مسلمانوں کی نسل کشی اور عمومی بربادی کے پیچھے دشمنوں کی شناخت اہم ہے۔ حوثی باغی سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ آور ہیں۔ یہ یمن کے فقر و ناداری کے شکار حوثیوں کو یہ اسلحہ کون فراہم کرتا ہے؟ انہیں یہ کمک کہاں سے مل رہی ہے؟ یہ سوال بے حد اہم ہے، جس سے اصل دشمنانِ اسلام کی پہچان ہوتی ہے۔ کسی بھی خطے میں، کسی بھی ملک میں فساد کے اسباب و عوامل پر روشنی پڑتی ہے۔ مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی عصرِ حاضر میں بیسویں صدی اور جاری اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے قتلِ عام اور ان کی تباہی و بربادی، مسلم ممالک کے اہم، پیچیدہ اور حد درجہ سنگین بحرانوں کا تجزیہ و تحلیل کیا جائے اور اس کے اسباب و عوامل پر گہرائی سے نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوگی کہ عموماً امتِ مسلمہ کے تمام دشمن انتباہ کن، ہلاکت خیز جرائم میں شامل رہتے ہیں اور اپنے خاص اہداف و مقاصد کی تکمیل، سیاسی و اقتصادی ترقیات کے حصول کے لیے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خفیہ و علانیہ دشمنی کا ثبوت دینا چاہتے ہیں۔ اس میں مسلمانوں کے ظاہر و باہر دشمنوں کے ساتھ ان کی صفوں میں منافقین کی شمولیت ہوتی ہے۔ کبھی مسلمانوں پر تباہی کا آغاز یہی داخلی دشمن کرتا ہے اور درپردہ کبھی سب، اور کبھی بعض خارجی دشمن اس ہلاکتِ مسلماں میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنا داخلی دشمن اغیار سے ساز باز کرتا ہے، یوں دونوں مل کر تباہیِ امت کی خونی داستان رقم کرنے میں بظاہر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جس امر کا ذکر کیا جا رہا ہے، اس کی داستان بڑی عبرت خیز ہے اور اس کی مثالیں بہت ہیں۔ مثلاً: مسئلۂ فلسطین اور اس کی طویل، ہلاکت خیز داستان اور سلسلۂ تباہی جاری ہے۔ 1935ء سے لے کر آج 2026ء تک مقتولین، مجروحین اور تارکینِ وطن کی تعداد بہت لمبی ہے۔ دوسری مثال ملکِ شام اور اس میں مسلمانوں کی ہلاکت اور ہر طرح کی تباہی کی داستان ہے۔ 1963ء سے 2024ء تک اس میں لاکھوں مقتول ہوئے، لاکھوں ترکِ وطن پر مجبور ہوئے، شہروں کو ویران و کھنڈر بنا دیا گیا۔ شام میں 1963ء میں حافظ الاسد اقتدار پر قابض ہو کر آمرِ مطلق بن گیا۔ یہ نصیری، دروزی، باطنی شیعہ تھا۔ یہ بحقِ مسلمان، یہود و نصاریٰ سے زیادہ خطرناک تھا۔ اس نے شام کے سنی مسلمانوں پر ظلم و جور کی عدیم المثال تاریخ رقم کی۔ اس میں اس کے معاون عام روافض تو تھے ہی، ملحد روس برابر کا شریک رہا۔ اور جب بشار الاسد کا دور آیا تو اس نے رافضی ایران اور ملحد روس کے ذریعے 10 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا۔ اس میں روس کا کردار سب سے زیادہ سیاہ رہا، اور یہود و نصاریٰ بھی اس خوں آشامی اور شام کی بربادی میں شریک رہے۔ حالیہ دنوں کی مثال سامنے ہے۔ بروقت یمن کے حوثی باغی، جو عقائد کی روشنی میں رافضی ہیں، یہ سنی مسلمانوں کے دشمن ہیں اور بروقت مملکتِ سعودی عرب پر مسلسل حملہ کر رہے ہیں۔ یہ حوثی باغی، محرم و مفسد، تعداد میں تھوڑے، اسلحہ اور جنگی ساز و سامان میں کمزور، ان کی مالی پوزیشن غیر مستحکم، اقتصادی طور پر بے حد کمزور، جو ان کے حال سے ظاہر و باہر ہے، لیکن یہ ہتھیار، میزائل وہ کیسے اور کہاں سے پاتے ہیں؟ مہلک ہتھیاروں کا یہ بڑا ذخیرہ کون فراہم کر رہا ہے، جن کا وہ تسلسل کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں؟ کہاں سے مل رہی ہے یہ کمک حوثی کمینوں کو؟ اس کا جواب دنیا جانتی ہے، خود حوثی جانتے ہیں کہ یہ کمک ان کو ایران سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ برسوں کا پلان ہے۔ اس میں ان کا سب سے بڑا معاون صہیونی حکومت اسرائیل ہے اور ہتھیاروں کے تمام عالمی تاجر اس میں شریک ہیں۔ ملحد، دونوں بڑی طاقتیں بھی اس خونی کھیل میں یقیناً شامل ہیں، مگر حالات کا جبر و قہر ہے کہ ان مجرمین، موت کے سوداگروں کا نام لینا امرِ دشوار ہے۔ صحافی تجزیہ نگار آخر سوال کا جواب دیں گے کہ اصلاً ایک غریب ملک کے غریب باشندے بالآخر اپنے سے بڑی طاقت کے ساتھ کس بل بوتے پر ٹکر لے رہے ہیں؟ وہ خود فقر و فاقہ کے شکار ہیں، مگر میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جنگ پورے عالم کے رافضی اہلِ سنت کے خلاف لڑ رہے ہیں اور تمام اغیار ان کے کسی نہ کسی درجے میں معاون و مددگار ہیں۔

شائع شدہ: منگل, 27 اکتوبر، 2026 | 7:57 PM IST
