Siyasi Manzar
مضامین

سانحۂ ارتحالِ شیخ ارشاد احمد عبدالمعید مدنی رحمہ اللہ

نیپال کی علمی و دعوتی دنیا کا ایک بڑا خسارہ
تحریر: مولانا انیس الرحمن مدنی
استاذ، جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر، نیپال
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ دنیا میں آنے والا ہر انسان ایک دن اس دارِ فانی سے رخصت ہو کر اپنے خالقِ حقیقی کے حضور حاضر ہوگا۔ تاہم بعض شخصیات کی وفات محض ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی، بلکہ ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، تلامذہ، رفقائے کار اور پورے علمی و دینی حلقے کے لیے ایک گہرا صدمہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہوتی ہے۔ خصوصاً وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی علمِ دین کی خدمت، دعوتِ توحید کی اشاعت اور ملت کی اصلاح و رہنمائی میں گزاری ہو، ان کی جدائی دیر تک محسوس کی جاتی ہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے نائب امیر، فاضلِ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، الشیخ ارشاد احمد عبدالمعید مدنی رحمہ اللہ کا سانحۂ ارتحال بھی اہلِ علم و دعوت کے لیے ایسا ہی ایک اندوہ ناک واقعہ ہے۔ ان کی وفات سے نیپال کی اہلِ حدیث جماعت نے ایک مخلص، تجربہ کار اور دینی و ملی خدمات انجام دینے والی شخصیت کو کھو دیا۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
تاریخِ وفات اور آخری ایام
موصولہ تفصیلات کے مطابق، شیخ ارشاد احمد عبدالمعید مدنی رحمہ اللہ کا انتقال 18 اکتوبر 2026ء، بروز اتوار، ہوا۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ستر برس تھی۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔ علاج کی غرض سے انہیں کاٹھمانڈو لے جایا جا رہا تھا، لیکن راستے ہی میں ان کی زندگی کی مہلت ختم ہوگئی اور وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔
ان کی وفات کی خبر یقیناً ان تمام لوگوں کے لیے باعثِ رنج و الم تھی جو ان کی علمی، دعوتی اور تنظیمی خدمات سے واقف تھے۔ ایسے موقع پر دل غمگین ہوتا ہے، آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں، لیکن ایک مسلمان کا ایمان اسے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے اور صبر و احتساب سے کام لینے کی تعلیم دیتا ہے۔
علمی سفر اور حصولِ علم
شیخ ارشاد احمد عبدالمعید مدنی رحمہ اللہ ان اہلِ علم میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے دینی تعلیم حاصل کرنے اور اسے اپنی زندگی کا مقصد بنانے کی توفیق عطا فرمائی۔ انہوں نے نیپال کے معروف دینی ادارے جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر سے تعلیم حاصل کی، بعد ازاں عالمِ اسلام کی ممتاز دینی درس گاہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، سعودی عرب سے بھی علمی فیض حاصل کیا۔
مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی علمی صلاحیتوں کو اپنے وطن اور اپنے معاشرے کی دینی خدمت کے لیے استعمال کیا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ علمِ دین کی حقیقی قدر اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب انسان اسے اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے دوسروں کی اصلاح، تعلیم و تربیت اور دینی رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔
تعلیم و دعوت کے میدان میں خدمات
شیخ مرحوم کی زندگی کا ایک اہم پہلو تعلیم و دعوت سے ان کی گہری وابستگی تھا۔ انہوں نے نیپال میں دینی تعلیم کے فروغ اور دعوتِ کتاب و سنت کے لیے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو صرف کیا۔
دعوت و تعلیم کا میدان اخلاص، صبر، استقامت اور مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ اس راستے میں کام کرنے والے افراد کی خدمات کا حقیقی اثر وقت گزرنے کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ ان کی محنت سے تیار ہونے والی نسلیں اور ان کے ذریعے پھیلنے والا دینی شعور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔
شیخ ارشاد احمد عبدالمعید مدنی رحمہ اللہ نے بھی اپنی زندگی کا ایک نمایاں حصہ اسی دینی و دعوتی جدوجہد میں گزارا۔ ان کی وفات اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اہلِ علم کی قدر کرنا، ان کی خدمات کو یاد رکھنا اور ان کے علمی و دعوتی مشن کو آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے لیے خدمات
شیخ مرحوم کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے ساتھ ان کی دیرینہ وابستگی اور تنظیمی خدمات تھیں۔ وہ جمعیت کے نائب امیر تھے اور اس کے قیام کے ابتدائی دور ہی سے اس کے ساتھ مخلصانہ طور پر وابستہ رہے۔
تنظیموں کی ترقی اور استحکام میں ایسے مخلص افراد کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے جو ذاتی مفادات سے بلند ہو کر اجتماعی مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ مشکلات کے وقت ثابت قدم رہتے ہیں، باہمی اتحاد کو اہمیت دیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو جماعت کی بہتری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
شیخ ارشاد احمد عبدالمعید مدنی رحمہ اللہ نے جمعیت کو فعال بنانے، اس کے استحکام اور باہمی اتحاد و یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی یہ خدمات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ دینی جماعت کے اجتماعی مفاد کو اہمیت دیتے تھے اور اس کی ترقی و مضبوطی کے خواہاں تھے۔
ان کی وفات سے مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال ایک ایسے رفیق اور تجربہ کار رہنما سے محروم ہوگئی ہے جس نے طویل عرصے تک اس کے ساتھ وابستہ رہ کر دینی و ملی خدمات انجام دیں۔
اخلاق و کردار کی نمایاں خوبیاں
کسی انسان کی شخصیت کا حقیقی حسن صرف اس کے علم، عہدے یا شہرت میں نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اخلاق، معاملات اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔ شیخ ارشاد احمد عبدالمعید مدنی رحمہ اللہ خوش اخلاق، ملنسار اور مہمان نواز تھے۔ وہ لوگوں سے خند پیشانی کے ساتھ ملتے، اہلِ علم کی قدر کرتے اور مخلصین کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ رکھتے تھے۔
حسنِ اخلاق وہ خوبی ہے جو انسان کے دلوں میں اس کے لیے محبت اور احترام پیدا کرتی ہے۔ علمی و دینی خدمات کے ساتھ جب خوش اخلاقی بھی جمع ہوجائے تو شخصیت کا اثر زیادہ گہرا اور دیرپا ہوجاتا ہے۔ شیخ مرحوم کی زندگی کے یہ پہلو ان کی یاد کو ان کے متعلقین اور رفقائے کار کے دلوں میں زندہ رکھیں گے۔
انسان دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، لیکن اس کے اچھے اخلاق، نیک اعمالج اور لوگوں کے ساتھ کیے گئے حسنِ سلوک کے اثرات باقی رہتے ہیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس کی قدر وقت گزرنے کے ساتھ مزید بڑھ جاتی ہے۔
دعائے مغفرت اور خراجِ عقیدت
اس موقع پر ہم مرحوم کے اہلِ خانہ، اعزہ و اقارب، تلامذہ، متعلقین، رفقائے کار اور مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے تمام ذمہ داران و کارکنان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اس صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق بخشے۔
ہم اللہ رب العالمین کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ شیخ ارشاد احمد عبدالمعید مدنی رحمہ اللہ کی دینی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان کو صبر و سکون عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کے لیے اس صدمے کو آسان فرمائے اور نیپال میں دعوتِ کتاب و سنت کے کام کو مزید فروغ عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Related posts

پل ہے یا موت کا کنواں؟

Siyasi Manzar

بہت پہلے سے اُن قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

Siyasi Manzar

عظمت ِ والدین قرآن وسنت کی روشنی میں

Siyasi Manzar