بِسْمِ ٱللهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيْمِ
{حدیث نمبر ۔ ۱}
عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: "إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ”۔ [رواہ البخاری ومسلم]
ترجمہ:امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہے، اور جس کی ہجرت دنیا (کے فائدے) حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے وہ ہجرت کر رہا ہے”۔ [بخاری و مسلم]
تعارف راوی:حضرت عمر بن خطاب مسلمانوں کے دوسرے خلیفہِ راشد، جلیل القدر صحابی اور اسلام کی تاریخ کی نہایت شاندار اور با اثر شخصیت تھے۔
نام: عمر بن خطاب بن نفیل۔لقب: فاروق (حق اور باطل میں فرق کرنے والا)، جو انہیں رسول اللہ ﷺ نے عطا کیا۔کنیت: ابو حفص۔
قبیلہ: قریش کے خاندان بنو عدی سے تعلق تھا۔ آپ کا سلسلہِ نسب آٹھویں پشت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل جاتا ہے۔
آپ کا قبولِ اسلام 6 سن نبوی ہے ۔ آپ کی اسلام لانے سے مسلمانوں کو بڑی طاقت اور حوصلہ ملا، اور آپ کے علانیہ نماز ادا کرنے پر آپ کو "فاروق” کا لقب ملا۔
دورِ خلافت (13 ہجری تا 23 ہجری)
آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد تقریباً 10 سال (13 ہجری سے 23 ہجری تک) مسلمانوں کی امارت اور خلافت سنبھالی۔آپ کے دورِ حکومت میں اسلامی سلطنت کا دائرہ انتہائی وسیع ہوا، اور بازنطینی و ساسانی (ایران) سلطنتوں کا بڑا حصہ فتح ہوا، جس میں یروشلم (بیت المقدس) کی فتح بھی شامل ہے۔آپ کا دور عدل و انصاف، نظم و نسق، اور بیت المال کے مؤثر نظام کے لیے تاریخ میں روشن ترین مقام رکھتا ہے۔
شہادت:آپ کو 23 ہجری میں ایک عجمی غلام ابولؤلؤ فیروز نے فجر کی نماز کے دوران خنجر سے حملہ کر کے زخمی کیا، جس کے چند روز بعد آپ شہید ہو گئے۔ آپ کو مسجد نبوی میں روضہ رسول ﷺ کے قریب دفن کیا گیا۔
أقوال اہل علم:
v قال الشافعي رحمه الله:’’هذا الحديث يدخل في سبعين بابًا من الفقه.‘‘امام امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’یہ حدیث فقہ کے ستر ابواب میں داخل ہوتی ہے۔‘‘[يُنقل في كتب الشروح مثل شرح النووي على مسلم وفتح الباري].
vوقال أحمد بن حنبل رحمه الله:“أصول الإسلام على ثلاثة أحاديث: حديث «إنما الأعمال بالنيات»، وحديث «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد»، وحديث «الحلال بيّن والحرام بيّن».”[جامع العلوم والحكم لابن رجب (المقدمة).] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اسلام کے اصول تین احادیث پر قائم ہیں: «اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے»، «جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے»، اور «حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے۔‘‘
vوقال البخاري رحمه الله:“ليس في أخبار النبي ﷺشيءٌ أجمع وأغنى وأكـــــــــثـــــر فائدة من هذا الحديث. ”[يُنقل في مقدمات شروح صحيح البخاري.] امام امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا:’’نبی ﷺ کی احادیث میں کوئی حدیث اس حدیث سے زیادہ جامع، زیادہ بے نیاز کرنے والی اور زیادہ فائدہ مند نہیں ہے۔‘‘
vوقال النووي رحــــمـــــه الله:“هــــــــذا الحديث أحد الأحاديث التي عليها مــدار الإســــــــــــــلام.”[شرح صحيح مسلم (1/71)] امام امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن پر اسلام کا دار و مدار ہے۔‘‘
vوقال ابن رجب الحنبلي رحمه الله:“هذا الحديث أصلٌ عظيمٌ في الأعمال الباطنة، كما أن حديث «بني الإسلام على خمس» في الأعمال الظاهرة.”[جامع العلوم والحكم (الحديث الأول)] امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’یہ حدیث باطنی اعمال میں ایک عظیم اصل ہے، جیسے «بني الإسلام على خمس» والی حدیث ظاہری اعمال میں اصل ہے۔‘‘
vوقال ابن دقيق العيد رحمه الله:“هذا الحديث أحد القواعد الكلية التي يُبنى عليها الدين.”[إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام (1/13)] امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے فرمایا:’’یہ حدیث ان کلی قواعد میں سے ایک ہے جن پر دین کی بنیاد قائم ہے۔‘‘
