Siyasi Manzar
مضامین

ابوالفاخرزین العابدین عبدالکلام”عوامی صدر“میزائل مین آف انڈیاکی سالگرہ15اکتوبر

انجینئر محمود اقبال
(پہلی قسط)

2ہزار 500 سو کتابیں،6 پینٹس،6شلوار قمیص، 4شرٹس،3 سوٹس،ایک گھڑی،ایک لیپ ٹاپ اور یک سی ڈی پلئیرجس میں وہ گانے سنا کرتے تھے۔46اعزازی ڈگریاں،ایک پدما وبھوشن،ایک پدما بھوشن،ایک بھارت رتن۔بس؟قصرِ صدارت میں وہ صرف2 سوٹ کیسس کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور نکلتے وقت یہی ان کا سرما یہ حیات تھا۔نہ ہی ذاتی گھر،نہ ہی کوئی زمین وجائداد اور نہ ہی کوئی فارم ہاؤز وغیرہ؟ یہی وہ متاع زندگی ہے،جس کو ”عوامی صدر“نے دنیا سے گزرتے ہوئے اپنے پیچھے چھوڑا تھا۔جی،صحیح سمجھے آپ! ہم بات کر رہے ہیں اس ”عوامی صدر“سابق صدرِ جمہوریہ ہند اور ”میزائل مین آف انڈیا“کی جسے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام (Avul Pakir Jainulabdeen Abdul Kalam)کے نام سے جانتی پہچانتی ہے۔(نوٹ:آفیشیل ریکارڈز میں صدرِ محترم کا نام انہیں الفاظ میں لکھا ہے، ورنہ اردو میں،جین،معنی زین)۔ہاں،یادآیا،سوری،دو، تین لاکھ رروپئے بینک اکاؤنٹ میں بھی جو پڑے ہوئے تھے؟ بات اس دور کی ہے،جب وہ حیدرآباد میں ”ڈی آر ڈی او“کے ڈائیریکٹر ہوا کرتے تھے اور قریب کے ایک بینک میں ان کا ایک شخصی اکاؤنٹ بھی تھا۔دورِ صدارت کے آخری دنوں کی بات ہے۔ان کے بڑے بھائی ان سے ملنے آئے تھے۔پتہ نہیں کیا سوچ کر وہ بھائی کی کچھ مالی مدد کرنا چاہ رہے تھے یا آخری سانسوں کا اندیشہ انہیں دامن گیر تھا؟ انہیں یاد آیا کہ حیدرآباد کی برانچ میں زمانہ سے کچھ رقم پڑی ہوئی ہے، جنہیں شاید وہ تقریباً بھول ہی چکے تھے؟جب انہوں نے اسے نکالنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ بیلنس تو ”صفر“ہے؟ وہ اچھنبے میں رہ گئے کہ ایسے کیسے ہوسکتا ہے؟اس وقت آنجہانی اٹل بہاری واجپائی جی وزیراعظم تھے۔ ایک ملاقات میں صدر محترم نے اس واقعہ کا سرسری انداز میں اٹل جی سے ذکر کیا۔اٹل جی کے کان کھڑے ہوگئے۔پھر کیا تھا؟اوپر سے نیچے تک پوری بینک بیوروکریسی حرکت میں آگئی تھی۔ تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ ایک بیچارہ کیشئیر،محترم صدر کی جعلی دستخط کرکے ان کا بچا کچا ”دو تین لاکھ کا سرمایہ حیات“کبھی کا ڈکار چکا تھا۔ شاید اسے بھی اندازہ نہیں تھاکہ اتنی ”چھوٹی“ سی رقم صدرمحترم کو یاد رہے گی یا کبھی انہیں اس کی ضرورت پڑے گی؟ بعد میں اس بیچارے کیشئیر کا جو حشر ہوا سو ہوا،مگر ایک سبق آموز کہانی وتاریخ ضرور رقم ہوگئی۔

