Siyasi Manzar
Top News راجدھانی

کاکروچ احتجاج پر دہلی میں سخت پہرہ، تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور ان کے ساتھی رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا حراست میں

نئی دہلی، 10 اکتوبر 2026: دارالحکومت دہلی میں آج کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کے مجوزہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

احتجاج سے پہلے رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق، احتجاج سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور ان کے ساتھی رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی پہنچنے پر پولیس نے حراست میں لے لیا۔ حکام نے احتجاج کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے لیے سکیورٹی خدشات اور درخواست دیر سے جمع کرائے جانے کا حوالہ دیا۔

دہلی میں احتجاج کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا۔ کئی علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، گاڑیوں کی جانچ کی گئی اور عوامی آمدورفت پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ بعض مظاہرین نے رکاوٹوں کے باوجود احتجاج کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے انہیں وہاں سے ہٹایا اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔

انتخابی فہرستوں پر تنازع

اس احتجاج کا بنیادی معاملہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ اس عمل سے بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

رپورٹوں میں تقریباً 13 کروڑ ناموں کے حوالے سے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم یہ تعداد حتمی طور پر نااہل قرار دیے گئے ووٹروں کی تعداد نہیں ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق، نظرثانی کے دوران سامنے آنے والے مشتبہ اندراجات اور غلطیوں کی جانچ کی جاتی ہے اور جن اہل ووٹروں کے نام حذف ہوئے ہوں، وہ دوبارہ اندراج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

مظاہرین چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کے معاملے میں جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پوسٹ سے ملک گیر تحریک تک

کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت اس وقت بڑھی جب ابھیجیت ڈپکے کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ، ’’اگر تمام کاکروچ ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو کیا ہوگا؟‘‘، وائرل ہوگئی۔ یہ پوسٹ بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں کیے گئے ایک توہین آمیز تبصرے کے جواب میں سامنے آئی تھی۔

اس کے بعد یہ مہم نوجوانوں کے روزگار، امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے الزامات اور حکومتی جواب دہی جیسے موضوعات سے جڑتی چلی گئی۔ اس تحریک نے پہلے بھی احتجاجی مہمات چلائی ہیں، جن کے بعد جولائی 2026 میں اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا تھا۔

جمہوری احتجاج اور انتظامیہ کے درمیان کشیدگی

تازہ احتجاج نے پرامن مظاہروں کے حق، انتظامیہ کی ذمہ داری اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد جیسے اہم سوالات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ جہاں مظاہرین انتخابی فہرستوں میں شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہیں پولیس کا کہنا ہے کہ پابندیاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

اب توجہ اس بات پر ہے کہ انتخابی فہرستوں سے متعلق اعتراضات کا ازالہ کس طرح کیا جاتا ہے اور احتجاج سے اٹھنے والے سوالات پر متعلقہ ادارے کیا وضاحت پیش کرتے ہیں۔

رپورٹ:سیاسی منظر نیوز ڈیسک

Related posts

Jamal Siddiqui:صوفیاء کی حفاظت کرنا بی جے پی کا عزم:- جمال صدیقی

Siyasi Manzar

آئی جی آئی ایئرپورٹ پر دھند چھائی دہلی سے روانہ ہونے والی دو تہائی پروازیں تاخیر کا شکار، آٹھ منسوخ

Siyasi Manzar

عآپ کے سابق رکن اسمبلی حاجی محمد اشراق خان کانگریس میں شامل

Siyasi Manzar