اور وہ پانچ دریا ہیں،دریائے جہلم،دریائے چناب، دریائے راوی،دریائے بیاس اور دریائے ستلج۔پنجاب کی زمیںپانچ دریاؤں سے سر سبز و شاداب ہے۔میدانی علاقہ ہے۔اسکی دیہی زندگی اپنی سادگی،فطری حسن،اور خلوص کے باعث منفرد مقام رکھتی ہے۔سرسبز کھیت،لہلہاتی فصلیں،نہریں،آم و پیپل کے درخت،سونی سونی مٹّی کی خوشبواور چرند پرند کی چہچہاٹیںاسکے حسن کو دوبالا کرتی ہیں۔کیا کبھی آپ کا پنجاب سے گزر ہوا ہے؟اردو کی نامور مصنفہ قرّۃ العین حیدر کی’’الہڑ دوشیزہ‘‘تھی اور بیدی کی تحریروں میں ’’پنجابی کڑی‘‘کی چاشنی پڑھنے کو ملتی ہے۔اگر کبھی پنجاب سے گزر نہ ہوا ہو تو فلم ’’جب وی میٹ‘‘ہی دیکھ لیں،جس میں کرینہ کپور ،شاہد کپور کے ساتھ پنجابی کڑی بن کر پنجابی کھیتوں میں خوب جلوے بکھیر رہی تھیں۔دھان کے کھیت میں پرندوں کو بھگانے والے مچان پر بیٹھ کر خوب مزے لے رہی تھی۔اسی طرح کی ’’کڑیاں‘‘بیدی کی تحریروں میں جان ڈالتی ہیں۔’’ایک چادر میلی سی‘‘ میں ’’رانو‘‘ تھی اور ’’جب وی میٹ‘‘ (Jab we Met)میں کرینہ کپور ’’گیت‘‘ بن کر غضب ڈھارہی تھی۔مگر’،رانو‘ اور ’گیت ‘میں زمین آسمان کا فرق ہے۔رانو مجبور تھی،مگر گیت فریفتہ تھی۔کہانی شروع ہوتی ہے شاہد کپور بنا تھا’آدتیہ‘،جسکی ماں کسی کے عشق میں مبتلاء ہوکر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے ، اور بیچارہ معصوم شاہد یہ صدمہ سہن نہیں کر پاتا ہے۔اطلاع ملتے ہی اسمارٹ شاہد اپنے آفس سے نکل پڑتا ہے،پہلے نکٹائی نکال پھینکتا ہے آفس کی سیڑھیوں پر،پھر جدھر سینگ سمائے سڑکیں ناپنے لگ جاتا ہے،ٹائی کے بعدکوٹ اور پھر قیمتی چشمہ اور گھڑی بھی سڑک پر پھینکتا ہوا، ایک ٹرین پکڑتا ہے اور بوگی میںخاموش،پریشان اور گم سم بیٹھا دیوانہ کی طرح سوچتا رہتا ہے۔تب،’گیت‘نازل ہوتی ہے جو خود بھی گھر سے بھاگ نکلی تھی۔ٹرین کی بوگی میں دونوں کا ’’میٹ‘ (met)ہوتا ہے۔(ملن و ملاپ نہیں،ملاقات)۔وہ بھی کیا خوب؟کرینہ جب بولنا شروع کرتی ہے تو بولتی ہی جاتی ہے،کیا بولی تھی؟میں بھٹنڈہ کی’ سکھنی ‘ہوں۔مطلب بھٹنڈہ کی رہنے والی سکھ لڑکی۔اور۔۔۔؟’’بچپن سے ہی نا مجھے شادی کرنے کا بہت کریز ہے،بائی گاڈ‘‘شاہد اپنا دکھڑا سناتا ہے اور کرینہ’کڑی‘ کھل کھلاکر ہنس پڑتی ہے۔ارے یار،وہ ’محبت میں گرفتار ہے‘۔اور آدتیہ کی پریشانی اور پشیمانی ہوا ہوا ہو جاتی ہے۔ ہمیں جگر مرادآبادی کی یاد آرہی ہے۔
اک لفظ محبت کا ادنی یہ فسانہ ہے
سِمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
