
انجینئر محمود اقبال
(دوسری قسط)
ڈاکٹر عبدالکلام کا ابتدائی خواب تھا کہ وہ انڈین ائیر فورس میں پائلٹ بنیں۔انہوں نے ائیر فورس کے انتخاب میں حصہ لیا، مگر وہ مطلوبہ مقام حاصل نہ کر سکے تھے۔یہ ناکامی ان کے لئے یقینا،ایک بڑا موڑ تھی۔لیکن انہوں نے اسے اپنی زندگی کا اختتام نہیں سمجھا تھا۔اس کے بجائے انہوں نے ائیرو ناٹییکل انجینئرنگ، راکٹ اور خلائی سائنس کا راستہ اختیار کیا۔یہ واقعہ ان کی زندگی کے اس فلسفہ کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک راستہ بند ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ منزل ہی ختم ہوگئی ہو؟یہیں سے ان کا عملی سفر ہوائی جہاز، راکٹ اور خلائی ٹیکنالوجی کی جانب شروع ہوا تھا۔
1958 ء میں اعلی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر عبدالکلام نے”ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائیزیشن“بنگلور،یعنی،ڈی آر ڈی او“ DRDO (Defence Research and Development Organisation)میں کام شروع کیا۔ابتدائی طور پر وہ ایک چھوٹے سے”ہاور کرافٹ“ (Hovercraft) منصوبہ سے وابستہ ہوئے۔ تاہم ان کی اصل صلاحیتیں اس وقت زیادہ نمایاں ہوئیں جب انہیں ہندوستان کے خلائی پروگرام سے وابستہ ہونے کا موقع ملا۔1960ء کی دہائی میں عبدالکلام”اسرو“یعنی،انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائیزیشن“بنگلور (Indian Space Research Organisation)سے وابستہ ہوئے۔وہ ہندوستان کے پہلے ”سٹیلائٹ لانچ وہیکل“ Satellite Launch Vehicle) ٰ)-III)اSLV) منصوبہ کے پروجیکٹ ڈائیریکٹربنائے گئے تھے۔یہ ان کے سائنسی کیریئر کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک تھی۔اس منصوبہ کی کامیابی ہندوستان کے خلائی پروگرام کے لئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ 18 جولائی، 1980ء کو (SLV-III)نے”روہنی سٹیلائیٹ“(Rohini Satellite)کو زمین کے متعینہ مدار میں پہنچایا دیاتھا۔اس کامیابی نے عبدالکلام کو ہندوستان کے نمایاں خلائی سائنس دانوں میں شامل کر دیا۔اس کے بعد عبدالکلام دوبارہ دفاعی تحقیق کے شعبے میں آئے اور”انٹیگریٹڈ گائڈڈ مہزائل ڈیوپلمنٹ پروگرام“(IGMDP)یعنی،(Integrated Guided Missile Development Programme)، میں اہم کردار ادا کیا۔اس پروگرام کے تحت”پرتھوی“ (Prithvi)،”اگنی“ (Agni)،”آکاش“ (Akash)،”ترشول“(Trishul)،اور”ناگ“ (Nag)جیسے میزائل منصوبوں پر کام ہوا۔اسی وجہ سے وہ دنیا بھرمیں ”میزائل مین آف انڈیا“(Missile Man of India)کے لقب سے نوازے گئے تھے۔1990ء کی دہائی میں عبدالکلام ہندوستان کی دفاعی اور جوہری صلاحیت سے متعلق اعلیٰ سطح کی سائنسی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے۔1998ء کے پوکھران II) (Pokhranجوہری تجربات کے دوران وہ ہندوستان کے نمایاں سائنسی رہنماؤں میں شامل تھے۔ ان کی سائنسی خدمات کے باعث انہیں ملک میں غیر معمولی احترام حاصل ہوا۔سرکاری سوانح کے مطابق انہوں نے ڈپارٹمنٹ آف اٹامک انرجی کے ساتھ مل کر ان تجربات کے سائنسی انتظام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس عرصے نے انہیں ہندوستان کے قومی سطح کے سب سے معروف سائنس دانوں میں شامل کر دیا۔
