سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کے اسباب و حقائق اور مضمرات کو سمجھنے کے لیے ارکانِ ثلاثہ، اسرائیل، امریکہ اور ایران کے باہمی روابط کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔ اسرائیل یعنی صہیونی یہودی، امریکہ یعنی تنصیری صلیبی، اور ایران یعنی شیعی رافضی میں اختلاف کے باوجود حد درجہ ہم آہنگی ہے۔ ان میں باہم سیاسی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات بہت مستحکم ہیں۔ یہ وہ کڑوا سچ ہے جس سے دنیا ناواقف ہے، یا وہ تجاہلِ عارفانہ کا شکار ہے۔

مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی
مشرقِ وسطیٰ، خلیجِ عرب، جزیرۂ عرب اور حجازِ عرب کے خطے میں کشیدگی یا جنگی حملوں کا آغاز 28 فروری 2026ء کو ہوا۔ مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی اس کشمکش کا حالیہ مرحلہ یہ ہے کہ یمن کے حوثی گروہ اور یمن کی منتخب حکومت کے مابین جنگ جاری ہے، اور اہم بات یہ ہے کہ حوثی سعودی عرب پر مسلسل مختلف مہلک ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران نے خلیج کے بعض ممالک، خصوصاً سعودی عرب، پر حملے کیے تھے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ایران رافضی شیعہ ہے، اور حوثی اصلاً زیدی شیعہ تھے، اور اب وہ رافضی شیعہ ہیں اور نظریات و افکار میں ایران کے ہم نوا ہیں۔
آج بظاہر نہ ایران اور امریکہ کے مابین عملی جنگ ہے، نہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ ہے۔ ظاہر میں امریکہ اور اسرائیل خاموش ہیں، اور ایران بھی فی الحال نہ خلیجی ممالک پر، نہ ہی سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ آور ہے۔
حالیہ قریبی ایام میں حوثی پوری قوت کے ساتھ سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلوں سے خوب حملہ آور ہیں۔
فی الحال سعودی عرب پر حملہ کرنے میں حوثی گروہ غالب نظر آ رہے ہیں، اور صحافیوں و تجزیہ نگاروں کے مطابق سعودی دفاع کمزور یا ناکام نظر آ رہا ہے، حالاں کہ سعودی فوج ایک اہم، تربیت یافتہ اور مسلح فوج ہے، اور حوثی ایک گروہ ہیں جو مالی اور نفری کے اعتبار سے کمزور ہیں۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فقر و فاقے کے شکار حوثیوں کے پاس ہتھیار کہاں سے میسر ہیں؟ انہیں کون اسلحہ فراہم کر رہا ہے، اور انہیں ہر نوعیت کی کمک کہاں سے پہنچتی ہے؟
ان سوالات کا جواب کیا ہے؟
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حوثی گروہ کا حامی و ناصر کون ہے؟ ان حملوں سے خود ان کے کیا اہداف و مقاصد ہیں؟ سعودی عرب کو کون کمزور، شکست خوردہ، مٹتا ہوا اور زوال پذیر دیکھنا چاہتا ہے؟
دوسری اہم بات بھی قابلِ غور ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور روافضِ ایران کے باہمی تعلقات و روابط کی نوعیت کیا ہے؟
کیا واقعی ایران و اسرائیل میں عداوت ہے؟ یا دونوں میں قربت اور گہری دوستی ہے؟ دونوں کے سفارتی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کی حالت کیا ہے؟
اسی طرح کیا ایران اور امریکہ واقعی ایک دوسرے کے دشمن ہیں؟ دونوں کے اہداف و مقاصد، عزائم اور منصوبوں کی حقیقت کیا ہے؟
کیا واقعی؟
ان اور اس نوعیت کے سوالات کے جوابات کو صحیح نصوص، ثابت شدہ تاریخی واقعات اور حقائقِ واقعہ کی روشنی میں جاننے اور سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔
مثلاً یہ ایک امرِ مسلم ہے کہ روافض نے تاریخ کے مختلف ادوار میں صلیبیوں اور دیگر کفار و مشرکین کے ساتھ ساز باز کر کے، غش و خیانت کا ثبوت دے کر اور اسلامی حکومتوں کے خلاف سازش کر کے مسلم حکومتوں کو نقصان پہنچایا ہے، یا انہیں تخت و تاراج کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور ہر ممکن طریقے سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کی دل آزاری میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
یہی حال اہلِ کتاب، یہود و نصاریٰ کا ہے۔ وہ اسلام و ایمان کے دشمن ہیں، اور ان دونوں کی دشمنی کی ایک طویل تاریخ ہے۔
خود صہیونیت اور صلیبیت میں باہمی اختلاف کے باوجود، دونوں مسلمانوں کے خلاف متحد و متفق نظر آتے ہیں۔
اسلام کی طرف منسوب فرقۂ رافضہ پوری تاریخ میں اہلِ ایمان کے خلاف یہود و نصاریٰ کے مددگار و معاون رہے ہیں۔
تشیع کا اصل بانی اور مؤثر عبداللہ بن سبا ہے، اس لیے یہود سے دوستی ان کے خمیر میں داخل ہے۔
تاریخی شواہد کی روشنی میں روافض کی یہود سے موالات اور ساز باز معروف بات ہے۔
یوں ایران اور اسرائیل میں اصلاً عملی طور پر دشمنی نہیں ہے۔
اسی طرح ایران کے امریکہ کے ساتھ روابط بہت قوی ہیں، اور ان کے سیاسی و ثقافتی روابط بھی مستحکم ہیں۔ بظاہر مختلف امور میں اختلاف کے باوجود، ان کے مابین گہری دوستی ہے۔
یوں یہ تینوں درحقیقت اہلِ سنت والجماعت کے دشمن ہیں۔
یہ تینوں ہی حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران میں نہ جنگ ہوئی ہے، نہ ہوگی۔ تقیہ کا تماشا جاری رہے گا۔ ظاہر میں کچھ اور، باطن میں کچھ اور؛ الگ کھیل جاری رہے گا۔
ورنہ سچ یہی ہے کہ حوثی بذاتِ خود اس لائق نہیں ہیں کہ وہ سعودی عرب پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوں۔
شائع شدہ: اتوار, 25 اکتوبر، 2026 | 4:40 PM IST

