
یاسر اسعد
ریسرچ اسکالر کنگ سعود یونیورسٹی ریاض
جزیرہ نمائے عرب کے انتہائی مغرب میں واقع یمن کا جغرافیہ بہت جداگانہ ہے، جہاں عرب دنیا عموما لق دوق صحراؤں اور بنجر زمینوں پر مشتمل ہے وہیں یمن فلک بوس پہاڑوں، سرسبز وشاداب وادیوں اور طویل ساحلی پٹیوں کا امتزاج ہے. یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے سے اسے یمن السعید یعنی خوش بخت یمن کا لقب حاصل تھا، اسلامی تاریخ پڑھیں یا ہندو عرب تعلقات پر نظر ڈالیں، یا حج کے سفرنامے دیکھیں، عدن، صنعاء، حضرموت وغیرہ نام ہمارے لیے قطعا نئے نہیں ہیں. ایک زمانے میں خوشبختی کی علامت یمن ان دنوں اپنی طویل تاریخ کے غالبا سب سے بدبخت دور سے گزر رہا ہے، اس سرزمین پر فی الوقت ظلم وبربریت اور نسل کشی کا ایسا کھیل جاری ہے کہ آپ کچھ وقت کے لیے غزہ کو بھی بھول سکتے ہیں، تعز اپنے بھائی غزہ جیسا ہوگیا ہے.
کسی بھی جنگ زدہ خطے کی تاریخ عموما دو متحارب گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے گرد گھومتی ہے، لیکن یمن کے سنگلاخ پہاڑوں اور قدیم شہروں میں لڑی جانے والی جنگ کی نوعیت اس سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ بھیانک ہے۔ یمن پر مسلط حوثی ملیشیا کی جنگ دراصل کوئی نیا سیاسی ابال نہیں، بلکہ یہ گیارہ سو سال پرانے امامت کے اس استبدادی نظریے کا تسلسل ہے جو خود کو پیدائشی اور خدائی حق حکمرانی کا وارث سمجھتا ہے۔ اس زعم کو عوام پر مسلط کرنے کے لیے جو خون کی ہولی کھیلی گئی، وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کی ایک ایسی لرزہ خیز داستان ہے جس نے یمنی معاشرے کی تہذیبی، معاشرتی اور مذہبی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔
یمن کی حالیہ تاریخ کا یہ تاریک باب 2014 میں اس وقت رقم ہونا شروع ہوا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر بزور طاقت قبضہ کیا اور پھر اپنے ہی حلیف سابق صدر علی عبداللہ صالح کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ واضح رہے کہ صدر علی عبد اللہ خود زیدی تھے۔ اس ملیشیا نے اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے سب سے پہلے یمن کے مذہبی اور تعلیمی تشخص کو نشانے پر لیا۔ دماج کے تاریخی اسلامی مرکز کا محاصرہ کر کے ہزاروں طلباء اور ان کے اہل خانہ کو زبردستی بے دخل کیا گیا۔ سفاکیت کی انتہا دیکھیے کہ کتاف، عمران اور مأرب سمیت یمن بھر میں درجنوں مساجد اور قرآن و حدیث کے مراکز کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا یا ان کی حرمت پامال کرتے ہوئے انہیں فوجی چھاؤنیوں اور قات کھانے کی مجالس میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس فکری تطہیر کی راہ میں جو بھی رکاوٹ بنا، اسے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ ستر سالہ بزرگ عالم دین شیخ صالح حنتوس کی مثال دلخراش ہے، آپ کے گھر کا محاصرہ کر کے محض اس لیے شہید کیا گیا اور اہل خانہ پر تشدد کیا گیا کہ انہوں نے قرآن پڑھانا بند کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
انسانی جانوں کی بے توقیری کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ مئی 2015 میں عرب یورپی سینٹر برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون (AECHRIL) نے بتایا کہ جب عدن میں جنگ کے شعلے بھڑکے تو سمندر کے راستے اپنی جانیں بچا کر بھاگنے والے نہتے پناہ گزینوں پر حوثی ملیشیا نے وحشیانہ فائرنگ کی جس میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ ان کے نزدیک عام شہری کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔
یمن کا قبائلی نظام صدیوں سے اس معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے، لیکن حوثیوں نے اس سماجی تانے بانے کو ادھیڑنے کے لیے قبائلی عمائدین کے خلاف ایک منظم مہم کا آغاز کیا۔ یمنی نیٹ ورک فار رائٹس اینڈ فریڈمز کی تفصیلی رپورٹ بتاتی ہے کہ یکم جنوری 2016 سے لے کر مارچ 2026 تک کے عرصے میں تیرہ یمنی صوبوں میں قبائلی عمائدین کے خلاف 1937 سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ ان کارروائیوں میں 156 قبائلی رہنماؤں کو قتل کیا گیا، جن میں سے 49 کو ان کے بچوں کی آنکھوں کے سامنے سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ لاشوں کی بے حرمتی ان کا ایک ایسا وطیرہ بن چکا ہے جو کسی بھی سلیم الفطرت انسان کے لیے ناقابل فہم ہے۔ 16 لاشوں کو نذر آتش کیا گیا اور 29 کو گاڑیوں کے پیچھے باندھ کر سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ 2019 میں صوبہ عمران میں یہی کچھ ہوا جب انہوں نے اپنے ہی سابق حامی شیخ مجاہد قشیرہ الغولی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو بازاروں میں گھسیٹا تاکہ عوام کے دلوں میں دہشت بیٹھ جائے۔ اس کا واحد مقصد قبائل کو ڈرا کر ان کے نوجوانوں کو محاذ جنگ کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ اسی دوران عوام کی معاشی کمر توڑنے کے لیے لاکھوں سرکاری ملازمین اور اساتذہ کی تنخواہیں بند کر دی گئیں اور بین الاقوامی امدادی رقوم کو بے دردی سے لوٹا گیا۔
قانون اور انصاف کے نام پر جو مذاق حوثی عدالتوں میں رچایا گیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ 2017 کے اوائل میں حکومت کے حامی 36 مغوی نوجوانوں پر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگا کر غیر قانونی ٹرائل شروع کیے گئے۔ یمنی الائنس فار ہیومن رائٹس کے مطابق صرف 2017 کی پہلی ششماہی میں ان کی اندھا دھند فائرنگ سے 440 عام شہری جاں بحق ہوئے جن میں 78 بچے اور 35 خواتین شامل تھیں۔ 2018 میں جب الحدیدہ میں ملیشیا کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے نہتے شہریوں کو انسانی ڈھال بنا لیا، الثورہ ہسپتال پر میزائل داغے اور مساجد کے میناروں پر سنائپرز بٹھا دیے۔ یمن کی سرزمین کو انہوں نے بارودی سرنگوں کے ایک ایسے قبرستان میں تبدیل کر دیا ہے جس کا خمیازہ آنے والی کئی نسلیں بھگتیں گی۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق پورے یمن میں بیس لاکھ سے زائد بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں جنہوں نے اب تک دس ہزار سے زائد شہریوں کو معذور یا ہلاک کیا ہے جن میں اکثریت کسانوں، خواتین اور بچوں کی ہے۔ 2018 کے محض ابتدائی پانچ مہینوں میں ان سرنگوں نے 25 بچوں سمیت 115 شہریوں کی جان لی۔
اختلاف رائے کو کچلنے کے لیے سرعام پھانسیوں کا بازار گرم رکھا گیا۔ 2021 میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق صوبہ مأرب کے گنجان آباد علاقوں پر توپ خانے اور بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی گئی جس سے بے شمار خواتین اور بچے لقمہ اجل بنے۔ اسی سال صنعاء کے تاریخی میدان تحریر میں تہامہ کے نو بے گناہ شہریوں کو ایک جعلی مقدمے کے بعد سرعام فائرنگ کر کے شہید کیا گیا۔ اس کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ ان شہداء میں ایک کمسن بچہ عبدالعزیز الاسود بھی شامل تھا جسے دوران حراست اس قدر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، اور اسے سہارا دے کر سزائے موت کے چبوترے تک لایا گیا۔
خواتین اور بچوں کا استحصال اس تنظیم کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ یونیسیف کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 45 لاکھ یمنی بچے سکولوں سے باہر ہیں، 2300 سکولوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور 1500 کو فوجی کیمپوں میں بدل کر تیس ہزار سے زائد بچوں کو زبردستی جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ یمنی روایات میں خواتین کا ایک خاص احترام رہا ہے، لیکن حوثیوں نے زینبیات کے نام سے ایک مسلح خواتین فوج قائم کی جس کا کام گھروں کی چاردیواری کا تقدس پامال کرنا ہے۔ اب تک پندرہ سو سے زائد خواتین کو خفیہ عقوبت خانوں میں قید کر کے ان پر بدترین جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا جا چکا ہے۔
ان سب سے بھی زیادہ خوفناک پہلو وہ ثقافتی کورسز اور سمر کیمپس ہیں جن کے ذریعے بچوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ 2020 کے بعد سے ایسے 44 اندوہناک واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں ان کیمپوں سے لوٹنے والے نوجوانوں نے شدت پسندی کا شکار ہو کر اپنے ہی والدین اور قریبی رشتہ داروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مئی 2025 میں تو انتہا ہوگئی جب صنعاء میں ایک 15 سالہ لڑکے محمد عبداللہ حسان نے حوثی کیمپ سے تربیت لے کر آنے کے بعد اپنے سگے والد کو خنجر سے ذبح کر ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ 2025 کے اواخر تک حوثی علاقوں میں جرائم کی شرح میں 500 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہوا۔ سام تنظیم کے مطابق صرف 2024 میں حوثیوں نے 3472 انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔
مخالفین کے گھروں کو بارود سے اڑانا ان کی ایک اور پسندیدہ حکمت عملی ہے۔ پچھلے دس سالوں میں پندرہ سو سے زائد گھروں کو ڈائنامائٹ لگا کر زمین بوس کیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کی دستاویزات کے مطابق 19 مارچ 2024 کو صوبہ بیضاء کے علاقے رداع میں ایک گھر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا، نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے، جبکہ 7 شدید زخمی ہوئے۔ اس دھماکے سے اردگرد کے مزید 5 گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جب مقامی آبادیوں نے ان مظالم کے خلاف سر اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں بدترین محاصرے کا سامنا کرنا پڑا۔ 5 سے 12 جنوری 2025 کے درمیان ہیومن رائٹس واچ اور 115 انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق صوبہ بیضاء کے گاؤں حنکۃ آل مسعود پر ڈرون، بکتر بند گاڑیوں، میزائلوں اور ہلکے ہتھیاروں سے دھاوا بولا گیا۔ درجنوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے، دس گھروں کو تباہ کیا گیا، اور ایک مسجد اور دینی مدرسے کو نذر آتش کر دیا گیا۔ شہریوں کا سونا، نقدی اور اسلحہ تک لوٹ لیا گیا۔ سفاکیت کا عالم یہ تھا کہ گاؤں کا انٹرنیٹ کاٹ کر چار دن تک ایسا سخت محاصرہ کیا گیا کہ خوراک اور ادویات کا ایک قطرہ بھی اندر نہ جا سکا۔
اکتوبر 2026 میں تو اس بربریت نے تمام حدیں پار کر لیں۔ یمنی نیٹ ورک فار رائٹس اینڈ فریڈمز کے مطابق محض 48 گھنٹوں کے اندر 9 صوبوں میں 170 جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔ 432 اندھا دھند گولے فائر کیے گئے، 61 گھروں پر چھاپے مارے گئے اور 23 گھروں پر گولہ باری کی گئی۔ ان 48 گھنٹوں کی وحشت میں 4 خواتین اور 3 بچوں سمیت 29 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے۔ مساجد، دو ہسپتالوں اور عدن ایئرپورٹ تک کو نشانہ بنایا گیا۔
اسی دوران تعز شہر، جو برسوں سے محاصرے کا شکار ہے، یکم ستمبر سے 22 اکتوبر 2026 کے درمیان ایک بار پھر اس قدر سخت محاصرے میں لیا گیا کہ 20 دنوں تک خوراک کی ترسیل مکمل بند رہی اور اقوام متحدہ کو انسانی المیے کی ہنگامی وارننگ جاری کرنی پڑی۔ اس مختصر عرصے میں تعز میں 1891 جرائم کا ارتکاب کیا گیا، 98 گھروں کو زمین بوس کیا گیا اور 38 بچوں سمیت 212 شہری مارے گئے۔ اپنے اندرونی جرائم پر پردہ ڈالنے اور ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے اس ملیشیا نے مکہ، مدینہ اور ریاض کے شہری ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا ڈھٹائی سے اعتراف کیا، جو ان کی شہریوں کے خون کے تئیں بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔
سطور بالا سے مترشح ہے کہ یمن میں جاری خونریزی محض ایک سیاسی کشمکش نہیں، بلکہ ایک ایسی غاصبانہ سوچ کی عکاس ہے جو اپنے سوا کسی کو جینے کا حق دینے پر آمادہ نہیں۔ مساجد کی بے حرمتی، علما کا قتل، لاشوں کی بازاروں میں تشہیر، رہائشی بستیوں کو بارود سے اڑانا اور معصوم بچوں کی ذہن سازی کر کے انہیں اپنے ہی والدین کا قاتل بنا دینا وہ تلخ سچائیاں ہیں جن پر کھوکھلے نعروں کی چادر ڈال کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔
اس المناک صورت حال پر امت کے اہل حل وعقد مضطرب ہیں، دعائیں کررہے ہیں، مگر دوسری طرف چند افراد ایسے بھی ہیں جو اسے سعودیہ بنام یمن جنگ قرار دیتے ہیں، اور رائے عامہ کو سعودی مخالف بنانے کی پوری کوشش کرتے ہیں، حالانکہ جو جنگ جاری ہے وہ یمن کی قانونی حکومت بنام حوثی باغی ہے، اور یمنی عوام خود اس بربریت کا شکار ہے، ستر فیصد عوامی علاقوں پر ان باغیوں کا تسلط ہے، جو واقعات ہم نے ذکر کیے وہ مشتے نمونہ از خروارے ہیں، یہ بعض وه واقعات ہیں جو رپورٹ ہوپاتے ہیں، ورنہ عمارتوں کے ملبے سے پوچھنے کون جاتا ہے کہ اس کے مکینوں پر کیا بیتی ہے.
اللہ رب العزت یمنی عوام کی حفاظت فرمائے، اور انہیں باطل کے شکنجے سے محفوظ رکھے۔ آمین.
شائع شدہ: اتوار, 25 اکتوبر، 2026 | 8:12 PM IST