1979ء میں (SLV-III)لانچ کی پہلی کوشش کامیاب نہ ہوسکی تھی اور مصنوعی سیارہ مطلوبہ مدار میں نہیں پہنچ سکا تھا۔عبدالکلام نے اس ناکامی سے بہت کچھ سیکھا۔ان کے سرپرست پروفیسر ستیش دھون نے اس موقع پر اہم قیادت کا مظاہرہ کیا تھا۔عبدالکلام نے خود ایک انٹرویو میں یاد کیا کہ جب پہلی (SLV-III) کی کوشش ناکام ہوئی تو پروفیسرستیش دھون نے ذمہ داری اپنے سر لی تھی، لیکن جب اگلی کوشش کامیاب ہوئی تو انہوں نے کامیابی کا کریڈٹ عبدالکلام اور ان کی ٹیم کو دیا تھا۔ 18جولائی، 1980ء کو دوسری اہم کوشش میں ’ایس ال وی‘ (SLV-III) نے ”روہنی سیٹالائٹ“کو اپنے متعینہ مدار میں پہنچا دیا تھا۔یہ ہندوستان کے خلائی پروگرام کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس کامیابی نے ہندوستان کو ان ممالک کے گروپ میں شامل کیا جو اپنے لانچ وہیکل کے ذریعے مصنوعی سیارے مدار میں پہنچا سکتے ہیں۔ڈاکٹر عبدالکلام کی زندگی میں پروفیسر ستیش دھون کا مقام بہت بلند تھا۔کلام انہیں صرف ایک اعلیٰ سائنس داں نہیں بلکہ اپنا ایک شفیق استاد اور رہنما سمجھتے تھے۔ان سے عبدالکلام نے خاص طور پر یہ سیکھا کہ ”ناکامی کی ذمہ داری قائد کو لینی چاہیے، جبکہ کامیابی کا کریڈٹ پوری ٹیم کو دینا چاہئے“۔ یہی قیادت کا تصور عبدالکلام کی اپنی شخصیت میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
ڈاکٹرعبدالکلام کی زندگی میں ایک انتہائی اہم شخصیت”اِسرو“ کے بانی ڈاکٹر وکرم سارابھائی بھی تھے۔ڈاکٹر وِکرم ہندوستان کے خلائی پروگرام کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔عبدالکلام نے خود بتایا کہ انہوں نے 1963ء سے 1971ء تکڈاکٹر وکرم ساربھائی کے ساتھ کام کیا اور ان کی قیادت سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ وِکرم سارابھائی کا تصور یہ تھا کہ خلائی ٹیکنالوجی صرف طاقت یا فوجی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ، تعلیم،مواصلات،زراعت، قدرتی وسائل کی تلاش اوردیہی ترقی کے لئے بھی استعمال ہونی چاہئے۔
بعد میں ڈاکٹر عبدالکلام”ڈی آر ڈی او“ (DRDO) میں واپس آئے اور’انٹیگریٹڈ گائیڈڈ میزائل ڈیولمنٹ پروگرام‘یعنی،(IGMDP)
Integrated Guided Missile Development Programme)) کے چیف ایکزیٹیوبنائے گئے۔اس پروگرام کے تحت مختلف ہندوستانی میزائل نظاموں کی ترقی پر کام ہوا، جن میں ’پرتھوی،اگنی،آکاش،ترشولاور ناگ شامل تھے۔عبدالکلام نے میزائل ٹیکنالوجی میں ہندوستان کی خود انحصاری کے لئے متعدد اداروں اور سائنس دانوں کو ایک ساتھ کام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دور کی وجہ سے وہ ہندوستان بھر میں ”میزائل مین آف انڈیا“کے نام سے مشہور ہوئے۔ڈاکٹرعبدالکلام جولائی 1992ء سے دسمبر 1999ء تک، سائینسی مشیر براہ ڈیفنس منسٹر (Scientific Adviser to the Defence Minister)اور”ڈیولپمنٹ سکریٹری ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ ریسرچ“(Development Secretary, Department of Defence & Research) کے عہدہ پر بھی فائزہے۔
