Siyasi Manzar
قومی خبریں

بلقیس کے مجرمین کی سزا بحال ہونے سے عدلیہ کا بلند ہوا وقار:ڈاکٹر ایوب

بلقیس بانوں نے جس حوصلے کے ساتھ قانونی لڑائی لڑی ہے ،اس سے ثابت ہو گیا کہ انصاف میں تاخیر ہو سکتی ہے ، مگر ناانصافی نہیں

پرتاپ گڑھ،10جنوری (ایس ایم نیوز ) سپرم کورٹ نے گجرات حکومت کے ذریعہ بلقیس کے گیارہ مجرمین کو دی گئی معافی کو منسوخ کر ان کی سزا کو بحال کر قانون و عدلیہ کے وقار کو بلند کیا ، جس سے لوگوں میں عدلیہ و قانون کے تئیں اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے ۔ملک کی وہ عدلیہ ہی ہے جس سے انصاف کی امید کی جا سکتی ہے ، زیر اقتدار حکومت نے جمہوریت و قانون کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے سپرم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ 2002 کے فسادات کے دوران بلقیس بانوں کے ساتھ اجتماعی عصمت دری و اس کے کنبہ کے سات لوگوں کے قتل کا وقوعہ پیش آیا تھا، جس کے گیارہ مجرمین کو عدالت نے عمرقید کی سزا سنائی تھی ۔جہاں گجرات کی بی جے پی حکومت نے فسطائیت کی بنیاد پر 15 اگست 2022 کو مجرمین کو معافی دیتے ہوئے رہا کر دیا تھا ۔اس دردناک واقعہ کے مجرمین کی رہائی پر لوگوں نے اعتراض جتایا ،اور سزا بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔بلقیس بانوں نے جس حوصلے کے ساتھ قانونی لڑائی لڑی ہے ،اس سے ثابت ہو گیا کہ انصاف میں تاخیر ہو سکتی ہے ، مگر ناانصافی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ سپرم کورٹ نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے مجرمین کی سزا کو بحال کر بلقیس کو انصاف دیا ہے ،یہ لائق تحسین ہے ۔ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ گجرات حکومت نے فسطائیت کی بنیاد پر سنگین جرائم کے مجرمین کو رہاکر فسطائی طاقتوں کو خوش کرنے کا کام کیا ،مگر قانون کی بالادستی کے سبب عدلیہ نے مجرمین کی سزا کو بحال کر تاریخی قدم اٹھایا ہے ۔ ہمارے ملک کا آئین و قانون سبھی کو مساوی حقوق دیتا ہے ،مگر حکومت قانون کو سلب کر منمانی کرنے میں کوشاں ہے ،جس کے سبب اب عدلیہ سے ہی انصاف کی امید ہے ۔

Related posts

جموں وکشمیرکا قومی ریلوے نیٹ ورک میں انضمام ایک تاریخی کامیابی:وزیراعظم

Siyasi Manzar

جمعیت علماءجالنہ کےزیراہتمام اس سال بھی پندرہ روزہ سیرت پاک کی مہم کاانعقاد

Siyasi Manzar

ایم ای پی اقلیتی شعبہ کے صدر مطیع الرحمٰن عزیز کو لندن اسکول کی جانب سےامن و ترقی کی بین الاقوامی ورکشاپ میں شرکت کا اعزاز

Siyasi Manzar

Leave a Comment