بیدی کی تحریوں میں نا،اسی طرح کی میٹھی میٹھی مٹی کی خوشبو کا احساس ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں نہ کہ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘۔ ایک حساس شاعر اور ادیب کو ’نمی‘ نظر آتی ہے۔لیکن، چند آنکھوں کے اندھے مٹی کی خوشبو ؤںمیں سے بھی ’کمی‘کریدتے رہتے ہیں۔ راجندر سنگھ بیدی نہ صرف اردو کے ایک ممتاز افسانہ نگاروناول نگار تھے بلکہ ایک اچھے ڈرامہ نویس، مکالمہ نگار اور فلمی ہدایت کار بھی تھے۔ یوں سمجھئے شاعر کم، افسانہ نگار زیادہ تھے۔مگر انکی تحریروں میں شاعری کی نغمگی ،سلاست او ررومانیت بھی رواں دواں نظر آتی ہے۔انہیں جدید اردو افسانوں کے اہم ترین ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ سعادت حسن منٹو، کرشن چندر اور عصمت چغتائی کے ہم عصر تھے۔بیدی، کو عام طور پر’’شاعر‘‘ نہیں بلکہ ’افسانہ نگار‘‘ کہا جاتا ہے۔لیکن جو بھی اشعار انہوں نے کہے،وہ بھی لاجواب ہیں۔اس شعر پر سر دھنئے گا!
مسکرانا کبھی نہ راس آیا
ہر ہنسی ایک واردات بنی
بیدی کا ایک اور معروف شعر ہے!
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر
جس کے ہوتے ہوئے ،ہوتے تھے زمانے میرے
ان کی اصل شہرت اردو نثر، خصوصاً افسانوں میں پنہاں ہے۔ تاہم ان کی نثر میں شعری کیفیت اتنی نمایاں ہے کہ خود بیدی نے افسانے اور شعر کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے افسانہ کو ایک طرح کی طویل بحر کا شعر قرار دیا تھا۔’’افسانہ اور شعر میں کوئی فر ق نہیں ہے،ہے تو صرف اتنا کہ شعر چھوٹی بحر میں ہوتا ہے اور افسانہ ایک ایسی بحر میں جو افسانہ کے شروع سے لیکر آخر تک چلتی ہے‘‘۔ ویسے آپس کی بات ہے،اگر کوئی برا نہ مانے۔بیدی جی نے اردو لکھاریوں کو لیکر ایک بہت بڑی بات بھی کہی تھی جو ہمارے دل کو لگ گئی ہے۔ہم تو تھوڑا بہت شوقیہ لکھ لیتے ہیں۔مگرجو واقعی میںاردو ادب کے مستقل کالم نگار یا لکھاری ہیں،پتہ نہیں وہ بیدی کے اس حسّ مزاح پر اپنا سر دھنیں گے یا اپنا سر پیٹیں گے؟ بیدی نے کیا کہا تھا؟’’کوئی فنکار اپنے پیشے سے روٹیاں نہیں نکال سکا،لیکھک کو ساتھ میں پیاز کی دکان ضرور کھولنی چاہئے‘‘۔ مزا آیا آپ کو؟بیچاری اردو اور ہم جیسے اردو میں لکھنے والے بیچارے؟اور اردو اخبار؟سوری،بیچاری اردو کیوں؟ ہمیں ’’پیاری اردو‘‘کہنا چاہئے۔ بیدی جی،سن رہے ہیں نا آپ؟پیاز کی دکان کھول لیں ہم بھی ؟اردو صحافت کے لئے یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے!
بیدی کے معروف افسانوی مجموعوں میں دانہ و دام،گرہن، کوکھ جلی، اپنے دکھ مجھے دے دو، ہاتھ ہمارے قلم ہوئے اور مکتی بودھ شامل ہیں۔ بیدی کا کمال یہ تھا کہ وہ عام اور معمولی نظر آنے والے انسانوں کے اندر چھپی ہوئی نفسیاتی کشمکش، محرومی، محبت، جنس، سماجی جبر اور انسانی ہمدردی کو بڑی گہرائی سے پیش کرتے تھے۔ان کے ہاں عورت کے مسائل اور ہندوستانی، خصوصاً پنجابی معاشرے کی تہذیبی زندگی کا عکس بہت نمایاں نظر آتاہے۔ ان کی زبان سادہ ہونے کے باوجود انتہائی شاعرانہ، تہہ دار اور علامتی ہے ۔ تقسیم ہند کے بعد بیدی جی نے بمبئی کا رخ کیا تھا،وہاں وہ ہندی فلموں کے لیے اسکرپٹ، کہانیاں اور مکالمے لکھنے لگ گئے تھے ۔ ان کی نمایاں فلموں میںمدھومتیانورا دھا،انوپما، ستیہ کام اورابھیما ن شا مل ہیں۔ وہ خود بھی فلمی ہدایت کار بنے اور دستک (1970ء) جیسی اہم فلم بھی بنائی تھی۔ اب ہم راجندر سنگھ بیدی کے چند اہم افسانوں اور ان کے ادبی مقام کو ذرا تفصیل سے پرکھتے ہیں۔ بیدی جی جدید اردو افسانوں کے ان چند بڑے ناموں میں سے ایک ہیں ، جن کے ساتھ عموماً منٹو، واجدہ تبسّم،کرشن چندر اور عصمت چغتائی کا ذکر خیر بھی آتاہے۔منٹو اور واجدہ تبسّم کے کچھ افسانے ایسے بھی ہیں،جنہیں پڑھ کر وقت پر نہ سہی،کچھ وقت بعد نوجوان، جوان ضرور ہوجاتے تھے۔مثال کے طور پر واجدہ تبسّم کا ’’ذرا ہور اوپر‘‘۔مگر آج کے دور میں افسانے،افسانہ بن گئے ہیں۔نئی نسلیں وقت سے پہلے ہی اسمارٹ فون دیکھ دیکھ کر جوان ہوتی چلی جارہی ہے؟طرفہ تماشہ کہ سرکارنے شادی کی عمر18 سے بڑھاکر 22کردی ہے۔سماجی برائی بڑھے گی یا کم ہوگی؟بہتر تھا کہ سرکار بھی ایک مرتبہ’’ ایک چادر میلی سی‘ ‘پڑھ لیتی؟بیدی کے چند اہم افسانوںمیںلاجونتی،تقسیمِ ہند کے پس منظر میں لکھی گئی اس کہانی میں لاجونتی اپنے شوہر سندر لال سے محبت کرتی ہے، لیکن فسادات کے دوران اغوا ہو کر پاکستان پہنچ جاتی ہے۔ بعد میں مہاجرین کے تبادلے کے ذریعے واپس آتی ہے۔ مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندر لال، جو پہلے اسے مارتا پیٹتا تھا، اب اس کے ساتھ غیر معمولی نرمی برتنے لگتا ہے، مگر اس نرمی میں بھی معاشرتی تعصب اور عورت کی ’’پاکیزگی‘‘ کا سوال چھپا ہوا ہے۔ یہ افسانہ دراصل صرف تقسیم کا افسانہ نہیں بلکہ عورت، مردانہ ذہنیت، سماجی اخلاق اور نام نہاد عزت پر گہرا سوال بھی کھڑا کرتا ہے ۔ گرم کوٹ،بیدی کے ابتدائی اور نہایت مقبول افسانوں میں سے ایک ہے۔ ایک غریب آدمی کو سردی سے بچنے کے لیے گرم کوٹ کی ضرورت ہے، مگر گھر کے دوسرے اخراجات کے سامنے اس کی اپنی ضرورت ہمیشہ پیچھے رہ جاتی ہے۔ آخر میں اس کی بیوی اپنے اور بچوں کی ضروریات قربان کرکے شوہر کے لیے کوٹ کا کپڑا خرید لاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ ہے، لیکن بیدی اسی معمولی واقعے میں غربت، ازدواجی محبت، قربانی اور گھریلو زندگی کی تلخی دکھا دیتے ہیں۔اپنے دکھ مجھے دے دو،یہ بھی بیدی کا ایک اہم افسانہ ہے اور اسی نام سے ان کا افسانوی مجموعہ بھی شائع ہوا۔ اس میں بیدی انسانی دکھ کو محض باہر سے دیکھنے کے بجائے کرداروں کے اندر اتر کر محسوس کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں انسانی ہمدردی ایک بنیادی قدر مشترک ہے۔ کوکھ جلی،اس افسانے میں عورت کی محرومی اور معاشرتی جبر کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بیدی خصوصاً ،ان عورتوں کے دکھ کو نمایاں کرتے ہیں، جنہیں سماج کے بنائے ہوئے اصولوں کے باعث اپنی زندگی کے بنیادی فیصلوں کا اختیار نہیں مل پاتا ہے ۔
