اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام تعلیمی و ثقافتی مقابلے جاری
نئی دہلی۔ 23۔ اکتوبر، اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام 15 روزہ (22 اکتوبر تا 6 نومبر 2026) تعلیمی و ثقافتی مقابلوں کا آغاز غزل سرائی کے مقابلے سے ہوا۔ یہ مقابلے دہلی حکومت اور محکمۂ فن، ثقافت و السنہ کے وزیر اور اکادمی کے چیئرمین جنا کپل مشراکے تعاون سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اردو اکادمی، دہلی اسکولی سطح سے لے کر یونیورسٹی تک کے طلبہ کے لیے تعلیمی، ثقافتی اور تربیتی سرگرمیوں کا باقاعدگی سے اہتمام کرتی ہے۔ یہ مقابلے ہر سال منعقد کیے جاتے ہیں اور اب یہ سلسلہ تیسری دہائی میں داخل ہو چکا ہے۔ ان مقابلوں میں دہلی کے مختلف اسکولوں سے ہزاروں طلبہ شرکت کرتے ہیں۔ غزل سرائی، اردو ڈراما، تقریری، فی البدیہہ تقریری، بلند خوانی، گروپ سانگ، مضمون نویسی و خطوط نویسی، اردو خوش خطی، امنگ پینٹنگ، سوال و جواب (کوئز) اور بیت بازی ان مقابلوں کا حصہ ہیں۔
آج غزل سرائی مقابلہ برائے سیکنڈری زمرہ منعقد ہوا، جس میں 33 اسکولوں کے 49 طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ اس مقابلے میں ڈاکٹر ایم آر قاسمی اور ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی نے بحیثیتِ جج اپنے فرائض انجام دیے۔
مقابلے کے اختتام پر ڈاکٹر ایم آر قاسمی نے کہا کہ غزل سرائی محض اشعار پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ شعر کے مفہوم، جذبے اور زبان کی نزاکت کو سمجھنے کا فن بھی ہے۔ طلبہ و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تاہم تلفظ اور الفاظ کی درست ادائیگی پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کی ادائیگی اور شعری فہم کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی نے کہا کہ اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے ایسے مقابلوں کا انعقاد نئی نسل میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کرنے اور ان کے شعری ذوق کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ طلبا کیپُراعتماد پیشکش خوش آئند ہے تاہم بہتر تلفظ، مسلسل مشق اور اشعار کے مفہوم کو سمجھنے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ انھوں نے اردو اکادمی، دہلی کو اس بامقصد اقدام پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلے طلبا کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور انھیں نکھارنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق پہلے انعام کے لیے شیوم ولد ونود کمار(گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول، نمبر2، تخمیرپور) اورزویا قریشی بنت یامین قریشی(سروودیہ کنیا ودیالیہ، نورنگر) کومنتخب کیا گیا۔ دوسرے انعام کے لیے علینہ بنت محمد اسلم خان(سیدعابدحسین سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ)مدیحہ نجم بنت نجم الحق(ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد) اورمحمد ابوذر ولد محمد رضوان(اینگلوعربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ) کو منتخب کیا گیا جب کہ تیسرے انعام کے لیے وردہ خاتون بنت محمد اسلم(زینت محل سروودیہ کنیا ودیالیہ، جعفرآباد)،عائشہ نور بنت نورالدین(نیوہورائزن اسکول، نظام الدین)،علینہ پروین بنت محمد جسیم(جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) اورعمرہ چشتی بنت احمد ندیم چشتی(سروودیہ کنیا ودیالیہ نمبر۲ (اردو میڈیم) جامع مسجد) مستحق قرار دیا گیا۔

انعام یافتہ طلبا و طالبات اور ان کے اساتذہ کے ہمراہ ڈاکٹر ایم آر قاسمی، ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی و دیگر
ان کے علاوہ حوصلہ افزا انعام کے لیے زارا قریشی بنت محسن احمد(کوئن میری اسکول، تیس ہزاری)،احسنت پروین بنت راشد انور(جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ)،تائبہ ذوالفقار بنت ذوالفقار احمد(کریسنٹ اسکول، دریا گنج)،الفیہ بنت مستقیم(سی آر جی ایس کے وی نمبر۲، گھونڈہ)،عافیہ بانو بنت غلام صابر(گورنمنٹ گرلز سینئر سیکنڈری اسکول، وجے پارک موجپور)،علمہ بنت محمد وارث (راجدھانی پبلک سینئر سیکنڈری اسکول، شیووہار)،شمع پروین بنت محمد مفائز(گورنمنٹ پریہ درشنی سروودیہ کنیا ودیالیہ، فتح پور، بیری)،انابیہ فہیم بنت سید فہیم احمد(سروودیہ کنیا ودیالیہ، نور نگر) اورعرش رحمان ولد عبدالرحیم(قومی سینئر سیکنڈری اسکول، شاہی عیدگاہ) انتخاب کیا گیا)تمام منتخب طلبہ و طالبات کو جج صاحبان نے اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے بطورِ یادگاری تحفہ کافی کے مگ پیش کیے۔ باقاعدہ انعامی رقم، اسناد اور اکادمی کا نشان بعد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں پیش کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ یہ تعلیمی و ثقافتی مقابلے 6 نومبر تک جاری رہیں گے۔



