Siyasi Manzar
مضامین

حرمین شریفین کی تقدس کو پامال کرنے والوں کا انجام بد اورحرمین کی حفاظت میں سعودی عرب کا کردار

تحریر: عبد المعین بن عبد الوہاب
ندوۃ السنہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی
قسط نمبر ۱
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد و علی آلہ واصحابہ أجمعین، وبعد!
حرمین شریفین کا اطلاق کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی پر ہوتا ہے اور دونوں ہی اللہ کا مقدس گھر ہیں، یہ مرکز یقین، مقام رشد، مسکن ہدایت اور مہبط وحی ہیں۔ ان کا در درِ عزت و توقیر ہے۔ یہ جائے تطہیر و تقدیس ہیں، یہ منزل مراد ہیں، یہ جگہیں حرمت و تعظیم کا مستقر ہیں، ان کی عظمت و مقام کیا ہے شریعت ربانی سے پوچھئے۔ خاص طور سے بیت اللہ الحرام وہ معزز گھر ہے جو مسلمانوں کے دینی تشخص، ملی تحفظ اور اجتماعی وحدت کا شیرازہ بند معاشرتی و سماجی زندگی کے قیام کا ذریعہ اور شعائر اسلامی کی بقا کا خاص ہے ان کا سب سے اہم دینی و تاریخی پہلو یہ ہے کہ یہ مرکز وحدت ہے، حرم مکی کی طرف رخ کر کے دنیا بھر کے مسلمان دن میں پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں جو امت کے اتحاد و یکجہتی کی سب سے بڑی علامت ہے، مکہ اور مدینہ دونوں شہروں بالخصوص حرم کے حدود کا احترام شریعت میں فرض ہے یہاں تک کہ حرم کی حدود میں جانوروں کے شکار اور درخت کے کاٹنے تک کی ممانعت ہے تاکہ یہ امن کا گہوارہ رہے۔ اسلامی تاریخ میں خلفائے راشدین، اموی، عباسی، ایوبی اور مملوک دور سے لے کر عصر حاضر تک مسلمان حکمراں حرمین شریفین کی خدمت اور توسیع کو اپنے لئے اعزاز (خادم الحرمین الشریفین) سمجھتے آئے ہیں۔ علماء اور ائمہ کرام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ حرمین شریفین کا امن، تقدس اور تحفظ پوری امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ مقدس کے بارے میں فرمایا:
{إِنَّ أَوَّلَ بَیْْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَہُدًی لِّلْعَالَمِیْنَo} ٓٓٓٓٓٓٓال عمران ۹۶
’’یقینا سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے مقرر ہوا جو مکہ مکرمہ میں ہے۔‘‘
اور فرمایا:
{فیہ آیات بینات مقام ابراہیم} ٓٓٓٓٓٓٓال عمران ۹۷
اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم علیہ السلام کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے۔‘‘
نیز فرمایا:
{اولم یروا انا جعلنا حرما آمنا و یتخطف الناس من حولہم} العنکبوت ۶۷
’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھ میں نے مکہ مکرمہ کو حرمت والی جگہ بنائی جب کہ ان کے آس پاس کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں۔‘‘
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنَّ مَکَّۃَ حرَّمَہا اللَّہُ، ولم یحرمْہا النَّاسُ، ولا یحلُّ لامریئٍ یؤمنُ باللَّہِ والیومِ الآخرِ أن یسفِکَ بہا دمًا، ولا یَعضدَ بِہا شجرًا۔
’’یقینا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرام قرار دیا۔ اسے لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا ہے لہٰذا جو کوئی اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے مکہ میں خون بہانا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لئے مکہ میں کوئی درخت کاٹنا جائز ہے ‘‘
سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ان ہذا البلد حرمہ اللہ یوم خلق السموات والارض فہو حرام بحرمۃ اللہ إلی یوم القیامۃ (صحیح مسلم کتاب الحج / باب تحریم حدیث ۳۳۰۲)
اللہ نے مکہ مکرمہ کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت ہی سے حرمت والا بنا دیا تھا لہٰذا حرمت الٰہی کی وجہ سے یہ شہر قیامت تک حرمت والا رہے گا۔‘‘
اللہ رب العزت نے اس گھر کو ثواب پانے کی جگہ اور بار بار لوٹ کر آنے کی جگہ بھی قرار دیا ہے، یعنی جو شخص ایک مرتبہ کعبۃ اللہ کی زیارت سے مشرف ہو جاتا ہے وہ بار بار یہاں آنے کے لئے مضطر اور بے قرار رہتا ہے، علاوہ ازیں بیت اللہ کائنات ارضی پر اللہ کی عبادت و بندگی اور ہدایت کا اولین مرکز ہے کعبۃ اللہ کی بنیاد سب سے پہلے آدم علیہ السلام نے رکھی چناں چہ اس خانہ مکرم کو انسانیت کے لئے قبلہ اول قرار دیا گیا۔ بعد ازاں طوفان نوح میں اس کی دیواریں گر گئیں۔ صرف مٹی کا ایک ٹیلہ سا باقی رہ گیا تھا پھر معمار حرم ابراہیم علیہ السلام اور  اور اسماعیل علیہ السلام خانہ کعبہ کو اس کی قدیم بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا۔(جاری)

Related posts

اتراکھنڈ کے دیہی نوجوانوں کو نشے کی لت سے بچانا ہوگا

Siyasi Manzar

یہ آزمائشیں کیوں…؟

Siyasi Manzar

سعودی عرب میں حساس معدنیات(critical minerals)کی دریافت:ترقی،مواقع،عالمی قیادت اوروژن 2030 کی طرف ایک اہم قدم

Siyasi Manzar