Siyasi Manzar
مضامین

حرمین شریفین کی عظمت کتاب و سنت کی روشنی میں

پرویز یعقوب مدنی
جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال

حرمین شریفین! یہ صرف دو مقدس مقامات کے نام نہیں بلکہ امت مسلمہ کے دل کی دھڑکن، ایمان کی حرارت اور تاریخ اسلام کے روشن ابواب کا عنوان ہیں۔ مکہ مکرمہ وہ مقدس شہر ہے جہاں بیت اللہ قائم ہے۔ جہاں توحید کا پہلا عالمی مرکز جلوہ گر ہوا اور جہاں سے رسول اکرم ﷺ نے انسانیت کو اللہ کی بندگی، عدل، رحمت اور اخوت کا پیغام عطا فرمایا۔ مدینہ منورہ وہ بابرکت شہر ہے جہاں ہجرت کے بعد اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی گئی اور مسجد نبوی ﷺ تعمیر ہوئی۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مثالی امت کی تشکیل ہوئی۔اللہ تعالی نے مکہ مکرمہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ﴾(آل عمران : 96) ترجمہ :بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔
یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی طرف دنیا کے گوشے گوشے سے مسلمان روزانہ پانچ مرتبہ رخ کرتے ہیں۔ امیر و غریب، بادشاہ و فقیر، عالم و عامی—سب اس دربار میں ایک ہی لباس، ایک ہی شعار اور ایک ہی رب کے سامنے حاضر ہوتے ہیں۔ یہاں انسان کی ظاہری شناختیں مٹ جاتی ہیں اور بندگی کی حقیقت نمایاں ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالی نے مکہ کی حرمت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا: ﴿وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا﴾ (آل عمران: 97) ترجمہ : اور جو اس میں داخل ہوگیا وہ امن والا ہوگیا۔
اور نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اس شہر کی حرمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ” (بخاری و مسلم) ترجمہ: بے شک اللہ نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا ہے، لوگوں نے اسے حرام قرار نہیں دیا۔
مدینہ منورہ کی عظمت بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ وہ شہر ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنا مسکن بنایا، جہاں آپ ﷺ نے مسجد نبوی کی بنیاد رکھی، جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایمان، ایثار، اخوت اور قربانی کی تاریخ رقم کی اور جہاں سے اسلام کی روشنی دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچی۔رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی حرمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ”. (بخاری و مسلم) ترجمہ : مدینہ عَیر سے ثور تک حرم ہے۔
اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا: "الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ”ـ (بخاری و مسلم) ترجمہ :مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش وہ جانے ہوتے۔
حرمین کی عظمت کا سب سے بڑا پیغام توحید اور عبادت نیز امن اور اتحاد ہے۔ کعبہ ہمیں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کا درس دیتا ہے، جبکہ مسجد نبوی ہمیں رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور سنت سے وابستگی کا سبق دیتی ہے۔ مکہ ہمیں ابراہیمی توحید کی یاد دلاتا ہے اور مدینہ ہمیں محمدی ﷺ اسوۂ حسنہ سے جوڑتا ہے۔قرآن مجید اعلان کرتا ہے: ﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾ (الجن: 18) ترجمہ :اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں لہذا اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔
اس لیے حرمین کی محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ اس محبت کا تقاضا ہے کہ مسلمان توحید کو مضبوطی سے تھامے، سنت رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا دستور بنائے، حرمین کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھے اور ان مقدس مقامات کی حرمت کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرے۔
حرمین شریفین پوری امت کے لیے امن کا پیغام بھی رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے بارے میں فرمایا:
﴿وَهَٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ﴾ ترجمہ: اور اس امن والے شہر کی قسم۔(التین: 3)
یہ امن صرف ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ ایک عظیم الٰہی پیغام ہے کہ اللہ کے مقدس مقامات فساد، خونریزی اور ظلم سے پاک رہیں۔ ان مقامات کی عظمت کا تقاضا ہے کہ ان کی طرف احترام، محبت اور اخلاص کے ساتھ دیکھا جائے اور ان کے امن و حرمت کو ہر قسم کی جارحیت سے محفوظ رکھا جائے۔
آج امت مسلمہ کے لیے حرمین کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہے: امت مسلمہ کے جیالے اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو زندہ کریں نیز باہمی اختلافات کو ختم کرکے ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں اور امن و اخوت کو فروغ دیں کیونکہ حرمین شریفین پوری امت محمدیہ کے ایمان اور محبت کا مرکز ہیں۔
حرمین شریفین کی خدمت ایک عظیم امانت ہے۔ ان مقدس مقامات پر آنے والے لاکھوں مسلمان اپنے دلوں میں بے شمار تمنائیں لیے حاضر ہوتے ہیں۔ ان کی سلامتی، سہولت اور عبادت کے لیے امن و انتظام کا قیام ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ حرمین کے احترام، سلامتی اور تقدس کو اپنی دینی ترجیحات میں نمایاں مقام دے۔
آخر میں ہمارا پیغام یہی ہے کہ حرمین شریفین کی عظمت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اس کی حرمت اللہ کی مقرر کردہ حرمت ہے۔اور اس کا امن پوری امت کے دل کی خواہش ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ وہ بیت اللہ اور مسجد نبوی ﷺ کو قیامت تک امن و امان کا مرکز بنائے، حرمین شریفین کی حفاظت فرمائے، وہاں آنے والے تمام زائرین کو امن و عافیت عطا کرے، اور پوری امتِ مسلمہ کو کتاب و سنت سے مضبوطی سے وابستہ فرما کر باہمی محبت، اتحاد اور اخوت کی نعمت عطا فرمائے۔
اَللّٰهُمَّ احْفَظِ الْحَرَمَيْنِ الشَّرِيفَيْنِ، وَأَدِمْ عَلَيْهِمَا الْأَمْنَ وَالْأَمَانَ، وَاحْفَظْ بِلَادَ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْفِتَنِ وَالْمِحَنِ، وَوَفِّقْنَا لِتَعْظِيمِ شَعَائِرِكَ وَاتِّبَاعِ سُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ۔
آمین یا رب العالمین۔

Related posts

اہل غزہ کیلئے سعودی عرب کی بے مثال سخاوت

Siyasi Manzar

"شبلی نعمانی” حیات و خدمات 

Siyasi Manzar

جب ظفرآغا نے مجھے فون کیا

Siyasi Manzar