ہندوستان اور چین پر 100 فیصد اضافی ٹیرف کی دھمکی معطل
واشنگٹن، 17 اکتوبر/ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی توانائی کی خریداری کرنے والے ممالک کو نشانہ بنانے والی اہم پابندیوں، تجارتی تحدیدات اور ٹیرف کی دفعات سے چھوٹ دے دی ہے ۔ اس فیصلے کے تحت ہندوستان اور چین سمیت روسی توانائی کے بڑے درآمد کنندگان پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی معطل ہو گئی ہے ۔ٹرمپ نے 16 اکتوبر کو 2026 کے ‘لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ’ کے تحت ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔ اس قانون کے تحت امریکی صدر کو قومی مفاد کی بنیاد پر مخصوص پابندیوں اور محصولات کے نفاذ کو معطل کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کو ایک سرٹیفکیشن پیش کی ہے ، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندیوں سے چھوٹ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے ۔ اس کے ساتھ فیصلے کی وجوہات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے ۔ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکی انتظامیہ نے روسی خام تیل اور قدرتی گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان کے ممالک سے آنے والی اشیا پر 100 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی گنجائش رکھی تھی، بشرطیکہ وہ 18 اکتوبر 2026 یا اس کے بعد روسی توانائی کی نئی خریداری جان بوجھ کر کرتے ۔ اس کے علاوہ روسی تیل پر عائد پابندیوں سے بچنے میں اہم کردار ادا کرنے والے پانچ ممالک کی اشیا پر بھی 100 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز تھی۔آرڈر میں مخصوص استثناؤں اور چھوٹ کے تابع روس سے درآمد ہونے والی اشیا پر محصولات میں 500 فیصد اضافے کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔تاہم، ٹرمپ نے قانون کی دفعات 112 اور 113 کے تحت محصولات کے نفاذ کے ساتھ ساتھ قانون میں شامل متعدد پابندیوں اور تحدیدات سے بھی چھوٹ دے دی ہے ۔ یہ چھوٹ اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک صدر یا متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد وزیر خارجہ یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ مزید کارروائی ضروری ہے ۔ایگزیکٹو آرڈر میں امریکی تجارتی نمائندے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وزرائے خارجہ، خزانہ اور توانائی سے مشاورت کرتے ہوئے مختلف ممالک کی جانب سے روسی خام تیل اور قدرتی گیس کی خریداری اور پابندیوں سے بچنے میں ان کے کردار کی نگرانی کریں۔امریکی تجارتی نمائندے کو صدر کو باقاعدگی سے رپورٹ پیش کرنے اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی کی سفارش کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے ۔تاہم، اس حکم سے روسی حکومت کی مخصوص نقصان دہ غیر ملکی سرگرمیوں سے متعلق سابقہ ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت عائد پابندیاں اور دیگر اقدامات متاثر نہیں ہوں گے ۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ ماسکو پر اس کی کارروائیوں کے حوالے سے دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے قومی مفادات کے مطابق اقتصادی اقدامات میں ردوبدل کی گنجائش بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔



