Siyasi Manzar
Top News راجدھانی

مساجد اللہ کے محبوب ترین مقامات ہیں ان کے تقدس کا احترام ہرمسلمان کا بنیادی فریضہ ہے:مولانا محمد رحمانی

آج خودمسلمان تصویراورویڈیوزکے فتنہ اوردیگراعمال کےذریعہ مساجد کےتقدس میں کمزورپڑرہا ہے
نئی دہلی 23اکتوبر2026،آج کے دور میں جہاں مساجد کی حفاظت کا مسئلہ سخت تشویش کے دور سے گزررہا ہے وہیں مساجد کے تقدس کی پامالی بھی بالکل عام ہوتی چلی جارہی ہے ، ایک جانب مساجد کے تحفظ کو باہری طاقتو ں کے ذریعہ چیلنج ہے جبکہ دوسری جانب مساجد کے تقدس کو خود مسلمانوں اور داخلی افراد پامال کررہے ہیں ۔ حرمین شریفین سے لے کر عام مساجد تک سیلفی اورریلز نیز ویڈیوگرافی کا رواج بڑھتا چلاجارہا ہے ۔ خانۂ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ، احرام کی حالت میں، نماز پڑھتے ہوئے اوردعا کرتے ہوئے اللہ کی خوشنودی اوررضا مندی کے بجائے نفس پر ستی اور ریا کاری کے اسباب اختیار کیے جارہے ہیں ۔ مساجد میں قرآن وسنت کی تعلیم کے بجائے دنیاداری اوربدعات وخرافات کی تعلیم دی جارہی ہے ، جبکہ اسلام نے ہمیں مساجد کے احترام ، انکے کے حقوق کی ادائیگی اور مساجد کے تقدس کا خیال کرنے کا حکم دیا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ آبادی کے درمیان واقع مساجد کوبہت سے مسلمان صرف استنجا اورقضائے حاجت کے لیے استعمال کررہے ہیں، جبکہ مساجد میں داخل ہونے کے بعد باوضوءہوکر تحیة المسجد کا اہتمام کرنا اوراذان کے بعد مساجد سے باہر نہ نکلنا ہمارا شرعی فریضہ ہے ۔ اس کے لیے کوئی مجبوری ہی جواز فراہم کرسکتی ہے لیکن ہمارا وطیرہ یہی بنتا چلا جارہا ہے اوراس کے علاوہ بھی دیگر بہت سے اعمال کے ذریعہ ہم مساجد کے تقدس کوپامال کررہے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمدرحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ، جوگابائی، نئی دہلی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا مولانا مساجد کے تقدس پر گفتگو فرمارہے تھے، مولانا نے مساجد کا تقدس بیان کرنے کے ساتھ امت اسلامیہ کے وطیرہ پر بھی سوال اُٹھائے ۔ مولانا نے سورۂ توبہ کی آیات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مساجد کوخراب کرنا اورمساجد سے روکنا مشرکوں کا کام ہے اوراہل ایمان جومساجد کی رونق اورانہیں آبا د کرنے کا خیال کرتے ہیں وہ اللہ پر ، یوم آخرت پرایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں ، زکاة اد ا کرتے ہیں اوراللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے امید کہ یقینا یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہونگے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسجدیں اللہ کے محبوب مقامات ہیں اوربازار کو اللہ ناپسند فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آواز لگائے گا کہ میرے پڑوسی کہاں ہیں؟ فرشتے کہیں گے کہ کس کی مجال کہ وہ تیرا پڑوسی بنے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری مسجدوں کو آباد کرنے والے کہاں ہیں؟ یعنی مسجد کوآباد کرنے والے اللہ کے پڑوسی ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں مساجد کے احترام کی بہت تاکید کی گئی ہے اوراسی وجہ سے مساجد میں داخل ہونے پر دو رکعت تحیة المسجد پڑھنا، پیاز لہسن اوربدبودار چیزیں کھا کر مساجد میں جانے سے اجتناب کرنا، باوضو ہوکر داخل ہونا، بیع وشراءاورخریدوفروخت اورکھوئی ہوئی چیزکے اعلان سے اجتناب کرنا، خاموشی اختیار کرنا اور آواز بلند کرنے سے اجتناب کرنا، مساجد میں دنیاوی مشغولیات اوردنیاوی باتوں سے پرہیز کرنا وغیرہ شامل ہے اوراس کے علاوہ بھی بہت سے آداب واحکام وارد ہوئے ہیں۔

خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ نماز انسان کومنکرات اور فحش امور سے روکتی ہے لیکن نماز میں خشوع وخضوع نہ ہونے کی وجہ سے آج مساجد میں سیلفی ،ریلز اور ویڈیو اورفوٹو گرافی کارواج بڑھتا چلا جارہا ہے جس کی وجہ سے مساجد کا تقدس پامال ہورہا ہے ۔ صحابۂ کرام مساجد میں شور کرنے اور غیر متعلقہ امور کوانجام دینے والوں کوسخت تنبیہ کرتے تھے ۔ جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے مساجد میں تلاوت سے بھی منع فرماتے تھے۔لیکن آج ایسی خبریں بھی مل رہی ہیں کہ نوجوان مساجدمیں سوشل میڈیا پر نازیبا ویڈیوز دیکھ رہے ہیں، موبائل کے ذریعہ میوزک مساجد میں داخل ہورہا ہے ، بعض لڑکیا ں بھی مسجدوں میں ریلز اور سیلفی بنارہی ہیں ، میک اپ کرنے اور نامناسب لباس پہن کر آنے کے بھی واقعات سامنے آرہے ہیں۔

مولانا رحمانی نے مزید فرمایا کہ مساجد قرآن وسنت او ر صحابۂ کرام کی تعلیمات کوعام کرنے اورنشر کرنے کے مقام ہیں لیکن آج بہت سی بدعات وخرافا ت اورمنگھڑت واقعات کومساجد سے پھیلایا جارہا ہے اورقرآن وسنت کی مخالفت ہورہی ہے اوریہ انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے۔
خطیب محترم نے فرمایا کہ مساجد کوبیرونی طاقتوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہمیں جہاں مضبوط پالیسی بنانے کا اہتمام کرنا چاہیے وہیں ملکی آئین کے مطابق مدارس اور مساجد کے کاغذات کوبھی مضبوط کرنا چاہیے اورداخلی طور پر مساجد کے تقدس کی پامالی سے بچنے کے لیے مساجد کے حقوق ادا کرنے اورمساجد کوقرآن وسنت کے مطابق آباد رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اخیر میں مساجد کے احترام کی اپیل ، اس کے حقوق ادا کرنے کی گزارش اور دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔
آفس سکریٹری

Related posts

بھارت کا ڈیٹا صرف بھارتیہ ڈیٹا سینٹر میں ہی رہنا چاہیے:آکاش امبانی

Siyasi Manzar

اصلاح معاشرہ کانفرنس،وڈالاممبئی بحسن وخوبی اختتام پذیر

Siyasi Manzar

پالدھی فسادکی سی آئی ڈی تحقیقات اورفسادیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

Siyasi Manzar