
تصور کیجیے، دہلی کے جنتر منتر کی سڑک پر ایک نوجوان ہاتھ میں آئین کی چھوٹی سی کتاب لیے کھڑا ہے۔ اس کے چہرے پر غصے سے زیادہ ایک سوال ہے۔ وہ کسی تخت کا وارث نہیں، کسی محل کا مکین نہیں، کسی طاقت ور خاندان کا چشم و چراغ نہیں۔ وہ صرف اس ملک کا شہری ہے جسے بچپن سے بتایا گیا تھا کہ جمہوریت میں اس کی آواز کی بھی اہمیت ہے۔ لیکن آج اس کے سامنے پولیس کی وردیاں ہیں، راستوں پر بیریکیڈ ہیں، سڑکوں پر پہرے ہیں اور فضا میں ایک ایسا سوال معلق ہے جس کا جواب شاید کسی سرکاری بیان میں نہیں ملے گا: اگر عوام کو اپنی ہی حکومت سے سوال کرنے کے لیے اتنی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے تو جمہوریت کا وعدہ آخر کس کے لیے ہے؟
یہ منظر ایک فرضی تصویر ضرور ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپا سوال ہندوستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال سے جڑا ہوا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج، انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں پر اٹھنے والے اعتراضات اور مظاہرین کے خلاف انتظامیہ کی سخت کارروائیوں نے ایک بار پھر ہندوستانی جمہوریت کے سامنے کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 10 اکتوبر 2026 کو دہلی میں مجوزہ احتجاج کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے، جنتر منتر کے اطراف پابندیاں لگائی گئیں اور متعدد مظاہرین، سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔ مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق، ملک کے دوسرے حصوں میں بھی احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں۔یہ محض کسی ایک عہدے دار کے استعفے کا مطالبہ نہیں، بلکہ انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کا معاملہ بھی ہے۔ جب شہری اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے سوال اٹھائیں تو ان سوالات کو صرف سیاسی مخالفت کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت کی خوب صورتی اسی میں ہے کہ اس میں اقتدار سے سوال بھی کیا جا سکتا ہے اور اداروں کے فیصلوں پر اختلاف بھی۔
ووٹ کا حق اور انتخابی فہرستوں کا تنازع
گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج کا بنیادی تعلق انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی، یعنی ایس آئی آر (SIR)، سے ہے۔ احتجاج کرنے والوں اور اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں، جس سے اہل شہریوں کے ووٹ کے حق پر اثر پڑ سکتا ہے۔ بعض ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس عمل سے حکمراں جماعت کو انتخابی فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔دوسری طرف الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی کا مقصد جعلی، دہرے، فوت شدہ اور غیر اہل ووٹروں کے اندراجات کو درست کرنا ہے تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رہے۔ حکومت اور حکمراں جماعت نے انتخابی بے ضابطگیوں اور سیاسی فائدے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔یہاں ضروری ہے کہ الزامات اور ثابت شدہ حقائق کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔ محض احتجاج ہونے سے کسی ادارے کی بدعنوانی ثابت نہیں ہو جاتی، لیکن کسی ادارے کا آئینی مقام بھی اسے سوالات سے بالاتر نہیں کر دیتا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ انتخابی فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے اعداد و شمار سامنے لائے جائیں، اہل ووٹروں کے نام خارج ہونے کی شکایات کی جانچ ہو اور متاثرہ شہریوں کے لیے اپنے نام دوبارہ درج کرانے کا آسان طریقہ یقینی بنایا جائے۔آخر ایک عام شہری کے لیے ووٹ صرف ایک نشان نہیں، بلکہ اس کی سیاسی شناخت ہے۔ ایک مزدور، ایک کسان، ایک طالب علم یا کسی دور دراز گاؤں میں رہنے والا شخص جب پولنگ بوتھ تک پہنچتا ہے تو وہ صرف ایک امیدوار کا انتخاب نہیں کرتا، بلکہ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے حق کا استعمال کرتا ہے۔ اگر اس کا نام فہرست میں موجود ہی نہ ہو تو اس کے لیے جمہوریت کے تمام دعوے محض الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔اسی لیے انتخابی فہرستوں کی اصلاح جتنی ضروری ہے، اس عمل میں شفافیت اور انصاف بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ کسی اہل شہری کا ووٹ غلطی سے خارج ہو جانا ایک معمولی انتظامی غلطی نہیں، بلکہ اس کے بنیادی جمہوری حق کو متاثر کرنے والا معاملہ ہے۔ اس کا حل سیاسی بیان بازی نہیں، بلکہ واضح اعداد و شمار، قابلِ اعتماد جانچ اور مؤثر شکایتی نظام ہے۔