vوقال ابـــن حجر العسقــــلاني رحـــمـــه الله:“اتـــفــــق العــــــــلــــــمــــــــاء عـــــــلى عِــــــظـــــــم مـــوقـــــع هــــــذا الحـــــديث وكــثــرة فوائده.”[فتح الباري (1/10)] حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’علماء اس حدیث کی عظمتِ شان اور اس کے کثیر فوائد پر متفق ہیں۔‘‘
vقال ابن تيمية رحمه الله:“النية هي أصل كل عمل، وبها صلاحه وفساده.”[مجموع الفتاوى (18/258)] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:’’نیت ہر عمل کی اصل ہے، اور اسی سے عمل کی درستگی اور خرابی وابستہ ہے۔‘‘
vوقال القرطبي رحمه الله:“هذا الحديث ميزان للأعمال الباطنة.”[المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (1/160)] امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’یہ حدیث باطنی اعمال کا میزان ہے۔‘‘
vوقال الخـــــطابي رحمــــه الله:“ فـــيـــه دلـــــيـــل عــــــلى أن الأعــــــــمــــــال لا تُعـــــــتـــــبـــــــر إلا بالنـــــيات.”[معالم السنن (1/14)]امام خطابی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اعمال کا اعتبار صرف نیتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘
فوائد حدیث:
۱۔ یہ ایک عظیم حدیث ہے امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی حدیث سے اپنی صحیح کا اغاز کیا ہے۔
۲۔ اس حدیث پر مدار دین ہیں دین کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔
۳۔ عبدالرحمن مہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں جو کوئی شخص بھی کوئی کتاب تصنیف کرے اسے چاہیے کہ وہ اسی حدیث سے ابتدا کرے۔
۴۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یوں کہنا سمعت اس بات پر دلیل ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے بغیر کسی واسطے سے سنا ہے اور عجیب بات یہ بھی ہے کہ اس حدیث کی اس قدر اہمیت کے باوجود عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی۔
۵۔ گرچہ اس روایت میں عمر رضی اللہ عنہ منفرد ہیں لیکن امت اس حدیث کی مقبولیت پر متفق ہے۔
۶۔ اخلاصِ نیت: یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ کوئی بھی عمل اس وقت تک قبول نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں نیت خالص (صرف اللہ کی رضا) نہ ہو۔ اگر عمل اچھا ہو لیکن نیت دکھاوا یا دنیاوی فائدہ ہو، تو وہ قبول نہیں ہوتا۔
۷۔ اعمال کا معیار: "إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ” کا مطلب ہے کہ اعمال کا ثواب یا گناہ نیت کے مطابق ملتا ہے۔
۸۔ حدیث کے الفاظ[ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا] کے بدلے میں فرمایا گیا [فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ]یہاں [إلى دُنْيَا يُصِيبُهَا] نہیں کہا گیا جس میں یہ بلاغت پوشیدہ ہے کہ اس شخص نے جو نیت کی وہ اتنی حقیر ہے کہ جس کا ذکر کرنا بھی نامناسب ہے۔
۹۔ جبکہ [فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ] کے جواب میں [فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ] اتنا ہی کہا گیا ہے جو اس کی عظمت و فضیلت پر دال ہے۔
۱۰۔ [ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ] اعمال ،عمل کی جمع ہے جو اعمال قلب :مثلا توکل علی اللہ رجوع الی اللہ اور خشیت الہی کو شامل ہے۔
اسی طرح اعمال نطقیہ: یعنی جو کچھ زبان سے کلمات نکلتے ہیں۔ کثرت کے اعتبار سے بدنی اعمال سے زیادہ لسانی اقوال ہی ہیں الا یہ کہ انکھ اور کانوں کا زیادہ استعمال ہوا ہو تو ان کا عمل زبان کے مقابلے زیادہ ہوگا۔
اور اعمال جوارح: مثلا ہاتھوں و پیروں سے انجام پانے والے تمام اعمال بھی شامل ہیں۔
۱۱۔ [ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ] نیات ، نیت کی جمع ہے بمعنی قصد وارادہ۔
شرعاً: العزم علی فعل العبادۃ تقرباً الی اللہ۔نیت کا محل دل ہے ،لہٰذا نیت قلبی عمل ہے اس میں جوارح کا کوئی دخل نہیں اور نیت زبان سے نہیں ہوتی۔
