Siyasi Manzar
مضامین

عہد حاضر میں مقصد تعلیم محض حصول ڈگری ہے

بقلم: محمد تقی صدیقی ، بیلگام کرناٹک
رابطہ نمبر: 9250672872
 سیرت ہو یا اصلاح معاشرہ سب کا آغاز تعلیم سے ہوتا ہے۔ اور اس تعلیم کے حصول کے لئے مختلف شکلیں ہیں مثلا ماضی میں ہمارے اکابرواسلاف نے حصول تعلیم کے لئے بے انتہا تکالیف اور مشقتوں کا سامنا کیا جوں جوں وقت گذرتا گیا آسانیاں پیدا ہوتی گئیں اور آج بے شمار ذرائع موجود ہے انہیں ذرائع میں ایک نام مدراس اسلامیہ کابھی ہے اور یہ مدراس اسلامیہ نسلوں کے ڈھالنے کا کارخانہ ہے۔
یہ وہ کارخانہ ہے جہاں ایمان بنتا ہے
یہاں حیوان سےحیوان بھی انسان بنتا ہے
 یہاں پرجوبھی حصول علم کیلئے قدم رکھے
وہ ہر شخص رسول اللہﷺ کا مہمان بنتا ہے
جس طرح بچوں کو دینی تعلیم سے روشناس کیا جاتا ہے اسی طریقے سے بچوں کو عصری علوم بھی آراستہ کیا جاناچاہئے کیونکہ ایک اللہ کلام ہے تو دوسرا اللہ کا کام ہے یہاں پر مشکل یہ ہے اگر کوئی اللہ کے کلام کو سمجھتا ہے تو اللہ کے کام کو نہیں سمجھتا اور اگر کوئی اللہ کے  کام کو سمجھتا ہے تو اللہ کے کلام کو نہیں سمجھتا تو ذمہ داران مدارس کو چاہئے کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنائیں۔
 کسی بھی قوم کے مستقبل کی خوشحالی کا انحصار اس کے با صلاحیت طلباء پر ہوتا ہے۔ کسی ملک کا نظامِ تعلیم جس قدر عمدہ اور قابل اعتماد ہو گا اس ملک کا مستقبل اسی طرح روشن اور تابناک ہو گا۔ پوری دنیا نے اس وقت اس بات کو محسوس کر لیا ہے کہ صرف اور صرف تعلیم کی بلند شرح ہی پھیلتے ہوئے مسائل کا حل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ پوری دنیا اس وقت اپنے بھر پور وسائل اعلی تعلیمی معیار کے حصول کے لئے صرف کر رہی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے ممالک سو فیصد شرح خواندگی کے حصول میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان میں شرح خواندگی اس حد تک تشویش ناک ہے کہ اگر ترقی یافتہ تو کیا کم ترقی یافتہ ممالک سے بھی اس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو نظریں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ پھر ایک مسلمان قوم کے لئے تو یہ بات اور بھی زیادہ لمحہ فکر یہ پیدا کرتی ہے جن کے مذہب میں علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت کے لئے فرض کا درجہ رکھتا ہو، جن کو باری تعالٰی نے قرآن میں یہ سوال پوچھے ہوں( کیا جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر ہو سکتے ہیں؟) قابل غور بات یہ ہے کہ یہ زریں اقوال بھی ہمارے سامنے ہیں اور پھر بھی ہمارا تعلیمی معیار انتہائی پست ہے۔ ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ گردش زمانہ اور حالات و واقعات سے بھی ہم سبق نہیں سیکھ رہے اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی تعلیم کو یوں پس پشت ڈال کے بیٹھے ہو ہوئے ہیں گویا اس سے ہمیں کچھ سروکار ہی نہیں ہے۔ جناب اکبر الہ آبادی مرحوم کے الفاظ میں آج ہماری صورتحال کچھ یوں ہیں کہ:
بے علم بھی ہم لوگ ہیں، غفلت بھی ہے طاری
افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہی
 امام غزالی ” احیاءالعلوم” میں رقم طراز ہیں تعلیم کا مقصد یہی نہیں ہونا چاہئے کہ علم نوجوان کے ذہن کی پیاس بجھا دے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار اور اجتماعی زندگی کے اوصاف نکھارنے کا احساس بھی پیدا کرنا چاہئے۔” اس کے بر عکس ہمارے یہاں تعلیم صرف ڈگری کے حصول تک محدود ہو کر رہ چکی ہے۔ ہم صرف ڈگریاں جمع کرتے جا رہے ہیں۔ نہ یہ احساس ہے کہ اس ڈگری کے ہم وزن علم بھی حاصل ہے یا نہیں اور پھر یہ کہ اس علم پر کچھ عمل بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ یہاں کسی کے ذہن میں بھی علم برائے عمل” کا نظریہ تو ہے ہی نہیں۔ بلکہ ہراک کے ذہن میں علم برائے ذریعہ معاش” کا نظریہ ہے یہ نظریہ خود تعلیم کے لئے سم قاتل ہے،آئیے اب چند نکات کے حوالے سے اپنے یہاں اس تعلیمی پسماندگی کے اسباب کاجائزہ لے تے ہیں۔
1- مقصد تعلیم محض حصول ڈگری ہے
آپ کسی سے ملاقات کریں اولین یہی  سوال پوچھتے ہیں کہ آپ کی ڈگری کیا ہے بی۔ اے۔ ہے یا ایم۔ بی۔ اے۔ ہیں جب رنگ دنیا کاہو تو سیکھیں علم کیونکر شیخ ابراہیم ذوق نے کیا ہی خوب کہا ہے
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
2 – ذمہداران مدارس کی کمی
مہتمم کی ذمہداری یہ کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے معقول تنخواہ دے کر اساتذہ کا تقرر کریں صرف چندہ جمع کرکے اور کراکے اور اپنی آخرت کو بیچ کر دنیا نہ کمائیں اپنے ادارے کے لئے با صلاحیت معلم کا تعین کریں۔
3-اساتذہ کا تعلیمی معیار
 استاذ کا فرض یہ ہے کہ وہ بچوں کو خاکبازی کی بجائے "شاہینی صفات” سکھائے اور انہیں جہاں بانی کے قابل بنائے لیکن ایسا تو صرف اسی صورت میں ممکن العمل ہے جب خود استاد کے اندر یہ صفات موجود ہوں اور وہ علوم کے ہمہ پہلو تقاضوں سے بخوبی آگاہ ہوں۔ جبکہ ہمارے یہاں شعبہ تعلیم کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ اول درجے کے نااہل ، کم علم اور فن تدریس سے نا آشنا لوگ درس و تدریس کے شعبہ میں ذریعہ معاش کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اوریہ بھی حقیقت ہے کہ محبت، شفقت، حب الوطنی اور پیشہ معلمی پر فخر کرنے والے اساتذہ کی تعداد میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔ اور زندگی سے بیزار ، تنگ نظر مطالعہ سے خالی ، بد اخلاق اور اپنے پیشے پر نادم نہ ہونے والے اساتذہ کی تعداد میں غیر محسوس طریقے سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ جس شخص کو کسی دیگر منفعت بخش محکمہ میں خدمت کا موقع نہیں ملتا وہ آنے والی نسلوں کو برباد کرنے کے لئے محکمہ تعلیم کا رخ کرتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک نکما استاد اپنی تمام درس کے دوران ہزاروں طلباء کا بیڑہ غرق کرتا ہے۔
ہمارے یہاں صرف افسر شاہی اور جاگیر داروں نے اپنے بچوں کے لئے اعلی معیار کے تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں جو عوامی دسترس سے دور اور صرف طبقہ أمراء کے لئے مخصوص ہیں۔ اسے پرواہ ہی نہیں کہ عامتہ الناس کے بچے تعلیمی میدان میں کن مسائل سے دو چار ہیں۔ بڑے بڑے سیاستدانوں اور جاگیرداروں کے اپنے بچوں کے لئے تو شاہین اکیڈمی، ماڈل کالج اور دیگر مراعات یافتہ مہنگے اداے موجود ہیں۔ اگر غریبوں کے بچوں کے تعلیمی ادارے دیکھنے کی زحمت گوارا ہو تو قبرستان سے قریب یا آبادی سے باہر جہاں رہنے سہنے کا کوئی معقول انتظام کے بغیر پینے کے صاف پانی سے دور، آپ کو خستہ حال مدرسے یا اسکول نظر آئیں گے۔ ایسی دل شکن صورتحال پر جناب مظفر وارثی پکاراٹھتے ہیں۔
