Siyasi Manzar
قومی خبریں

ریاست میں آلودہ ماحول کی ذمہ دار’کھوکے‘ حکومت ہے:سپریا تائی سولے

کیا کابینہ میں گینگ وار چل رہی ہے؟ سپریا تائی سولے کا ریاستی حکومت پرشدید حملہ

ممبئی 27نومبر(پریس ریلیز)ریزرویشن سے متعلق مہاراشٹر و دہلی میں ہمارا موقف واضح ہے۔ ہم جملے بازو بدعنوان پارٹیوں کی طرح نہیں ہیں کہ مہاراشٹر میں دھنگربرداری کے ریزرویشن کے لیے آواز اٹھائیں اور دہلی میں جاکر خاموش ہوجائیں۔ اس لیے اس ’کھوکے‘ حکومت پر ہمیں ذرا بھی اعتماد نہیں ہے۔ یہ باتیں این سی پی کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا تائی سولے نے کہی ہیں۔وہ پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہی تھیں۔

ریاستی وزیر چھگن بھجبل کے مراٹھا ریزرویشن کے لیے تشکیل دی گئی شندے کمیٹی سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے سپریا  سولے نے کہا کہ بھجبل عمر اورمرتبے میں بڑے ہیں۔ انہیں اپنے مطالبات عوامی پلیٹ فارم سے کرنے کے بجائے کابینہ کے اجلاس میں یا بند کمرے میں ہونے والی میٹنگوں میں پیش کرنے چاہئیں۔ یہ ان کا حق ہے۔ بی جے پی کے پاس 108 ایم ایل اے ہیں، ان میں سے کوئی نہیں بولتا ہے۔ ان میں سے صرف آٹھ ایم ایل ایز کوہی وزارت ملی ہے، اس لیے بقیہ ایم ایل اے کابینہ کی میٹنگ میں نہیں شریک ہوتے ہیں۔ مہاراشٹر میں جو غلیظ سیاست چل رہی اسی میں محترم بھجبل کو کابینہ وزیر کا عہدہ دیاگیا ہے۔ اس لیے بھجبل کو کابینہ میں اپنے سوالات اٹھانے چاہئیں۔سپریاسولے نے کہا کہ ’کھوکے‘ حکومت نے مہاراشٹر کی سیاست کوآلودہ کردیا ہے۔ 200 ایم ایل ایز ہونے کے باجود آپ کے کابینہ کے وزیر کو عوامی پلیٹ فارم کی ضرورت کیوں ہے؟ جوباتیں کابینہ میں ہوتی ہیں وہ باتیں ان کے وزراء باہرآکر بتاتے ہیں۔اس میں مہاراشٹر کا عام آدمی خود کو ڈھگا ہوا محسوس کررہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس ٹرپل انجن والی حکومت میں ہم آہنگی کا فقدان ہے۔

سپریہ سولے نے مزید کہا کہ مہاراشٹر کی ’کھوکے‘ حکومت کو اختیارات حاصل ہیں، لیکن وزیر اعلیٰ اور ان کے دو نائبین اس بارے میں کچھ نہیں بولتے ہیں۔ انہیں اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہیے، اس کے بعد ہم اس پر مضبوطی سے بات کریں گے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہونی چاہئے کہ این سی پی مراٹھا، دھنگر، لنگایت اور مسلم برادریوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہوگی۔ مہاراشٹر اور دہلی میں ہمارا موقف پوری طرح سے واضح ہے۔ ہم جملے باز، بدعنوان پارٹیوں کی طرح نہیں ہیں کہ مہاراشٹر دھنگربرادری کے ریزرویشن کی بات کریں اور دہلی میں جاکر ان کی زبان تک نہیں کھلتی ہے۔ اس لیے ہمیں اس ’کھوکے‘ حکومت پر قطعی بھروسہ نہیں ہے۔ کابینہ میں ٹکراؤ چل رہا ہے۔ مہاراشٹر میں خشک سالی، مہنگائی، بے روزگاری، خراب موسم جیسے مسائل ہیں۔لیکن جب وزیروں کے آپسی جھگڑے ختم ہونگے تب ہی مہاراشٹر کو درپیش مسائل پر وہ غور کریں گے۔

دیپک کیسرکے ذریعے ایک خاتون ٹیچر کی توہین کیے جانے پر سپریہ سولے نے کہا کہ یہ مہاراشٹر کی بدقسمتی ہے۔ اس حکومت کو طاقت اور پیسے کانشہ چڑھا ہوا ہے۔جس مہاراشٹر میں شاہو، پھلے، امبیڈکر، چھترپتی شیواجی کی وراثت ملی ہوئی ہے، اس میں سے ایک استاد اوراس میں بھی ایک خاتون کی توہین کرنا انتہائی غلط ہے۔ جس طرح بی جے پی خواتین کی مسلسل توہین کرتی رہتی ہے، اسی طرح اس کی اتحادی پارٹوں کے لوگ بھی کررہے ہیں۔لیکن این سی پی اس خاتون ٹیچر کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

نائب وزیر اعلی دیویندر فڈنویس سے متعلق سپریاسولے نے کہا کہ میرا فڈنویس سے کوئی ذاتی تنازعہ نہیں ہے۔ میری اور ان کی نظریاتی لڑائی ہے۔ دیویندر فڈنویس ایک پڑھے لکھے لیڈر ہیں، وہ پانچ سال تک ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو ان کے پاس داخلہ کا محکمہ بھی تھا۔ لیکن ان کے دور حکومت میں ریاست میں جرائم کی شرح کیسے بڑھی؟ یہ بات میڈیا میں آچکی ہے کہ ناگپور جرائم کا گڑھ بن چکا ہے۔ جب وہ وزیر داخلہ تھے تو یہ کیسے ہوا؟

Related posts

نہیں ہوسکے گی بیلٹ پیپر سے ووٹنگ

Siyasi Manzar

مریضہ کیلئے فرشتہ بن کر سامنےآیا الفلاح فاؤنڈیشن کا نوجوان 

Siyasi Manzar

13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ

Siyasi Manzar

Leave a Comment