Siyasi Manzar
Top News قومی خبریں

اُڈما کے پلیٹ فارم سے عید ملن کے ذریعہ ملک کے باشندگان کو قومی یکجہتی کا پیغام دیا گیا

یونانی ڈرگس مینوفیکچررس ایسوسی ایشن کی جانب سے دواسازی وکوالٹی کنٹرول کے تحت ٹیکنکل سیشن اور عید ملن تقریب کا انعقاد

نئی دہلی(پریس ریلیز) یونانی ڈرگس مینوفیکچررس ایسوسی ایشن (اُڈما) کے زیراہتمام سنٹر آف ایکسیلنس یونانی میڈیسن، جامعہ ہمدرد کے اشتراک سے یونانی دواؤں کے مینوفیکچررز کے لیے ٹیسٹنگ پروٹوکول اور آن لائن لائسنسنگ سسٹم پر صلاحیّت سازی اور استعداد کار بڑھانے کی ورکشاپ کے انعقاد کے ساتھ جنرل باڈی کی میٹنگ اور ’تقریب عید ملن‘ بحسن و خوبی انجام پائی۔
دو سیشن پر مشتمل پروگرام کا باضابطہ آغاز حکیم اعجاز احمد اعجازی کی تلاوت کلام اللّٰہ سے ہوا۔ ڈاکٹر محمد خالد (ڈپٹی ڈائریکٹر و لائسنسنگ آتھوریٹی، شعبہ یونانی) اور ڈاکٹر فصیح الرحمٰن انصاری (ڈرگ انسپیکٹر)، محکمہ آیوش، حکومت دہلی نے مذکورہ ٹیکنیکل موضوع کے تحت تفصیل سے اظہار خیال فرمایا اور شرکاء حضرات کے سوالات کے جوابات دیئے۔ پروگرام فزیکلی کے علاوہ باضابطہ آن لائن بھی نشر کیا جارہا تھا جس سے دور دراز علاقوں کے بیشتر حضرات بھی منسلک تھے۔ سنٹر آف ایکسیلنس یونانی میڈیسن، جامعہ ہمدرد کے ڈائریکٹر پروفیسر سعید احمد نے پروگرام کے موضوع کے تحت علمی گفتگو کی اور سبھی اہم نکات پر روشنی ڈالی ساتھ ہی لیباریٹری کی ٹیم کے ذریعہ ٹسٹنگ پروٹوکول کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ مقرّرین حضرات نے اپنے ٹیکنیکل خطاب میں سبھی مینوفیکچررز کو تحقیقی میدان میں بھرپور توجہ مرکوز کرنے کی جانب ترغیب دلائی۔ اس موقع پر ڈاکٹر حنا ناز (ڈرگ انسپکٹر) محکمہ آیوش، حکومت دہلی بھی موجود تھیں۔
بعد ازاں اڈما کے قومی صدر حامد احمد اور قومی جنرل سکریٹری حکیم محسن دہلوی کی سربراہی میں تنظیم کی جنرل باڈی کی میٹنگ ہوئی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا اور چند نئی قراردادوں کو منظوری دی گئی۔
اوّل سیشن کے اختتام پر اڈما کے عہدیداران محمّد عارف (پیٹرون)، ڈاکٹر مطیع اللّٰہ مجید (ریجنل نائب صدر)، محمّد جلیس (جوائنٹ سکریٹری)، حکیم ارباب الدّین (ٹریزرر)، پرویز احمد خاں(جوائنٹ ٹریززر)، محمّد نوشاد (کورڈینیٹر)، مدثّر جمال بخشی (ایگزیکوٹیو ممبر)، سیّد منیر عظمت (ایگزیکوٹیو ممبر)، حکیم محمد خبیب بقائی (ایگزیٹیو ممبر)، حکیم عزیر بقائی (ایگزیکوٹیو ممبر) کے ہاتھوں سبھی مقرّرین حضرات اور معزز مہمانان کو شال و سند کے ذریعے اعزاز سے نوازا گیا۔
اسکالرس ہاؤس میں "عید ملن تقریب” کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اُڈما کے صدر اور ہمدرد فوڈ ڈویزن کے ڈائریکٹر حامد احمد نے کہا کہ عید ملن پروگرام ہمارے ملک کی قدیم روایت اور رنگا رنگی گنگا جمنی تہذیب کا ایک حصّہ ہے جو ہمارے بزرگوں کے ذریعے ملک میں صدیوں سے منعقد ہوتے آرہے ہیں جس میں مختلف مذاہب، رنگ اور فرقے کے افراد جوش و خروش کے ساتھ نہ صرف شرکت کرتے ہیں بلکہ بغل گیر ہوکر ایک دوسرے کو عید سعید کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
حکیم محسن دہلوی (جنرل سکریٹری، اُڈما) نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام باہمی اتفاق و اتحاد اور آپسی بھائی چارے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکیم اعجاز احمد اعجازی (چیف۔ پریس اینڈ میڈیا، اُڈما) نے کہا کہ ہمارے ملک ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر پیار و محبّت سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرتے ہیں جو "کثرت میں وحدت” کا اعلٰی نمونہ ہے۔
مذکورہ بالا اڈما کے شرکاء حضرات کے علاوہ فزیکلی اور آن لائن شریک ہونے والے اُڈما کے عہدیدران اور اراکین میں ڈاکٹر ایاز ہاشمی، معاذ حسن خان، مقبول حسن (پیٹرون)، نبیل احمد (نائب صدر)، صادق بابلہ (ریجنل نائب صدر)، انتخاب عالم (ریجنل نائب صدر)، انتخاب عالم شیخ، حکیم یثمانیل عثمانی، شاہد بخش، ڈاکٹر عارف چودھری، نسیم احمد، ڈاکٹر اختر صدیقی، ڈاکٹر کمال احمد صدیقی، ڈاکٹر متین چودھری، محمّد طاہر، ارون سری واستو، ڈاکٹر کاشف ذکائی، محمد امجد علی، صبور احمد صدیقی، نظام الدین عثمان، حکیم سلیمان خانِ، ڈاکٹر سلمان خالد، ڈاکٹر شہزاد علی، ڈاکٹر خالد خاں، غلام محی الدین، انور علی خاں (ریجنل نائب صدر)، محمد اسلم، ڈاکٹر محمّد ابراھیم، ڈاکٹر ایم۔ اے۔ وہاب، شیخ زبیر، ڈاکٹر ایم۔ اے انصاری، قمر اشرف، اشرف طیّبی ، آدیتہ کشور، غفران الہی، انور ٹی ٹی، مونس دہلوی کے نام قابل ذکر ہیں۔
پروگرام میں اُڈما کے پلیٹ فارم سے مشترکہ بیان میں "عید ملن” کے ذریعہ ملک کی جنتا کو قومی یکجہتی اور محبّت کا پیغام دیا گیا۔ اخیر میں شرکاء حضرات نے اُڈما کے زیر اہتمام طعام شب تناول فرمایا۔

Related posts

الحاج عبدالفہیم عبدالنعیم سر کی سبکدوشی پر الوداعی تقریب 

Siyasi Manzar

امروہہ کے ایم پی دانش علی کو بڑا جھٹکا، بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے دکھایا باہر کا راستہ

Siyasi Manzar

ریلائنس فاؤنڈیشن  نے پوسٹ گریجویٹ اسکالرشپ 2023-24 کے لیے درخواستیں طلب کی

Siyasi Manzar