ہر فرد ہے محبت و تکریم کے لئے
انہیں نہیں بنا کسی تقسیم کے لئے
بچہ کسی امیر کا ہو یا غریب کا ماحول ایک جیسا ہو تعلیم کے لئے
4- تدریسی تجربات کا فقدان
تعلیمی پسماندگی کی ایک اور وجہ تدریسی تجربات کا فقدان ہے۔ ہمارے ہاں تدریس کے لئے فقط تقریر ی یا تحریری طریقہ ہی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بلند شرح خواندگی حاصل کرنے والے ممالک اپنے یہاں نئے نئے تدریسی تجربات کر رہے ہیں۔ ان کے یہاں تدریسی معاون کے طور پر نقشہ جات، چارٹس، ماڈلز، سائنس کا سامان، تعلیمی دورے، سائنسی میلے، عجائب گھر تعلیمی فلمیں، ویڈیو کیسٹیں اور کمپیوٹر وغیرہ استعمال کئے جا رہے ہیں۔ یہ ایک تسلیم شدہ بات ہے کہ تدریس کے شعبہ میں سمعی اور بصری معاونات استعمال کرنے سے مطالعہ میں وسعت پیدا ہوتی ہے ، لیکن اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی، اس شعبے میں ہم مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔تعلیمی انحطاط کی ذمہ داری بہت حد تک والدین پر بھی عائد ہوتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کی طرف توجہ نہیں دے کر اور دوسرے اخراجات پورے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کی تعلیم اور تربیت کا حق ادا ہو چکا۔ وہ بچے کی صحبت، گھر سے باہر اسکی دلچسپیوں اور اس کی تعلیمی رفتار سے بالکل لا تعلق ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ بچہ چوبیس گھنٹوں میں سے چھ6 یا سات 7گھنٹے سکول یا مدرسے میں استاد کے پاس گزارتا ہے تو باقی کے سترہ 17 یا اٹھارہ 18 گھنٹے اپنے گھر میں، والدین کے پاس گزارتا ہے اس کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، رہنا سہنا، ہر کام اس کے والدین کے سامنے ہوتا ہے۔ انہیں چاہئےکہ بچے کے کردار اور تربیت کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داری محسوس کریں استاد کے ساتھ مکمل رابطہ رکھیں اور بچے کی تکالیف اور دلچسپیوں سے آگاہ رہیں۔
5-جدید اور منتظم کتب خانوں کی غیر موجودگی
کتب خانے کسی بھی قوم کا دماغ ہوتے ہیں۔ کتب خانے دو طرح سے خواندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اولا اساتذہ کا لائبریری سے استفادہ اور ثانیا طلباء کا براہ راست کتب خانہ سے استفادہ۔ ہمارے ہاں اول تو جدید اور منظم کتب خانے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور جہاں کہیں ہیں، وہاں اساتذہ طلباء میں تو شوق مطالعہ خیر کیا پیدا کریں گے، وہ خود لائبریریوں سے دور اپنی دنیا میں مست مئے ذوق تن آسانی ہوتے ہیں۔ ادھر طلباء کو دار المطالعہ سے کیا غرض؟ کھیل کے میدان ہوں، شرارتوں کے اڈے ہوں بازوں کی محفل ہو، ایسی ہر محفل میں تو ان کا اٹھنا بیٹھنا ہو سکتا ہے۔ لیکن کتب خانے ویران نظر آتے ہیں۔ ایسے میں ہم بلند معیار تعلیم حاصل کرنے اور دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کے ہم پلہ ہونے کا خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
