Siyasi Manzar
مضامین

دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ ،کچھ باتیں ، کچھ یادیں*  Darul Uloom Ahmadia Salafia

از قلم 🖊️ *حافظ شہنواز احمد سلفی* 
 _امام و خطیب جامع مسجد ابوبکر صدیق بستوارہ دربھنگہ_ 
ایک طالب علم کا اپنے مادر علمی سے محبت انسیت ایک فطری جزبہ ہے ، جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ، اور یہ جزبہ ہر طالب علم کے اندر بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے طلبہ اپنے اندر اپنے اساتذہ اور مادر علمی کے تئیں احساس شکرگزاری کی صفت کو پروان چڑھاتے ہوئے اپنے مادر علمی سے تعلق بنائے رکھنا چاہتا ہے کیونکہ مادر علمی طلبہ کو عمر بھر عزیز ہوتی ہے اور اس کا زرہ زرہ جان سے پیارا ہوتا ہے جس کے لئے ہر طالب علم اپنی ساری توانائیاں صرف کرکے اس کی  حفاظت کے لئے تیار رہتا ہے ، میری علمی دانش گاہ دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ ہے جو محتاج تعارف نہیں جس کی ایک ایک اینٹ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس نے نہ جانے کتنے ایسے لال تیار کئے جو آج دنیا میں اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں اور اپنے علم کا لوہا منوا رہے ہیں.
2012 کی بات ہے جب مجھے اس عظیم دانش گاہ کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہوا والدین کی خواہش کے مطابق قران کریم کی تکمیل کے بعد میں نے اعلی تعلیم کے لیے دارالعلوم میں داخلہ لیا میں اس وقت اس درس گاہ کی قدر و منزلت سے چنداں واقف نہیں تھا، اگرچہ مگر بطور طالب علم اس ادارے سے وابستگی نے مجھے جہاں اس ادارے کی تابناک تاریخ سے متعارف کروایا وہاں میری ذہنی و عملی‌، نشوونما میں بھی اس ادارے نے بنیادی کردار ادا کیا ، مجھے بولنا، لکھنا، پڑھنا، سننا اس ادارے نے سکھایا اور اسی مادر علمی نے میرے ذہن کو تازگی اور قلم کو جلا بخشی راقم الحروف نے دارالعلوم میں پورے چھ سال گزارے یہ چھ سال میری زندگی کا بیش قیمت سرمایہ ہے کتنی یادیں ، کتنے جزبات ، اور کتنے ہی نامور اور مشفق اساتذہ سے جڑے لمحات میری ماضی کا بہترین حصہ ہیں
دوران تدریس اساتذہ کرام کے ساتھ گزارے خوبصورت لمحات اور کلاس روم اور ہاسٹل کے کمروں اور سیڑھیوں سے جڑی یادیں ہمیشہ دل میں بسی رہیں گی .
 مادر علمی میں گزارے لمحات کو یاد کرتا ہوں جس دن آخری پیپر تھا تعلیمی سال ختم ہو رہے تھے چھٹیوں کی مسرتیں طلبہ کے چہروں پر نمایاں تھیں اور تمام طلبہ سفر کی تیاریوں میں مشغول نظر آرہے تھے اس دن کی یادیں اور میرے دوست و اساتذہ سے جدائی کا وقت جسے سوچ کر دل غمگین تھا اور آج بھی وہ دور آنکھوں کے سامنے چلتا نظر آتا ہے یہ صرف تحریر نہیں ہے بلکہ میرے دل میں موجود دارالعلوم کی پے پناہ محبت ہے ، وہ خوبصورت جزبات ہیں جس کو الفاظ کی موتیوں میں پرونے کی ایک چھوٹی سی کوشش کر رہا ہوں کیونکہ مادر علمی سے محبت و عقیدت ایک فطری جزبہ ہے جس ادارہ کی گود میں ہم نے کئ سال گزارے اور جس نے ہمیں پڑھنا ،‌لکھنا، بولنا ، سکھایا اس کے بارے میں کچھ لکھنا بولنا اپنے جزبات کا اظہار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو آج بھی اپنی مادر علمی سے والہانہ محبت ہے کیونکہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں مادر علمی کے طفیل ہیں
