Siyasi Manzar
مضامین

یہ آزمائشیں کیوں…؟

از : فرنود رومی، مالیگاؤں
[سول انجینئر] (9834926449)
راہ چلتے ہوئے ہم اکثر دیکھتے ہیں، کہ لوگ طرح طرح کی آزمائشوں سے دوچار ہیں۔کسی کو زمین میسر نہیں تو کسی کو چھت میسر نہیں۔کسی کو کھانا میسر ہے تو کپڑا میسر نہیں۔ کوئی کسی موذی مرض میں مبتلا ہے مگر دوا کے پیسے نہیں ہیں۔ اگر علاج و معالجے کو پیسے ہیں تو مرض ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
اور پھر کچھ لوگ بے نام اس دنیا میں گزران کر کے  بے نام ہی گزر جاتے ہیں۔ان کے آنے اور پھر اس دنیا سے چلے جانے کا کسی کو چنداں علم نہیں ہوتا۔ہر کوئی نفسانفسی کے عالم میں ایک متعین وقت بِتا کر وقتِ معینہ پر اپنی حقیقی منزل کی جانب کوچ کر جاتا ہے۔
یوں تو آزمائشوں کی قِسمیں بہت ہیں مگر آزمائشوں میں مال اور اولاد کی آزمائشیں سب سے بڑی ہیں۔اورخلقِ خدا میں، اللہ والوں کے ساتھ تو سب سے زیادہ آزمائشیں ہوتی ہیں۔انہیں آزمائش کی چکی میں خوب خوب پیٖسا جاتا ہے۔ تاکہ ان کے ایمان کے معیار کو پرکھا جاسکے۔
کبھی مخالف فرقہ والوں کی جانب سے بہتان لگتے ہیں، کبھی صاحبِ حیثیت لوگ(ناظم یا ٹرسٹی وغیرہ) ان کا استحصال کرتے ہیں تو کبھی مذہب بیزار لوگ ان کا پیچھا اٹھا کر ان کی ناک میں دم کیے رہتے ہیں۔
عالمی سطح کے داعی و مبلغ مولانا طارق جمیل صاحب کو اللہ صبر جمیل عطا فرمائے کہ پیرانہ سالی میں ایک جوان بیٹے کا یوں ڈپریشن کا شکار ہوکر خودکشی کر لینا، یقیناً ایک باپ کے لیے بڑا ہی دلخراش سانحہ ہے۔
مولانا کے لیے اس سے cope up کرنا یقیناًبہت ہی مشکل ہوگا۔اس گھڑی میں ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اس اذیت ناک گھڑی میں اللہ رب العزت موصوف اور ان کے اہل خانہ کو سنبھالا دے۔آمین
احادیث مبارکہ میں یہ ارشاد وارد ہے کہ "اللہ تعالی کسی کا نصیبہ اور اس کی قدر و منزلت کو بلند کرنا چاہتا ہے تو اسے آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے”۔سو ایک مومن بندے کو صبر و استقامت سے کام لینا چاہیے اور اللہ سے خیر کی امید و سوال کرتے رہنا چاہیے۔
تاریخ اسلامیہ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام جیسے پیغمبروں کو بھی ان کے اہل وعیال سے آزمایا گیا مگر انہوں نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
اس سے قبل خاکسار نے اپنے مضمون ” مسکراہٹ کے پیچھے کا درد” میں اس بات کی جانب اشارہ کیا تھا کہ کہ آدمی بھلے ہی کتنا خوش نظر آجائے، اس کے پاس دنیا و مافیہا کے تمام وسائل موجود ہوں مگر ایک نہ ایک واقعہ اس کے ساتھ ایسا ضرور پیش آتا ہے جو اس کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ جس کے سبب وہ مکمل طور سے ٹوٹ جاتا ہے، ہار جاتا ہے اور پھر اسے اپنے بکھرے وجود کو سمیٹنے میں بڑا وقت لگ جاتا ہے.
لہذا دوستو! ہمیں اس قسم کے کسی بھی سانحے کے وقت مہلوک کے اہل خانہ پر طعنہ زنی یا تضحیک آمیز فقرے کسنے کی بجائے ان کے لیے دعائے صبر واستقامت ہی کرنی چاہیے۔ نیز مسلک و نظریے کے اختلاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام ملت اسلامیہ کے لیے خیر و عافیت اور سلامتی کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔

Related posts

خوش فہمی میں مبتلا ہے مسلمان آخر کیوں ؟ !

Siyasi Manzar

عورتوں کو میراث سے محروم کرنا گناہ عظیم ہے

Siyasi Manzar

اہل غزہ کیلئے سعودی عرب کی بے مثال سخاوت

Siyasi Manzar

Leave a Comment