جب جنتر منتر کے راستے بند ہونے لگیں
دہلی کے جنتر منتر کو طویل عرصے سے احتجاج اور سیاسی اختلاف کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں طلبہ، مزدوروں، کسانوں، سماجی کارکنوں اور سیاسی جماعتوں نے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔ لیکن جب اسی مقام تک پہنچنے کے راستے بند کر دیے جائیں، جب مظاہرین کو اجتماع سے پہلے ہی حراست میں لے لیا جائے اور جب شہر کے اہم حصوں میں سخت پابندیاں عائد کر دی جائیں تو سوال صرف احتجاج کی اجازت کا نہیں رہتا، بلکہ جمہوری حقوق کی عملی حیثیت کا بن جاتا ہے۔10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے دہلی میں بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق، موبائل انٹرنیٹ خدمات محدود کی گئیں، متعدد میٹرو اسٹیشنوں اور بازاروں کو بند کیا گیا اور شہر کے مختلف حصوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی گئیں۔ پولیس نے کہا کہ مجوزہ احتجاج کے لیے اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اسی دوران احتجاجی تحریک سے وابستہ رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔حکومت اور انتظامیہ کے پاس امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ضرور ہے۔ کسی بھی احتجاج کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ یا عوامی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنا ریاست کا فرض ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امن قائم رکھنے کے لیے ہر مرتبہ اتنی وسیع پابندیاں ضروری ہیں؟ کیا کسی احتجاج کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کا واحد راستہ اسے ہونے سے پہلے ہی روک دینا ہے؟ اور کیا چند افراد کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے اندیشے میں ہزاروں شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنا متناسب کارروائی کہلائے گا؟ہر گرفتاری کو سیاسی انتقام کہنا درست نہیں، لیکن ہر انتظامی حکم کو جمہوری حقوق سے بالاتر سمجھنا بھی درست نہیں۔ قانون کا مقصد شہریوں کو تحفظ دینا ہے، نہ کہ ان کے جائز سوالات کو غیر ضروری رکاوٹوں میں الجھا دینا۔ اگر کسی اجتماع کی اجازت نہیں دی جاتی تو اس فیصلے کی واضح وجوہات سامنے آنی چاہئیں، متبادل انتظامات پر غور ہونا چاہیے اور پُرامن احتجاج کے لیے حقیقی گنجائش باقی رہنی چاہیے۔جمہوریت میں نظم و ضبط ضروری ہے، لیکن ایسا نظم و ضبط جو اختلاف کی ہر آواز کو خطرہ سمجھنے لگے، اپنے مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی جلدی سڑکیں خالی کرا سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ قانون کی پابندی کرتے ہوئے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کس حد تک کر سکتی ہے۔
کیا احتجاج کا حق سیاسی وفاداری دیکھ کر ملے گا؟
جمہوریت کا اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب سڑکوں پر حکومت کے حق میں نعرے لگ رہے ہوں، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب انہی سڑکوں پر حکومت کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں۔ اگر اقتدار کے حق میں ہونے والا اجتماع عوامی جذبات کا اظہار ہے تو اقتدار کے خلاف ہونے والا اجتماع لازماً بدنظمی کیسے بن جاتا ہے؟ اگر ایک سیاسی نظریے کے حامل افراد اپنے مطالبات کے لیے سڑک پر آ سکتے ہیں تو دوسرے نظریے کے حامل شہریوں کے لیے وہی راستہ تنگ کیوں ہو جاتا ہے؟یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت کے بارے میں نہیں، بلکہ اس اصول کے بارے میں ہے جس پر جمہوری معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ احتجاج کا حق سیاسی وفاداری کا انعام نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کے حامی اور مخالف، دونوں قانون کے سامنے برابر ہیں۔ اگر کوئی مظاہرہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو کارروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، لیکن اگر شہری پُرامن طریقے سے اپنی بات کہنا چاہتے ہیں تو ان کے ساتھ محض اختلاف کی بنیاد پر سخت رویہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے۔سیاسی اقتدار کی ایک بڑی آزمائش یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ حامیوں کے سامنے طاقت کا مظاہرہ آسان ہوتا ہے؛ ناقدین کے سامنے برداشت کا مظاہرہ مشکل۔ لیکن جمہوری قیادت کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ تنقید کو ذاتی دشمنی نہ سمجھے اور اختلاف کرنے والے کو ملک کا دشمن قرار دینے سے گریز کرے۔یہ بات احتجاج کرنے والوں کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے۔ جمہوری جدوجہد کی اخلاقی قوت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اس میں دلیل، ذمہ داری اور پُرامن مزاحمت شامل ہو۔ غلط معلومات، نفرت انگیز زبان یا تشدد کسی جائز مطالبے کو بھی کمزور کر سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت اور مظاہرین، دونوں کی ذمہ داری ہے کہ قانون اور شہری حقوق کا احترام کریں۔لیکن ریاست اور عام شہری کے درمیان ایک بنیادی فرق بھی ہے۔ ریاست کے پاس پولیس، انتظامیہ اور قانونی اختیارات کی طاقت ہوتی ہے، جبکہ عام شہری کی سب سے بڑی طاقت اس کی آواز اور اس کا آئینی حق ہے۔ اسی لیے ریاست پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال احتیاط، شفافیت اور انصاف کے ساتھ کرے۔
الیکشن کمیشن کی ساکھ کس چیز میں ہے؟
ہندوستان کا الیکشن کمیشن محض ایک سرکاری ادارہ نہیں، بلکہ انتخابی جمہوریت کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ اس کی ساکھ اس بات سے جڑی ہوئی ہے کہ عوام اس کے فیصلوں کو کتنا منصفانہ اور قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔ انتخابی عمل کی غیر جانب داری صرف ایک قانونی ضرورت نہیں، بلکہ جمہوریت کے تسلسل کے لیے بنیادی شرط ہے۔جب کسی ادارے کے فیصلوں پر اعتراضات اٹھتے ہیں تو اس کا بہترین جواب تنقید کرنے والوں کو خاموش کرانا نہیں، بلکہ شواہد سامنے لانا ہوتا ہے۔ کتنے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے؟ ان میں کتنے افراد غیر اہل تھے؟ کتنے اہل شہریوں کے نام غلطی سے حذف ہوئے؟ ان شکایات کے ازالے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ کیا متاثرہ شہریوں کو اپنی بات رکھنے کا مناسب موقع ملا یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب واضح اعداد و شمار اور شفاف طریق کار سے دیا جانا چاہیے۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو حقائق انہیں غلط ثابت کر سکتے ہیں، اور اگر کہیں غلطیاں موجود ہیں تو ان کی اصلاح ادارے کی ساکھ کو مضبوط کرے گی۔گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ سیاسی طور پر متنازع ہو سکتا ہے۔ کسی عہدے دار کے خلاف لگائے گئے الزامات کو ثبوت کے بغیر حتمی حقیقت نہیں مانا جا سکتا، اور استعفے یا عہدے سے ہٹانے کے معاملے میں آئینی طریق کار کی اہمیت بھی اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی عہدے دار یا ادارے کو عوامی سوالات سے استثنا حاصل ہو جائے۔اداروں کا احترام صرف ان کے نام یا عہدے سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ ان کے طرزِ عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ جس ادارے کے فیصلے شفاف ہوں، جس کی کارروائی منصفانہ ہو اور جس کے دروازے عام شہری کے لیے کھلے ہوں، اسے اپنی عزت بچانے کے لیے خاموشی نافذ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
نوجوانوں کے سوالات اقتدار کی بے چینی
اس احتجاج کی ایک اہم خصوصیت نوجوانوں کی شرکت ہے۔ نوجوانوں کی سیاست کو اکثر جذباتی، عارضی یا سوشل میڈیا تک محدود قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن جب نوجوان اپنے ووٹ، اپنے حقوق اور اپنے ملک کے سیاسی نظام کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو ان سوالات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔نوجوان صرف روزگار، تعلیم اور ترقی کے وعدے نہیں چاہتے؛ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ جس جمہوریت میں وہ بڑے ہوئے ہیں، اس میں ان کی آواز کی حقیقی حیثیت کیا ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر انہیں کسی فیصلے پر اعتراض ہو تو وہ اپنی بات کہاں کہیں، کس سے جواب مانگیں اور اپنے حق کے تحفظ کے لیے کس دروازے پر دستک دیں۔حکومت اگر ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے انہیں محض سیاسی مخالفت سمجھ کر نظر انداز کرے تو اس سے بے اعتمادی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ ایک سوال کو دبانے سے وہ ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی خاموش کرائی جانے والی آواز پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آتی ہے، کیونکہ لوگوں کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کی شکایت سننے کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔اقتدار کی اصل طاقت یہ نہیں کہ اس کے سامنے کوئی آواز بلند نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ وہ آواز بلند ہونے کے باوجود قانون، انصاف اور برداشت کے اصولوں پر قائم رہے۔ ایک مضبوط جمہوریت تنقید سے کمزور نہیں ہوتی؛ وہ تنقید کو سننے، غلطیوں کی اصلاح کرنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے سے مضبوط ہوتی ہے۔