۱۲۔ ہجرت کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے ہجرت (اللہ کے لیے اپنا گھر بار چھوڑنا) جیسی عظیم عبادت کی مثال دے کر سمجھایا کہ اگر یہ عظیم عمل بھی نیت خراب ہونے کی وجہ سے دنیاوی مقاصد کے لیے کیا جائے تو وہ بے کار ہے۔دعاۃ و واعظین اور علماء و معلمین کو چاہیے کہ جب کسی چیز کی وضاحت یا شرح کریں تو مناسب مثالوں اور قصوں کا بھی اہتمام کریں۔
۱۳۔ مذکورہ نکتہ کی وضاحت میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معلم کو چاہیے کہ وہ درس کی وضاحت میں مثالوں کو پیش کرے تاکہ مسئلہ کا حکم واضح ہوجائے جیساکہ نبی کریم ﷺ نے بھی ہجرت کی مثال پیش دے کر واضح کیا، فرمایا ہجرت بلد شرک سے بلد اسلام کی طرف منتقل ہونا ہے نیز فرمایا:کہ ایک ہی عمل میں کسی انسان کو اجر ملتاہے تو کوئی اجر سے محروم بھی ہوجاتاہے۔لہٰذا حقیقی مہاجر وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرے اس پر وہ اجر پائے گا اور اپنی مراد پالے گا۔
۱۴۔نیت کا مقام: نیت کا تعلق دل سے ہے، اسے زبان سے کہنا درست نہیں ہے۔
۱۵۔ جب کوئی انسان کسی اچھےعمل کے کرنے کی نیت کرلیتا ہے لیکن کوئی رکاوٹ آجائے توپھر بھی وہ شخص ماجور ہوگا۔
۱۶۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جو بھی عمل کرے گا اُس ہر عمل پر اجر و ثواب مل جائے یہ ضروری نہیں مثلاً ایک باپ اپنے بچے کو اپنے گھر میں بلند آواز سے ڈانٹ رہا تھا اس کی آواز سن کر پڑوس میں چوری کرنے والا چور اگر بھاگ جائے تو یہ باپ اس عمل پر اجر نہیں پائے گا کیونکہ اس کی نیت چور کو بھگانے کی نہیں تھی،حدیث میں [وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى] کا بھی یہی مفہوم ہے۔
۱۷۔ کبھی کبھار حصول اجر کی نیت سے انجام دی جانے والی روز مرہ کی عادات مثلاً کھانا پینا ، سونا، بیوی سے ہمبستری وغیرہ یہ سب امور محض اللہ کےلیے ہوں تو یہ عادات عبادات بن جاتی ہیں اور ان پر اجر مرتب ہوتا ہے۔
۱۸۔عمل کے ساتھ نیت کے تین مراحل ہیں:پہلا: عمل سے پہلے نیت۔ دوسرا: عمل کے دوران نیت ۔تیسرا: عمل کے بعد نیت۔
۱۹۔ نیت کے اختلاف سے قبولیت عمل میں لوگ بھی مختلف ہوتے ہیں۔ نیت کی درستگی سے اجروثواب بڑھتاہے اور نیت کے فساد سے اجروثواب میں کمی واقع ہوتی ہے۔
۲۰۔منافقین کے اعمال مقبول نہیں ہیں کیونکہ ان کی نیت ، نیتِ صالحہ نہیں ہوتی۔
۲۱۔ نیت کے تین فوائد ہیں:
(۱)عبادات ، عادات سے ممتاز ہوجاتی ہیں مثلاً غسلِ جنابت بمقابل غسلِ نظافت
(۲) بعض عبادات کی بعض دیگر عبادات پر فضیلت مثلاً نماز ظہر کی فضیلت نماز عصر پر
(۳) مقصود کی تمیز یعنی عمل خالص اللہ کےلیے ہے یا نہیں؟
۲۲۔ یہ حدیث نیت کی عظمت اور اس کی اصلاح کےلیے مداومت پر دلیل ہے۔
۲۳۔نیت خالص یعنی لا الہ الا اللہ کے تقاضے کو پورا کرناہے اور سنت کا مطلب شھادۃ أن محمداً رسول اللہ کا تقاضہ پورا کرنا ہے۔
۲۴۔ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ربّ عمل کبیر تصغرھا النیۃ۔
۲۵۔دنیا میں مگن ہونے اور دین کےنقصان کا بنیادی سبب شہوات ہیں، اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا:[ أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا]
۲۶۔اس عظیم حدیث کا ایک عمومی پیغام یہ بھی ہے کہ ’’اللہ کے لیے نیت خالص کرنا باذن اللہ مشکل کام بھی نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ نے اس حدیث کے ذریعہ کسی خاص طبقہ کو خطاب نہیں کیا بلکہ ہرعام وخاص دونوں کے لیے یہ خطاب ہے۔
۲۷۔ مشکل بات تو یہ ہے کہ نیت کو وساوس اور پراگندہ خیالات سے پاک و صاف کرنا لیکن اگر انسان نیت کی قوت و کمال اور فضیلت کو جان گیا تو اس کےلیے کوئی مشکل نہیں ۔
۲۸۔ہجرت کی تین قسمیں ہیں:
(۱)ہجرت مکانی:اگر کوئی شخص کسی ایسے ملک میں ہے جہاں شعائر اسلام پر عمل کرنا اس کےلیے مشکل ہوجائے تو وہ اس ملک سے دوسرے ملک کی طرف ہجرت کرسکتاہے۔
(۲)ہجرت عمل: آدمی اللہ کے منع کردہ امور کو ترک کردے ۔ [المھاجر من ھاجر ما نھاہ اللہ]
(۳)ہجرت عامل: بدعتی اور فاسق انسان کی صحبت یا اس سے تعلق کو چھوڑ دینا تاکہ وہ اس سے باز آجائے۔
یہ حدیث اسلامی عبادات اور معاملات کی بنیاد ہے، جو سکھاتی ہے کہ اعمال ظاہری طور پر کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، اگر نیت صحیح نہیں تو وہ اللہ کے ہاں بے وقعت ہیں۔



