Siyasi Manzar
Top News راجدھانی

کانگریس کو بڑا جھٹکا، ارویندر سنگھ لولی کا دہلی صدر کے عہدے سے استعفیٰ ملکارجن کھرگے کو خط بھیجا گیا

دہلی میں لوک سبھا انتخابات سے پہلے کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ 15 سال تک کانگریس حکومت میں وزیر رہنے والے راجکمار چوہان کے بعد اب دہلی کانگریس کے صدر ارویندر سنگھ لولی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفی کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کو بھیج دیا ہے۔ اپنے استعفیٰ میں انہوں نے پارٹی کے دہلی انچارج دیپک بابریا پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔

نئی دہلی(ایس ایم نیوز) لوک سبھا انتخابات کے ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر دہلی کانگریس میں کھل کر عدم اطمینان سامنے آرہا ہے۔ تازہ ترین معاملے میں دہلی کانگریس کے صدر ارویندر سنگھ لولی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفی کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کو بھیج دیا ہے۔
دیپک بابریا پر بڑے الزامات
ارویندر سنگھ لولی نے اپنے چار صفحات پر مشتمل استعفیٰ خط میں پارٹی کے دہلی انچارج دیپک بابریا پر بڑے الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا، "انچارج نے مجھے مفلوج کر دیا ہے، وہ مجھے پارٹی چلانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ میرے مشورے پر کوئی تقرری نہیں کی گئی ہے۔ AAP کے ساتھ اس وقت بھی اتحاد کیا گیا جب ریاستی کانگریس کی رضامندی نہیں تھی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ تین سیٹوں پر امیدواروں کے انتخاب میں بھی ریاستی یونٹ کی رضامندی نہیں لی گئی۔ کنہیا کمار اور ادت راج کو شمال مشرقی اور شمال مغربی دہلی سے مقامی امیدواروں کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹکٹ دیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے احتجاج اور جذبات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل حال ہی میں 15 سال تک کانگریس حکومت میں وزیر رہنے والے راج کمار چوہان نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے استعفیٰ کی وجہ ریاستی انچارج دیپک بابریا کے رویے کو بتایا تھا۔
ارویندر سنگھ کنہیا کمار کو ٹکٹ دینے کے خلاف تھے۔

Related posts

ساتواں جشن اڈما-2024 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں‌تزک و احتشام کے ساتھ منایا جائے گا: حامد احمد

Siyasi Manzar

Jamal Siddiqui:صوفیاء کی حفاظت کرنا بی جے پی کا عزم:- جمال صدیقی

Siyasi Manzar

جامعہ رحیمیہ مہندیان کے شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمٰن چمپارنی کا انتقال

Siyasi Manzar