Siyasi Manzar
Top News راجدھانی

سرسید ڈے کو محض عشائیے تک محدود نہ رکھا جائے، اسے یومِ انقلابِ تعلیم بنایا جائے: ڈاکٹر سید احمد خان

ئی دہلی :17اکتوبر (ایس ایم نیوز )اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام 17 اکتوبر کو نئی دہلی میں یومِ سرسید احمد خان منایا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سید احمد خان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ یومِ سرسید کو محض ایک عشائیے تک محدود کر دیا گیا ہے، جب کہ اس دن کو ’’یومِ انقلابِ تعلیم‘‘ کے طور پر منایا جانا چاہیے۔ سرسید احمد خان نے تعلیم کے میدان میں جو تاریخی تحریک برپا کی تھی، اس کا تقاضا ہے کہ ان کے یومِ پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں تعلیمی اداروں کے قیام کی تحریک چلائی جائے اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ سرسید احمد خان کی تعلیمی خدمات اور ان کے مشن کو صرف تقریبات اور رسمی پروگراموں تک محدود رکھنا ان کے مقصد کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم یومِ سرسید سے آگے بڑھ کر ان کے تعلیمی نظریات کو عملی شکل دیں اور اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے آگے آئیں۔ جس طرح سرسید احمد خان نے تعلیم کو اپنی زندگی کا مشن بنا کر ایک تاریخی انقلاب برپا کیا تھا، اسی طرح ہمیں بھی تعلیم کے فروغ کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنی چاہیے۔ڈاکٹر سید احمد خان نے سرسید احمد خان کی جائے پیدائش کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج معمولی سیاسی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کے نام پر چوک چوراہے تعمیر کیے جا رہے ہیں، لیکن افسوس کہ دریا گنج میں سرسید روڈ پر واقع سرسید احمد خان کی جائے پیدائش کو اب تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس تاریخی مقام کو بازیاب کرا کے میوزیم میں تبدیل کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں سرسید احمد خان کی زندگی، جدوجہد اور تعلیمی خدمات سے واقف ہو سکیں اور ان کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ یومِ سرسید کے موقع پر ملک کے تمام طبقات اور برادریوں کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ سرسید احمد خان کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ ملک بھر میں تعلیمی اداروں کا جال بچھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سرسید احمد خان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ان کے افکار اور خدمات کو محض یاد کرنے کے بجائے انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ڈاکٹر سید احمد خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمیں اپنی زندگی ہی میں سرسید احمد خان کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے وسائل اور باہمی تعاون سے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے، تاکہ ملک اور قوم کا مستقبل روشن اور بہتر بنایا جا سکے۔
اس موقع پر شیخ علیم الدین اسعدی، قاضی ایم۔ او۔ سرور، محمد اویس، اسرار احمد، صحافی سید نشاط حسین، گلزار احمد، حمد عمران قنوجی اور محمد مرتضیٰ دہلوی سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔ شرکاء نے سرسید احمد خان کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے اور ملک میں تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔

Related posts

میر ؔو غالبؔ کے یہاں جو دردو غم ہے وہ اُس عہد کا آشوب زائیدہ ہے : پروفیسر انو ر پاشا

Siyasi Manzar

دیہی ہندوستان کے عوام کیلئے باوقار زندگی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح

Siyasi Manzar

جیوکی ’انٹیلی جنٹ شاپنگ کارٹ‘خود بخود بنا دے گی بل

Siyasi Manzar