بیدی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بڑے واقعات سے زیادہ چھوٹے انسانی واقعات میں زندگی کی بڑی حقیقتیں تلاش کرتے ہیں۔منٹو کے ہاں حقیقت نگاری اکثر تیز، بے باک اور چونکا دینے والی صورت اختیار کرتی ہے، جبکہ بیدی کی حقیقت نگاری نسبتاً دردمند، نفسیاتی اور تہہ دار ہے۔ بیدی کردار کو صرف مجرم یا مظلوم بنا کر نہیں چھوڑتے بلکہ اس کے اندر موجود انسانی کمزوریوں اور مجبوریوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔بیدی صرف ادیب نہیں تھے، وہ کہانی نویس، مکالمہ نگار، اسکرین رائٹر، ہدایت کار اور پروڈیوسر بھی رہے۔ انہوں نے مدھومتی، دیوداس، مرزا غالب، ستیہ کام وغیرہ سے وابستہ رہ کر ہندی سنیما پر بھی اثر ڈالا تھا۔ 1970ء میں انہوں نے اپنی فلم ’’دستک‘‘ کی ہدایت کاری بھی دی تھی۔ انہیں فلمی خدمات کے لیے فلم فیئر ایوارڈز بھی ملے ہیںاور 1972ء میںقومی پدم شری ایواڈ سے بھی انہیں نوازا گیا تھا۔راجندر سنگھ بیدی کی شادی 1934ء میں، صرف 19 سال کی عمر میں، ستونت کور سے ہوئی تھی۔ بیدی اور ستونت کور کے پانچ بچے ہیں۔ پریم بیدی ، ان کا انتقال کم عمری ہی میںپیدائش کے تقریباً ایک سال کے اندر ہوگیا تھا۔ نریندر بیدی ، معروف فلم ڈائریکٹر، رائٹر اور پروڈیوسر ہیں۔راج کمار بیدی ، اسکرپٹ رائٹر ہیں۔سرندر کور بیدی اورپرمیندر کور بیدی ہیں۔ بیٹے نریندر بیدی نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فلمی دنیا اختیار کی اور ’جوانی دیوانی‘، ’بے نام‘، ’رفو چکر‘، ’عدالت‘ اور ’صنم تیری قسم‘ جیسی فلموں کی ہدایت کاری بھی دی ۔ مگر ، نریندر بیدی کا انتقال 21 اکتوبر، 1982ء کو، صرف 45 سال کی چھوٹی سی عمر میں ہی ہوگیا تھا۔ یہ سانحہ راجندر سنگھ بیدی کے لیے بہت بڑا صدمہ ثابت ہوا ۔ نریندر بیدی کے انتقال کے کچھ عرصے بعد بیدی کی اہلیہ بھی وفات پا گئیں۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ بیدی کی ذاتی زندگی شدید تنہائی، غم اور بیماریوں سے متاثر ہوئی۔ 1982ء میں انہیں فالج کا حملہ ہوا اور بعد میں وہ کینسر میں بھی مبتلا ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ان کی زندگی کے آخری برس انتہائی کرب اوربے بسی میں گزرے اور11 نومبر،1984ء میں ممبئی میں ان کا انتقال ہوگیا۔

Related posts

عظمت ِ والدین قرآن وسنت کی روشنی میں

Siyasi Manzar

جب ظفرآغا نے مجھے فون کیا

Siyasi Manzar

جہیز کوئی رواج نہیں،ایک بدنما داغ ہے

Siyasi Manzar