Siyasi Manzar
Top News راجدھانی قومی خبریں

دینی ادارے اسلام کے دفاع اور نئی نسل کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیں: مولانا ارشد مدنی

امارت شرعیہ کی مجلسِ شوریٰ کے ایک روزہ اجلاس میں محاکمِ شرعیہ کے استحکام و توسیع اور تربیتِ قضاۃ کے لیے اہم فیصلے لیے گئے، جس میں محمود مدنی اور ابوالقاسم نعمانی سمیت کئی اہم شخصیات بت شرکت کی

نئی دہلی: امارت شرعیہ ہند کی مجلسِ شوریٰ کا ایک روزہ اجلاس آج مدنی ہال، مرکزی دفتر امارت شرعیہ ہند، نئی دہلی میں امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے مجلسِ شوریٰ کے ارکان، امرائے شریعت اور ان کے نائبین نے شرکت کی۔ اجلاس میں امارت شرعیہ ہند کے تنظیمی استحکام، محاکمِ شرعیہ کی توسیع، دینی و عائلی مسائل کے حل، قضاۃ و مفتیان کی تربیت سمیت مختلف اہم امور پر غور و خوض کیا گیا اور متعدد فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے آغاز میں نائب امیر الہند مولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری نے سابقہ اجلاس کی کارروائی پیش کی اور زیرِ بحث امور کا تعارف کرایا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کے عائلی و سماجی مسائل کو شریعت کی روشنی میں حل کرنے، دینی بیداری پیدا کرنے اور شرعی رہنمائی کے نظام کو عام کرنے کے لیے امارت شرعیہ کے کام کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جائے۔ جن صوبوں میں ابھی امارت شرعیہ قائم نہیں ہوئی ہے، وہاں اس کے قیام کے امکانات اور طریقۂ کار پر بھی گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں دفاعِ اسلام کے عنوان سے مولانا مفتی سید معصوم ثاقب قاسمی کی رپورٹ پیش ہوئی جس میں بتایا گیا کہ Help X Muslim کے نام سے ایک ویب سائٹ اور چینل کے ذریعے علمی مکالمے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے مدلل جوابات پیش کیے جا رہے ہیں۔ ارکان کی طرف سے اس کی ستائش کی گئی۔ اس موقع پر امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں الحاد اور ملحدانہ افکار کے ذریعے اسلام اور اس کے بنیادی عقائد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں دفاعِ اسلام اور نئی نسل کے ایمان و عقائد کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ترغیب دی کہ تمام دینی تنظیموں اور مدارس کے ذمہ داران اس کام کو اپنی اہم ذمہ داری سمجھتے ہوئے منظم اور مستقل کوششیں کریں۔ ضرورت پڑنے پر مدارس اور دینی تنظیمیں اپنے بجٹ کا کچھ فی صداس مقصد کے لیے مختص کریں، تاکہ اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے شبہات اور اعتراضات کا علمی بصیرت، مضبوط دلائل اور حکمت کے ساتھ جواب دیا جا سکے۔ایک اہم تجویز پر غور کرتے ہوئے مجلس شوری نے یہ فیصلہ کیا کہ عوام کی رہ نمائی کے لیے صوبائی امارتوںکے تحت مبلغ مقرر کئے جائیں جن کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ امارت شرعیہ کے مقاصد، خدمات اور محاکمِ شرعیہ کے طریقۂ کار سے علماء اورعوام کو واقف کرائیں۔ مرکزی سطح پر بھی ایک باصلاحیت اور تجربہ کار مبلغ کے تقرر کا فیصلہ کیا گیا جو مختلف محاکمِ شرعیہ کا دورہ کر کے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور مرکز کو مفصل رپورٹ پیش کریں۔ امارت شرعیہ ہند کی خدمات اور سرگرمیوں کو عام کرنے اور عوام کو شرعی رہنمائی سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے اس کے نام سے مستقل ویب سائٹ شروع کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں ملک کے تقریباً بارہ صوبوں میں قائم ایک سو ستر سے زائد محاکمِ شرعیہ کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ مفتی ذکاوت حسین قاسمی نے پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق اتر پردیش میں28،آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں 46،دہلی میں4،اڈیشہ میں 15،راجستھان میں 12،تمل ناڈو میں 8،مغربی بنگال میں18، گجرات میں 3،کرناٹک میں 12،ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش میں 12،تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں 12 محاکم شرعیہ چل رہے ہیں ۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محاکمِ شرعیہ کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے تجربہ کار اور تربیت یافتہ قضاۃ و مفتیان کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اڈیشہ، تمل ناڈو، مہاراشٹر وغیرہ کے ذمہ داران نے اپنے اپنے علاقوں میں تربیتی پروگرام منعقد کرنے کا تقاضا پیش کیا۔ مرکزی قیادت نے اس سلسلے میں لائحۂ عمل تیار کرکے ضروری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔یہ فیصلہ بھی ہوا کہ مجلسِ شوریٰ کے سال میں کم از کم دو اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ طے شدہ منصوبوں پر بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی کے علاوہ مولانا محمود اسعد مدنی ،مفتی ابوالقاسم نعمانی، مولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری، مولانا نعمت اللہ اعظمی، مولانا سید اسجد مدنی، مولانا قاری محمد امین پوکرن، مولانا سید اشہد رشیدی ، مولانا رحمت اللہ کشمیری، مولانا قاری شوکت علی ویٹ، مولانا مفتی اشفاق احمد اعظمی، مولانا محمد عاقل ، مولانا عبدالمجید باقوی، مولانا ابوالحسن یعقوب، مولانا محمد الیاس، مولانا مفتی سید معصوم ثاقب، مولانا محمدحکیم الدین قاسمی، مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری، مولانا سید ازہر مدنی، مولانا احسان الدین، مولانا ارشد ذکی، مولانا روشن شاہ، مولانا شکیل راجستھان، مولانا فاروق قاسمی اڈیشہ، مولانا ابوسفیان قاسمی، مولانا محمد علی، مولانا شمیم قاسمی اور مولانا مفتی ذکاوت حسین قاسمی سمیت دیگر اہم شخصیات و ذمہ داران شریک ہوئے۔

Related posts

عوام کی زندگی میں مسائل کا انبار ہے اور ان کے دکھوں کو سمجھنے کی کوشش کسی حکومت نے نہیں کی: پرینکا گاندھی

Siyasi Manzar

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ بل کو مودی کابینہ کی ملی منظوری

Siyasi Manzar

الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کو جاری کیا نوٹس

Siyasi Manzar