Siyasi Manzar
قومی خبریں

Shahi Eidgah Survey Order:شاہی عیدگاہ کے سروے کا حکم عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 کی خلاف ورزی ہے : شاہنواز عالم

لکھنؤ، 14 دسمبر (ایس ایم نیوز) اقلیتی کانگریس کے ریاستی صدر شاہنواز عالم نے متھرا میں شاہی عیدگاہ کے سروے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو عبادت گاہوں کے قانون 1991 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے میں شری کرشنا سیوا سنستھان نے 1968 میں ہی مسلم فریق کے ساتھ معاہدہ کرکے فیصلہ کیا تھا کہ مذکورہ زمین پر مندر اور مسجد دونوں ہی رہیں گے۔ دونوں کے اس فیصلے کی وجہ سے اب تک امن قائم ہے۔ اب اگر عدالت کی مدد سے یہ امن خراب ہوتا ہے تو اس سے زیادہ افسوسناک اور کوئی بات نہیں ہوسکتی۔کانگریس ہیڈکوارٹر سے جاری پریس ریلیز میں شاہنواز عالم نے کہا کہ عبادت گاہوں کے قانون 1991 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 15 اگست 1947 تک جو بھی عبادت گاہ اس کی تحویل میں تھی وہ برقرار رہے گی، اس کے کردار میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ہے۔ اس کو چیلنج کرنے والی کوئی بھی درخواست کسی عدالت، کسی اتھارٹی یا کسی ٹریبونل میں قبول نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدایت کے باوجود ملک دیکھ رہا ہے کہ نچلی عدالتیں مسلسل اس کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور سپریم کورٹ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔شاہنواز عالم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجدرام جنم بھومی کیس میں اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ عبادت گاہوں کا قانون 1991 ہمارے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کی سب سے بڑی آئینی بنچ نے خود فیصلہ دیا ہے کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر پہلے بنارس کی گیانواپی اور پھر بدایوں کی جامع مسجد، اگر نچلی عدالتوں کے ذریعے متھرا کی شاہی عیدگاہ کے کردار کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور سپریم کورٹ اس پر خاموش ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے غیر آئینی طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے راستہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر کو اس حقیقت سے الگ تھلگ نہیں دیکھا جا سکتا کہ بی جے پی کے دو ممبران پارلیمنٹ راجیہ سبھا میں ایک پرائیویٹ ممبر بل لائے ہیں جس میں آئین کے دیباچے کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور نائب صدر جگدیپ دھنکر نے بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی بات کہہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس کے دور میں پوجا استھل ایکٹ 1991 کو کمزور کرنے کی مسلسل کوششیں کیں۔ آئین کی تمہید میں لفظ سیکولر کی موجودگی کو کلنک بتانے والے جمو ں و کشمیر کے چیف جسٹس پنکج متل کا سپریم کورٹ کا جج بننا، یا مسلمانوں کی مخالفت میں اضافہ اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے والی چنئی کی بی جے پی مہیلا مورچہ کی لیڈر وکٹوریہ گوری، ہائی کورٹ میں جج بننا، آنے والے فیصلے صدر کو حق دینے میں آرٹیکل 3 کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنے کا اختیار دینے والے فیصلوں کا آنا محض اتفاق نہیں ہے ۔یہ سب عدلیہ پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی مثالیں ہیں جو ملک کو آمریت کی طرف لے جا رہی ہے۔

Related posts

جامعہ رحمانیہ ممبئی میں تقریب ختم صحیحین ودستارفضیلت کاشاندارانعقاد

Siyasi Manzar

نیتا امبانی کی 60ویں سالگرہ پر’’ انّ سیوا‘‘ کا اہتمام

Siyasi Manzar

اگرآپ کی عمر18؍سال یا اس سے زائدہے توووٹرلسٹ میں اپنے نام کے اندراج کو یقینی بنائیں:امیرشریعت

Siyasi Manzar

Leave a Comment