آج ناشتہ میں کیا ہے؟گرم گرم گیہوں کے پراٹھے،پھلکے،بھنے بھنے کلیجی گردے کے ساتھ یا کھچڑی کھٹّہ مع پاپڑ و اچار؟یا کچھ نہیں تو نلّی نہاری یا پائے شریف مع نان کی روٹی یا شیرمال؟یہ مینو آپ کا اورہمارا ہوسکتا ہے۔لیکن،عوامی صدر کا نہیں۔وہ خالص ”ویج“اور سادہ غذا لیتے تھے۔نہ صرف ناشتہ میں بلکہ لنچ اور ڈنر میں بھی۔ساؤتھ انڈین خالص ویج تھالی ان کی محبوب غذا تھی۔ہاں،منہ کا مزا بدلنے کے لئے وہ کبھی کبھا ر کیرلم(کیرلہ)کی ڈشیں بھی پسند کرتے تھے،مگر صرف ویج۔کڑوے کریلے کی ترکاری بھی صدر صاحب کو بہت پسند تھی۔ قصرِ صدارت میں ان کے لئے خصوصی طور پر کریلے کی مختلف ڈشیس تیّار کی جاتی تھیں۔جب بات چل ہی رہی ہے لذّتِ کام و دہن کی تو ایک اور”پارٹی‘‘کا ذکرِ خیر ہوجائے؟جس کی خبر پڑھ کر ہمیں پہلے جذباتی انداز میں بہت بر ا محسوس ہوا تھا۔لیکن،اب جدّتی انداز میں صدرِ محترم کا فیصلہ صحیح محسوس ہوتا ہے۔ہرسال رمضان کے مہینہ میں راشٹرپتی بھون میں روایتی ”افطار پارٹی“ کا سلسلہ انہوں نے موقوف کردیا تھا۔ زما نہ سے چلی آرہی روایت کو انہوں نے ایک لخت ختم کردیا تھا۔اچھا ہی کیا تھا نا؟صدرِ ہند کی قیام گاہ قومی اثاثہ ہے نہ کہ مغلوں کا ”دربارِ طعام و عام۔ٹھیک؟ویسے بھی نام نہاد ”افطار پارٹی“ میں قریب آدھے پیٹ بھرے بڑے بڑے مسلم سیاستداں اور بقیہ غیر روزہ دار مدعوین ہوا کرتے تھے،اور ہم جیسے غریبوں کی رال ٹپکتی تھی کہ کاش ہمیں بھی موقع مل جائے کبھی؟ بغیر دعوت کے سہی؟انگور کھٹّے ہیں؟مگر، ہم امیر مینائی کو یاد کرکے دل کو تسلّی دے لیتے تھے کہ!
کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے
خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے
آج کا اخبار پڑھا آپ نے؟سوری،جب ا ٓپ ہمارامضمون پڑھ ہی رہے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ اخبار ہی میں پڑھ رہے ہونگے؟بات یوں ہے کہ عبدالکلام صاحب بچپن میں لوگوں کو اخبار بھی پڑھوایا کرتے تھے۔ایک تو عام پبلک کو آسانی سے صبح سویرے گھر پر اخبار پڑھنے کو مل جایا کرتا تھا،دوسرے کلام صاحب کی پاکٹ منی اور گھریلو اخراجات بھی تھوڑے بہت پورے ہوجایا کرتے تھے۔روز صبح سویرے سیکل پر سوار ہوکر کلام صاحب رامیشورم،ٹامل ناڈو کی گلی کوچوں اور سڑکوں پر اخبار بیچنے نکل جایا کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے کزن ایک اخبار کے سب ایجنٹ تھے۔ بعد میں جب کزن سیلون (موجودہ سری لنکا) چلے گئے تو کلام صاحب نے اخبار کی تقسیم کی ذمہ داری خود سنبھال لی تھی۔ان کا معمول تھا کہ،اسکول، ٹیوشن، اخبار تقسیم کرنا،اور پھر عربی اسکول جانا۔اخبار پڑھنے کی وجہ سے انہیں دنیا میں ہونے والے واقعات خصوصاً، دوسری جنگِ عظیم اور مختلف طیاروں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا تھا۔ اسی زمانے میں ان کے اندر”ہوائی جہاز“اور ”پرواز“کے بارے میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہوئی تھی۔تمہید کچھ لمبی تو نہیں ہوگئی؟لیکن، ضروری بھی تو تھی نا؟ اگر آپ کا موڈ فریش ہوگیا ہو تواب آتے ہیں سنجیدگی سے اصل مضمون پر۔وہ بھی ایک نئے انداز میں،نئی ترتیب کے ساتھ۔ڈاکٹر کلام کی زندگی کوجانتے ہیں، پہلے دن سے آخری دن تک،دن بدن،ہفتہ بہ ہفتہ،ماہ بہ ماہ اور سال بہ سال۔تاکہ انکی پوری بے مثال شخصیت ہماری نظروں سے کسی فلمی کہانی کی طرح نظروں کے سامنے سے گزرتی رہے۔بقول پروین شاکر ؎
میں تجھ کو دیکھ سکوں آخری بصارت تک
نظر کے سامنے بس ایک سماں گزرتا رہے
ابوالفاخرزین العابدین عبدالکلام15 اکتوبر، 1931ء کو تمل ناڈو کے جزیرہ رامیشورم میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد زین العابدین، مقامی طور پر سمندری ماہی گیر اور ملّاح کے پیشہ سے وابستہ تھے۔وہ ”رامیشورم“سے”دھانوش کوڈی“ تک مسافروں کو کشتی میں سوار کرکے لانے لیجانے کا کام کرتے تھے۔ ان کی والدہ”آشیما“ ایک گھریلو خاتون تھیں۔عبدالکلام کا تعلق ایک سادہ اور محدود وسائل رکھنے والے خاندان سے تھا۔ ان کے بچپن میں آسائشیں نہیں تھیں، لیکن خاندانی تربیت نے،کلام میں محنت، دیانت، نظم و ضبط اور دوسروں کی خدمت کی قدریں پیدا کیں تھیں۔ڈاکٹر کلام نے بذاتِ خود اپنی ایک تقریر میں اپنے گھر کے ماحول کو سادگی، روحانیت اور مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کا ماحول قرار دیا تھا۔ ان کے والد محترم کے ہندو اور عیسائی دوست بھی تھے، جبکہ ان کی والدہ کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پڑوسی خاندانوں سے اچھے تعلقات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدالکلام کی شخصیت میں مذہبی عقیدے کے ساتھ ساتھ بین المذاہب احترام اور رواداری نمایاں نظر آتی ہے۔

