Siyasi Manzar
قومی خبریں

Shaheen Group of Institutions: میں چاہتی ہوں کہ ہمارے ادارے شاہین سے بھی کچھ رمیشاقمر نکلیں جو اپنی پرواز سے شعرو ادب کی بلندیاں بھی حاصل کریں:مہرسلطانہ

شاہین ادارہ جات بیدر میں یومِ اُردو کے موقع پر رمیشا قمر کی تہنیت

بیدر۔21/نومبر۔شاہین ادارہ جات بیدر کی جانب سے”یومِ اُردو“ کے موقعے پر نئی نسل کی نمائندہ قلم کار اور نہایت ہی فعال مصنفہ ڈاکٹر رمیشا قمر (قمر النساء) کی کتاب ”ارژنگ قلم“مغربی بنگال اردو اکادمی برائے تحقیقی ادب عبدالرؤف ایوارڈ کے لیے منتخب کئے جانے پر ایک پُر وقار تہنیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈاکٹررمیشا قمر کی ساتویں کتاب”غضنفر شناسی“کا اجرا بھی عمل میں آیا۔یہ شاندار اور  پر وقار تقریب شاہین کیمپس میں واقع العزیز آڈیوٹیوریم میں زیرِ صدارت  مشہور و معروف ماہر تعلیم محترمہ مہر سلطانہ منعقد ہوئی۔  صدر جلسہ محترمہ مہر سلطانہ صاحبہ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ہماری ریاست کے لیے یہ خبر  باعث ِ صدافتخار ہے کہ ہماری سر زمین کی ایک نوجوان اسکالر ایک قومی سطح کے ایوارڈ کے لیے منتخب کی گئی۔ اور مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ڈاکٹر رمیشا قمر کی ساتویں کتاب  ” غضنفر شناسی ” کی رونمائی کی رسم بھی ہمارے ادارے کے کیمپس میں ادا کی گئی۔ انھوں نے اپنے ادارے کی طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب کو بھی رمیشا قمر کی تقلید کرنی چاہیے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہمارے ادارے سے بھی کچھ رمیشاقمر نکلیں جو اپنی پرواز سے شعرو ادب کی بلندیاں بھی حاصل کریں۔اس بچی نے جو تحقیقی و تنقیدی کام کیے ہیں وہ آپ سب کے لیے مشعل راہ اورباعث تقلید ہیں۔ آپ  بھی اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کیجیے تاکہ آپ بھی اپنے شہر اور ریاست کانام پوری دنیا میں روشن کرسکیں۔ شہر بیدر کی سینئر اسکالر محترم اقبال النسائصاحبہ نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں فرمایا کہ ہمارے ادارے کے لیے
یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہم ایک ادیبہ,شاعرہ اور دو انٹرنیشنل رسالوں کی مدیرہ کا اپنے اس ادارے میں استقبال کر رہے ہیں۔ اس موقع پر  انھوں نیڈاکٹر رمیشاقمرکی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات کا تفصیلی تعارف بھی کرایا اور کہا کہ ڈاکٹر رمیشاقمر کی آمد ہماری طالبات کے لیے مفید ثابت ہوگی اور ہماری طالبات کے اندر بھی ان کی طرح آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ اس موقع پر مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر ارم فاطمہ صاحبہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ رمیشاقمر ان گنے چنے طالبات میں سے ایک ہیں جو دوران تعلیم مصنفہ بن جاتی ہیں۔اپنی ریاست ِ کرناٹک کی ایسی مایٌہ ناز بیٹی پر ہمیں فخر ہونا چاہے۔انھوں نے نہایت اعتماد کے لہجے میں یہ بھی کہا کہ مستقبل میں رمیشا قمر کی ادبی تخلیقات اُردو ادب کے اُفق پرمانند ِ چاند چمکیں اور ادبی فضاؤں میں اپنی چاندنی بکھیریں اس موقع پر انھوں نیڈاکٹر انجم شکیل کی اردو زبان کے حوالے سے ایک  نظم بھی پیش کی۔ مہمان خصوصی صببیحہ خاتون نے یوم اردو کے موضوع پر ایک نظم سنائی  اور پھراپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ نئی نسل کی مصنفہ ڈاکٹر رمیشاقمر صاحبہ نے اتنی کم عمری میں اتنا کچھ کر دکھایا ہے واقعی ان کی شخصیت قابل تعریف ہے اور لائق ِ تقلید بھی۔ میں ان کے روشن مستقبل کے لیے دعا گو ہوں کہ ان کا قلمی, علمی و ادبی سفر یوں ہی رواں دواں رہے اور شاہین ادارہ بھی ہمیشہ یوں ہی ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔ اس تہنیتی جلسے کے موقع پر ڈاکٹررمیشاقمر کی نئی کتاب” غضنفر شناسی” کا اجراء ان کی والدہ محترمہ خیر النساء جاگیردار صاحبہ کے ہاتھوں عمل میں آیا اور اس کتاب کے متعلق ڈاکٹر مستقیم بیگم نے ایک طویل مقالہ پڑھا جس میں انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر رمیشا قمرنے  یہ بہت ہی اہم کام کیا ہے۔غضنفر شناسی ایک ایسی دستاویز ہے جس میں غضنفر کے فکر و فن کی تقریبا تمام جہتیں سمٹ آئی ہیں۔ اس کتاب پر رمیشا قمر کا بسیط مقدمہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ انھوں نے مزید فرمایا کہ رمیشا قمرکے اندر تنظیمی تحقیقی اور تنقیدی صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔اس کے علاوہ ان کے اندر تلاش و جستجو کا ایک ایسا جذبہ بھی موجود ہے جو اس طرح کی مہم جوئی پر ان کو آمادہ کرتا رہتا ہے۔ اس پروقارتقریب کی روح رواں جن کے اعزاز میں یہ تقریب منعقد کی گئی تھی ڈاکٹر رمیشاقمر نے اپنی گفتگو کی ابتداء اردوزبان پر لکھی اپنی نظم سے کی۔ پھر انھوں نے طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے دو شمشیریں ایسی ہیں جن سے کوئی بھی قلعہ فتح کیا جا سکتا ہے۔ ایک عزم مصمم اور  دوسری سعی پیہم۔ان ہی دو شمشیروں سیڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کا  ” شاہین” جیسا اتنا بڑا ادارہ بھی قائم ہوا ہے۔مصمم ارادہ اور عمل پیہم سے ہی میرے بھی حصے میں یہ کامیابی آئی ہے۔آپ سب کو بھی چاہیے کہ ان شمشیروں کو مضبوطی سے پکڑے رہیں کامیابی ان شائاللہ آپ کے قدم چومے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ شاہین جیسے بڑے اور نامور ادارے نے اس ادنی سی طالبہ کی ہمت افزائی کے لیے اتنی باوقار تقریب کا انعقاد کیا۔ میری کتاب ”ارژنگ قلم” کو قومی ایوارڈ ملنا ہی میرے لیے بہت بڑی بات تھی مگر شاہین ادارہ جات نے اس کے لیے اتنی خوبصورت تہنیتی تقریب کے ساتھ میری کتاب ”غضنفرشناسی” کیاجراء کا بھی اہتمام کیا اورمزید خوشی اور فخر کی بات یہ ہے کہ یہ اجرا ئمیری والدہ محترمہ خیر النساء جاگیردار صاحبہ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس پروگرام کی کنوینر محترمہ بلقیس فاطمہ صاحبہ نے بہت ہی عمدہ نظامت کی اور دوران نظامت انہوں نے ڈاکٹر رمیشاقمر  کی شخصیت اور ان کے فن کی مختلف خوبیاں بیان کں یں۔ انہوں نے فرمایا کہ رمیشاقمر کے کتابوں کی  ضخامت بتاتی ہے کہ وہ کتنی محنت کرتی ہیں اور اپنا وقت کس قدر علم و فن پر صرف کرتی ہیں۔یوم اردو کے حوالے سے انھوں نے اقبال اشعر کی مشہورنظم ”اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی” بھی پیش کی ساتھ ہی شاہین ادارہ جات کی خدمات کو بھی بیان کیا۔ شاہین ادارے کے معصوم سے طالب علم محمد انس نے قرات کلام پاک پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔محترمہ ڈاکٹر مستقیم بیگم صاحبہ نے بارگاہ رسالت میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا اور مستقیم بیگم نے اپنی مترنم آواز میں ڈاکٹر رمیشاقمر کے لیے دعائیہ کلام بھی سنایا۔ خدایا ہماری یہی ہے دعا: رمیشا کو بس نظر بد سے بچا:ترقی کی منزل پہ چلتی رہے: عطارب کی یوں ہی برستی رہے: اظہار تشکر کا فریضہ محترمہ ڈاکٹرسرورعرفانہ صاحبہ نے ادا کیا اور ڈاکٹر مستقیم بیگم کے دعائیہ کلمات کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

Related posts

مدرسہ الحکمہ اسلامک کلاسز میں طلباء کے سالانہ انجمن و تقسیم اسناد و انعامات کے پروگرام کا انعقاد

Siyasi Manzar

13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ

Siyasi Manzar

اسٹیٹ بینک نے سپریم کو رٹ میں پیش کیا حلف نامہ

Siyasi Manzar

Leave a Comment