عبدالکلام صرف میزائل اور راکٹ کے سائنس داں نہیں تھے،بلکہ وہ چاہتے تھے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہندوستان کی مجموعی ترقی کا ذریعہ بنے۔انہوں نے”ٹکنالوجی وژن2020“ (Technology Vision 2020) کے تصور کو آگے بڑھایا۔ان کا خواب تھا کہ ہندوستان غربت کی سطح میں کمی لائے،جدید زراعت اپنائے، توانائی میں خود کفیل ہو، اعلیٰ تعلیم کو فروغ دے، جدید ٹیکنالوجی پیدا کرے، دیہی اور شہری ہندوستان کے درمیان فرق کم کرے اور ایک ترقی یافتہ ملک بنے۔ڈاکٹر عبدالکلام”ٹکنالوجی،اطلاعات،پیش گوئی اور جائزہ کونسل‘ (TIFAC)یعنی،(Technology Information, Forecasting and Assessment Council)

کے چئیرمین بھی رہے اور تقریباً 500 ماہرین کے تعاون سے (Technology Vision 2020) کے لئے روڈ میپ تیار کرنے میں قیادت کی تھی۔1999 ء سے 2001ء تک وہ حکومتِ ہند کے ”پرنسپل سائینٹیفک مشیر“بھی رہے۔اس عہدے پر انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی اور قومی ترقی سے متعلق پالیسیوں اور منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ صدر بننے سے پہلے ہی عبدالکلام کا رجحان درس و تدریس کی طرف بہت بڑھ چکا تھا۔نومبر 2001ء سے وہ ”انّا یونیورسٹی“(Anna University)چینّائی،میں پروفیسر کے طور پر تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہوئے۔ وہ اسکول کے بچوں سے ملنے کو بھی بہت اہم سمجھتے تھے۔
2002ء میں ڈاکٹرعبدالکلام ہندوستان کے 11ویں صدرِ جمہوریہ منتخب ہوئے۔انہوں نے 25 جولائی، 2002ء سے 24 جولائی، 2007ء تک صدرِ جمہوریہ ہند کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ روایتی سیاسی پس منظر سے پرے،ان کی شناخت بنیادی طور پر سائنس داں اور ٹیکنالوجی کے ماہر کی تھی۔ خصوصاً، بچوں اور نوجوانوں سے براہِ راست رابطہ نے انہیں بہت مقبول بنایا تھا۔ اسی لئے انہیں عام طور پر”عوام کا صدر“کہا گیا۔2007ء میں صدارت سے سبک دوشی کے بعد انہوں نے آرام کی زندگی اختیار نہیں کی۔وہ مختلف اداروں میں لیکچر دیتے، طلبہ سے ملاقاتیں کرتے اور تعلیم و تحقیق کی ترغیب دیتے رہے۔انہوں نے”انڈین انستیٹیوٹ آف مینیجمنٹ“احمد آباد،اندور اور شیلانگ جیسی متعددو پروقار یونیورسٹیوں میں تدریسی و علمی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ان کا سب سے بڑا پیغام تھا کہ”نوجوان بڑے خواب دیکھیں، علم حاصل کریں اور اپنے خوابوں کو عملی کوشش میں تبدیل کریں“۔بقول علّامہ اقبالؒ ؎
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
ڈاکٹرعبدالکلام کی اہم ترین کتابوں میں انکی سوانح عمری’پرواز‘ (Wings of Fire: An Autobiography)، جس میں ان کے بچپن سے لے کر سائنسی زندگی تک کا سفر بیان ہوتا ہے۔”اذہانِ فروزاں“ (Ignited Minds)،”نا قابلِ شکست جذبہ“ (Indomitable Spirit)، ”3 ا رب کا ہدف“(Billion Target 3)،”ہندوستان کے مستقبل کا وژن“(A Vision for the New Millennium, India 2020)اور”میراسفر“(My Journey: Transforming Dreams into Actions) شامل ہیں۔
عام طور پر لوگ ڈاکٹر کلام کو صرف سائنس داں سمجھتے ہیں، لیکن انہیں شاعری اور موسیقی سے بھی بہت لگاؤ اور دلچسپی تھی۔وہ کبھی کبھی تمل زبان میں شاعری بھی کرتے تھے۔سابق صدرِ جمہوریہ ہند، ”بھارت رتن“ پرنب مکھرجی کی یادداشت کے مطابق عبدالکلام بعض اوقات شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے وقت اشعار لکھ کر فوجی جوانوں کو پڑھنے کو دیتے تھے۔ (جاری)
شائع شدہ: اتوار, 25 اکتوبر، 2026 | 7:51 PM IST

