یہ صحافت کا دور ہے، مگر اس میں کذب بیانی اور افواہوں کو عام کیا جاتا ہے، مبالغہ آمیز جھوٹی باتوں کو نشر کرنا ہی اصل بن چکا ہے، نیز بے بنیاد قیاسی باتوں کا عروج اس وقت اور ہوتا ہے جب معاملہ مسلمانوں سے متعلق ہو۔

مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی
آج صنعتی ترقیات کے دور میں صحافت اور اس کے وسائل و ذرائع کا شباب ہے۔ ابلاغ و اعلام کی رفتار کا کیا کہنا! منٹوں میں ایک خبر ان گنت لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔
صحافت کے آثار و نتائج کا انکار ناممکن ہے، صحافیوں کا انداز و اسلوب، زبان و بیان، قوتِ قلم اور طاقتِ لسانی کا اثر و تاثیر ہوتا ہے، کسی معمولی معاملے کو غلو آمیز انداز اور مبالغے کے ساتھ پیش کرنے کے الگ الگ اثرات قارئین، سامعین اور ناظرین پر مرتب ہوتے ہیں۔
بسا اوقات معمولی واقعے کو بہت بڑا معاملہ بنا دیا جاتا ہے اور کبھی کسی اہم ترین مسئلے کو نظر انداز یا بہت معمولی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ باطل کو حق، حق کو باطل، ظلم کو انصاف اور عدل و انصاف کو ظلم وستم، غلط کو صحیح اور صحیح کو مکمل غلط بنا کر لکھ دیا جاتا ہے۔
اندازوں اور قیاس آرائیوں کا کیا ہی پوچھنا! ایسے اندازے اور قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ بھی نہیں ہوتا۔ یہ مشہور جملے اکثر صحافی لکھتے اور بولتے نظر آتے ہیں کہ فلاں پر حملہ کر دیا گیا، مگر مصدقہ ذرائع سے اس کی تحقیق نہ ہو سکی ہے پھر اس جذباتی صحافی کو اس خبر کے نشر کرنے کی کیا پڑی ہے؟ تصدیق ہونے دے، پھر اس کو خبر بنا کر حقیقت نشر کیا کرے اور قیاس آرائی ایسی کہ اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
ہر معاملے میں بے بنیاد واقفیت سے دور اندازہ لگانا صحافت کا کمال مانا جاتا ہے، صحافت میں جھوٹ، افواہ، قیاس آرائی اور مبالغہ آمیزی اپنی آخری حدوں کو چھوتی ہے جب معاملہ اسلام، اہلِ اسلام، عالمِ اسلام اور ان کے مسائل و احوال سے متعلق ہو۔ مثال کے طور پر مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران اور سعودی عرب پر دشمنانِ اسلام کی یلغار، خصوصاً حوثی باغیوں کے ذریعے حملے سے متعلق صحافت میں بیانی دروغ آمیزی، افواہ بازی اور مختلف قیاس آرائیوں اور بغض و عداوت پر مبنی اندازوں کا بازار گرم ہے۔
صحیح عقیدے کے حاملین کے لیے یہ امر باعثِ پریشانی ہے کہ صحافتی ذرائع میں اس بحران کے متعلق حقائق سے عاری اور امرِ واقعہ سے دور، لاکھوں اخباروں میں غیر حقیقت پسندانہ تحلیل اور نامناسب تبصرے نشر کیے جاتے ہیں حتیٰ کہ اغیار اور اسلامی تعلیماتِ دین سے ناواقف صحافی مملکتِ سعودی عرب کے خلاف عداوت کی آگ اگلتے نظر آتے ہیں اور آبروئے صحافت کو نیلام کر رہے ہیں۔
وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ
اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کی نصرت و تائید فرمائے۔ آمین۔



