Siyasi Manzar
علاقائی خبریں

تجارت میں دروغ گوئی اور فریب دہی بڑے خسران کا سب ہے:انوارالحق قاسمی

حصول معاش کے ذرائع میں سے سب سے اہم اور بابرکت ذریعہ تجارت ہے۔ تجارت اللہ کے رزق میں سے ایک رزق ہے۔تجارت اللہ کی حلال کردہ اشیاء میں سے ایک حلال چیز ہے۔ تجارت میں رزق کے دس حصوں میں سے نو حصے ہیں ۔تجارت نام ہے: فایدہ کی امید پر خرید وفروخت اور چیزوں کے لین دین کے دھندے یا کاروبار کا۔ تجارت میں تاجر اگر صدق گوئی اور امانت داری کا مظاہرہ کرے،تو پھر تجارت ایسے تاجر کے لیے رفع درجات کا ذریعہ ہوگا۔ نبی امی- صلی اللہ علیہ وسلم-کا ارشادِ عالی ہے: سچا امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء،صدیقین ،شہداء کے ساتھ ہوگا ۔(ترمذی حدیث نمبر 1209)
اور اگر کوئی تاجر اپنی تجارت میں دروغ گوئی، خیانت کاری، فریب دہی، بددیانتی اور بے ایمانی کا معاملہ کرے ،تو پھر ایسے تاجر کے لیے تجارت بجائے فائدے مند کے نقصان کا سبب ہوگا۔روز قیامت اس کا حشر دروغ گو ،نافرمان لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ ایسے تاجر کےلیے اللہ کے رسول -صلی اللہ علیہ وسلم- کی بڑی وعید ہے،ارشاد نبوی ہے:تاجروں کو قیامت کے دن فساق وفجار(گنہگار) بنا کر اٹھایا جائے گا؛ مگر وہ تاجر جو اللہ سے ڈرا، تقوی اختیار کیا، نیکی اختیار کی اور سچ بولا۔(سنن دارمی حدیث نمبر :2580)
اس لیے ہر تاجر کو چاہیے کہ تجارت میں ہمہ وقت صدق و امانت کا خوب خوب پاس و لحاظ رکھے؛کیوں کہ تجارت میں اگر سچائی اور امانت داری کا خاص خیال رکھا جائے،تو یہی تجارت، تاجر کےلیے بلندی مراتب کا سبب ہوگا اور تجارت میں اگر جھوٹ کی آمیزش اور بد دیانتی کا صدور ہوجائے ،تو پھر یہی تجارت،تاجر کے لیے بڑے ہی خسران اور نقصان عظیم کا موجب ہوگا۔

Related posts

ناانصافی کے خلاف سنگھرس ہی لوک بندھو راج نارائن جی کو خراج عقیدت : شاہنواز قادری

Siyasi Manzar

بی جے پی میں اقلیتوں کا مفاد محفوظ: جمال صدیقی

Siyasi Manzar

مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی اسلام کی آفاقی تعلیمات کے فروغ میں سرگرداں ہیں: جاوید احمد

Siyasi Manzar

Leave a Comment