عبدالکلام نے اپنی ابتدائی زندگی گلی کوچوں اورسڑکوں پراخبار فروخت کرکے شروع کی تھی۔ اپنے ماں باپ کی مالی دشواریوں کو جھیلنے میں اپنا ہاتھ بٹایا تھا۔ اسکول کے زمانے ہی سے انہیں ریاضی اور سائنس میں خاص دلچسپی تھی۔ان کی شخصیت پر ان کے اساتذہ کا گہرا اثر پڑا تھا۔ خصوصاً، ان کے سائنس کے استاد”سِواسبرامینیا ائیر“ (Sivasubramania Iyer) نے انہیں سائنس اور پرواز کے موضوعات کی طرف راغب کیا تھا۔ایک مرتبہ وہی استاد انہیں سمندر کے کنارے لے گئے اور پرندوں کے اڑنے کا مشاہدہ کروایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس عملی تجربے نے ان کے اندر پرواز اور ”ائیروناٹکس“(Aeronautics)کا شوق مزید مضبوط کر دیا تھا۔ بعد میں عبدالکلام نے خود تسلیم کیا کہ ان کی زندگی میں اساتذہ نے بنیادی کردار ادا کیا۔وہ اکثر نوجوانوں سے کہتے تھے کہ ”ایک اچھا استاد طالب علم کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے“۔عبدالکلام نے رامیشورم اور راماناتھاپورم میں ابتدائی و ثانوی تعلیم حاصل کی تھی۔پہلا اسکول تھا”شوارٹز ھائر سکنڈری اسکول“، راما نا تھا پورم،(Schwartz Higher Secondary School)۔اس کے بعدانہوں نے”سینٹ جوزف کالج،تروچرا پلّی“ (St. Joseph’s College, Tiruchirappalli) سے طبیعیات (Physics) کی تعلیم حاصل کی اور 1954ء میں گریجویشن کیا۔اس کے بعد انہوں نے”مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی“ (Madras Institute of Technology) سے ایروناٹیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔عبدالکلام نے اپنے والد کے بارے میں ایک واقعہ سنایا ہے۔ایک شخص ان کے گھر قیمتی تحائف لے کر آیا۔ ان کے والد نے عبدالکلام کو سمجھایا کہ بغیر اجازت کسی کا تحفہ قبول نہیں کرنا چاہیے۔بعد میں عبدالکلام نے اس واقعے کو اپنے لئے اخلاقی تربیت کا اہم سبق قرار دیا تھا۔ یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ ان کے والد نے بچپن ہی سے انہیں ایمان داری اور اصول پسندی کی تربیت دی تھی۔عبدالکلام کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ان کا بچپن ایک ایسے ماحول میں گزرا جہاں مسلمان، ہندو اور عیسائی خاندانوں کے درمیان قریبی تعلقات تھے۔انہوں نے خود اپنے بچپن کے ماحول کا ذکر کرتے ہوئے اپنے والد کے دوستوں میں ایک ہندو مندر کے پجاری اور ایک عیسائی پادری کا ذکر کیا ہے۔ شایدیہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کو اکثر ہندوستان کی کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی روایت کی ایک نمایاں مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالکلام نے کبھی شادی نہیں کی، اسی لئے ان کی اپنی کوئی اولاد بھی نہیں ہے۔ان کی ذاتی زندگی بہت سادہ تھی۔وہ اپنی شہرت اور عہدے کے باوجود سادگی کے لئے مشہور رہے۔ان کی زندگی میں کتابیں، سائنس، طلبہ، موسیقی اور تحریر اہم چیزیں تھیں۔سابق صدر جمہوریہ ہندپرنب مکھرجی نے عبدالکلام کی یاد میں لکھا کہ”کلام کو کتابوں سے بہت محبت تھی اور ان کی دنیا کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔ مکھرجی نے یہ بھی بتایا کہ عبدالکلام کبھی کبھی شاعری لکھتے اور بعض مواقع پر انہیں اپنی نظموں کی کاپیاں بھی پڑھنے کے لئے دیتے تھے۔
(جاری)

Related posts

’پاکیزہ‘کی ملکۂ المیہ میناکما ری

Siyasi Manzar

ہمارا سیاسی تنزّل اسباب و اِ نسِداد

Siyasi Manzar

تحریک، انتشار اور بھاگوت کا نظریۂ احتجاج 

Siyasi Manzar