یہ تمام باتیں گزشتہ چند روز قبل مادر علمی دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں ہوئے مذاکرہ علمیہ کے تناظر میں تحریر کر رہا ہوں 4 اور 5 نومبر کو دارالعلوم میں مذاکرہ علمیہ کا 32 واں اجلاس عام دستاربندی وسیمنار بعنوان ہندوستان میں سماجی ہم آہنگی کی ضرورت مسائل اور تقاضے کے نام سے منعقد ہوا جس میں ملک و بیرون ملک کے نامور دانشوران ، داعیان عظام نے شرکت کی ملک کو درپیش چیلنجز اور متنوع مسائل پر کھل کر باتیں ہوئیں خصوصا مسلمانوں کی سیاسی ، سماجی ، معاشی ، معاشرتی ، خاندانی ، تعلیمی پہلوؤں پر علماء کرام نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، اس اجلاس میں تمام فضلاء دار العلوم و حفاظ کرام کی دستار بندی ہوئی جس میں راقم الحروف کی بھی دستاربندی ہوئی وہ لمحہ جس کا انتظار چھ سالوں کی طویل مدت گزارنے کے بعد ختم ہوا ، دارالعلوم کا حسن انتظام و انصرام دیکھ‌ کر دل کے باغ میں لہریں اٹھنے لگیں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کسی عالمی اجلاس میں موجود ہوں اساتذہ کی دعوت پر لبیک کہنا اور دور کر مادر علمی میں پہنچنا یہ اسی محبت اور عقیدت کا نتیجہ تھا جو مادر علمی سے ملی ، ہر خطیب نے اپنے موضوع کی پر مغز وضاحت کی ، بچوں کے علمی جوہر بکھیرتے ہوئے خطابی صلاحیت اور سیاسیات سے متعلق ایک خوبصورت کنوینشن نے‌ سب کے دل کو مسرور کر دیا ، دستاربندی کے وہ لمحات جب نام میرے پردہ سماعت سے تکرائی  تو فرط جذبات میں آنکھوں سے آنسوؤں سے چند موتی نما قطرات بہہ پڑے اور اس وقت دل کی کیفیت کا یہ حال تھا کہ کاش پھر سے میں دارالعلوم میں خانوادہ تلمذ اختیار کر لیتا اور ہمیشہ مادر علمی سے جڑا رہتا جسکی جدائی میں دل غمگین ہو کر رہ جاتا ہے ، دو دن دیکھتے دیکھتے گزر گئے اور وقت نے پھر وہاں لا کر کھڑا کر دیا جہاں یہ دل محسوس کر رہا تھا کہ بس جدائی کا وقت آگیا ہے ، چند گھنٹوں کے گزارے لمحات کی یادیں اور چند قطرے آنسوؤں کے آنکھوں میں لیکر وہاں سے واپس آگیا ۔
مادر علمی کا شکریہ ایک خوبصورت دن دینے کا ، جس نے تمام رفیق ہم درس سے ملایا میری دعا ہے کہ اللہ دارالعلوم کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور تمام اساتذہ ، منتظمین ، اور ہر ایک فرد کی محنت کو قبول فرمائے جس نے اجلاس کو کامیاب بنانے کے لئے اپنی پوری توانائی صرف کیں اور اپنی محبتوں سے نوازا ۔
اللہ دارالعلوم کو ہر طرح کے شر سے اور حاسدوں کے حسد سے محفوظ رکھے آمین ۔

Related posts

ظلم کا خاتمہ کرنا اور انصاف قائم کرنا امت مسلمہ کی دینی ذمہ داری ہے

Siyasi Manzar

یہ آزمائشیں کیوں…؟

Siyasi Manzar

جموں و کشمیر میں دفعہ370 کی منسوخی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی

Siyasi Manzar

Leave a Comment