ہماری تعلیمی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ دراصل خود ہمارا نظام کو ہے۔ تعلیمی منصوبہ بندی کا کام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جو تعلیمی مسائل سے بلکل نا آشنا ہوتے ہیں۔ علامہ اقبال اپنے ایک تقریر میں یہ بات فرماتے ہیں کہ ہم کو یہ سمجھ لینا چاہئے اگر ہماری قوم کے نوجوانوں کی تعلیمی رجحان اسلامی نہیں ہے تو ہم
اپنی قومیت کے پودے کو اسلامی آب حیات نہیں پہنچارہے ہیں اور اپنے معاشرہ میں پکے مسلمانوں کا اضافہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک ایسا گروہ پیدا کر رہے ہیں۔ جو کسی اتحادی مرکز کے نہ ہونے کی وجہ سے کسی دن اپنی شخصیت کھو بیٹھے گا،اور اپنے گر دو پیش قوموں میں سے کسی ایک میں ضم ہو جائے گا جس میں اس کی بنسبت‌زیادہ قوت اور جان ہو گی”
مندرجہ بالا حقائق اور تعلیمی پسماندگی کے تمام اسباب کو مد نظر رکھتے ہوئے، ان کے تدارک کے لئے طلباء کو درج ذیل اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
1 طلباء اپنی اساس یعنی اسلام کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کریں اور اپنے نصاب عمل، قرآن حکیم کو اپنے لئے منبع رشد و ہدایت بنائیں۔
2 قرآنی ہدایات کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں دن رات تحقیق کریں اور قدرتی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کر کے ملکی و قومی ترقی کے لئےاپنی جدوجہد تیز کر دیں۔
3 اچھے، ذہین اور مثبت سوچ رکھنے والے طلباء دولت اور سٹیٹس کو پس پشت ڈالتے ہوئے شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں تاکہ نئی نسل کے لئے بہتر تعلیم و تربیت کا
فریضہ ادا کر سکیں ۔
4 اورکسی سیاسی جماعت کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں۔علمی، ادبی اور عملی سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتوں کو وقف کریں۔
5 اپنے اوقات کا بیشتر حصہ دار المطالعہ میں صرف کریں، کتابوں سے دوستی کریں اور علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں اور اپنے اندر تجربہ و تحقیق کی عادات ڈالیں۔
6 اپنی صلاحیتوں کو تحقیق کے شعبہ میں بروئے کار لا کر قدرتی وسائل سے بھر پور استفادہ کریں۔
7  وطن عزیز کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں پر نظر رکھیں اور اپنے آپ کو ہمہ وقت ان سے مقابلہ کے لئے تیار رکھیں۔پھر اپنے اندر بندہ مومن کی صفات پیدا کریں۔
خاص طور پر اپنے کردار کی بھر پور حفاظت کریں۔  اپنے کردارکو پختہ اور عظیم رکھو۔ کیونکہ ضرب کاری فقط بے داغ کردار ہی لگا سکتا ہے۔” جہاں علماء کی سیاہی شہیدوں کے خون سے زیادہ قیمتی ہو اور جس دنیا میں "علم جاننے والا اور نہ جاننے والا دونوں برابر نہ ہوں وہاں طلباء فورا اپنی سمت اور رفتار کا تعین کر لیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ پڑھیں اور جانیں اور دریافت کریں۔ سوچیں، لکھیں تاکہ قلب میں گرمی پیدا ہوں۔ سمجھیں ، اٹھیں ، تعمیر وطن شروع کریں

Related posts

بنتی نہیں ہے بات مسلماں کہے بغیر!

Siyasi Manzar

پریزائڈنگ افسر کی ڈائری

Siyasi Manzar

خوش فہمی میں مبتلا ہے مسلمان آخر کیوں ؟ !

Siyasi Manzar

Leave a Comment