آئین کا وعدہ اور حکومت کی ذمہ داری
ہندوستانی آئین شہریوں کو اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کے حقوق دیتا ہے، اگرچہ ان حقوق پر قانون کے مطابق معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان حقوق کی اہمیت کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت سے کم نہیں ہوتی۔ جو شہری آج حکومت کے حق میں ہے، اسے بھی کل کسی پالیسی سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ جو آج احتجاج کر رہا ہے، وہ بھی کسی دوسرے موقع پر حکومت کے فیصلے کی حمایت کر سکتا ہے۔اسی لیے بنیادی حقوق کو سیاسی پسند و ناپسند کے ترازو میں نہیں تولنا چاہیے۔ اگر کسی ایک جماعت کے کارکنوں کے احتجاج کو جائز سمجھا جائے تو دوسری جماعت کے کارکنوں کے لیے بھی وہی اصول ہونا چاہیے۔ اگر کسی ایک گروہ کو سوال کرنے کا حق حاصل ہے تو دوسرے گروہ سے یہ حق نہیں چھینا جانا چاہیے۔حکومت کا فرض صرف یہ نہیں کہ وہ اپنے حامیوں کو مطمئن رکھے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ناقدین کے ساتھ انصاف کرے۔ پولیس اور انتظامیہ ریاست کے ادارے ہیں؛ ان کا کام قانون نافذ کرنا ہے، کسی سیاسی بیانیے کی حفاظت کرنا نہیں۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق اور عوامی امن کا بھی احترام کریں۔اگر حکومت واقعی اداروں پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنا چاہتی ہے تو اسے شفافیت، مکالمے اور قانونی جواب دہی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انتخابی فہرستوں کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں، غلطی سے حذف ہونے والے اہل ووٹروں کے لیے آسان شکایتی نظام بنایا جائے، احتجاج کی اجازت کے معاملات میں واضح اصول اپنائے جائیں اور حراست میں لیے گئے افراد کے قانونی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔یہ مطالبات کسی حکومت کے خلاف بغاوت نہیں، بلکہ بہتر حکمرانی کے بنیادی تقاضے ہیں۔
تخت ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے
’’سب تاج اچھالے جائیں گے، سب تخت گرائے جائیں گے‘‘ — اس مصرعے کو صرف اقتدار گرانے کے نعرے کے طور پر نہیں، بلکہ اقتدار کو اس کی اصل حقیقت یاد دلانے کے لیے بھی پڑھا جانا چاہیے۔ تاج اور تخت انسانی تاریخ میں ہمیشہ عارضی رہے ہیں۔ جو حکومتیں خود کو عوام سے بڑا سمجھنے لگتی ہیں، وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ ان کی طاقت کا سرچشمہ بھی عوام ہی ہیں۔آج گیانیش کمار کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو سننا، ان کے مطالبات کی جانچ کرنا اور احتجاج کے دوران انتظامیہ کے رویے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس معاملے میں نہ کسی الزام کو بغیر ثبوت حتمی حقیقت ماننا درست ہوگا اور نہ کسی عہدے دار کو محض اس کے منصب کی وجہ سے تنقید سے محفوظ سمجھنا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ حقائق سامنے آئیں، ادارے جواب دیں اور شہریوں کے حقوق محفوظ رہیں۔ہندوستان کی جمہوریت کو آج نعروں سے زیادہ اعتماد، طاقت کے مظاہرے سے زیادہ شفافیت اور الزام تراشی سے زیادہ جواب دہی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے، الیکشن کمیشن کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ہر اہل شہری کا ووٹ اہم ہے، اور احتجاج کرنے والوں کو یہ دکھانا ہوگا کہ ان کی جدوجہد آئینی اصولوں اور پُرامن مزاحمت پر قائم ہے۔کیونکہ جمہوریت میں آخری فیصلہ کسی تخت، کسی تاج یا کسی عہدے دار کی خواہش نہیں کرتی؛ وہ عوام کے اعتماد اور آئین کی بالادستی سے اپنی قوت حاصل کرتی ہے۔تاج آج کسی کے سر پر ہو سکتا ہے، تخت آج کسی کے پاس ہو سکتا ہے، لیکن تاریخ کی عدالت میں ان سب سے ایک ہی سوال پوچھا جاتا ہے: جب عوام نے جواب مانگا، تو تم نے انہیں جواب دیا یا ان کی آواز روکنے کی کوشش کی؟تخت بدلنے سے پہلے طرزِ حکمرانی بدلنا ضروری ہے۔ اقتدار کی اصل عظمت اس میں نہیں کہ اس کے سامنے کوئی آواز بلند نہ ہو، بلکہ اس میں ہے کہ بلند ہونے والی ہر جائز آواز کو انصاف کے ساتھ سنا جائے۔اور جب عوام کے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے ان کے راستے بند کیے جانے لگیں، تو پھر یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آخر تخت کو خطرہ عوام کی آواز سے ہے، یا اس خاموشی سے جسے اقتدار اپنی کامیابی سمجھ بیٹھا ہے؟
(یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے،ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)



