Siyasi Manzar
مضامین

موسم سرما، ایک پُر لطف موسم

 

از- مولانا محمد نعمان رضا علیمی، بنارس
دنیا یا زمین پر جغرافیائی تقسیم کے اعتبار سے موسمی تغیرات اور تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں زمین پر سال میں چار موسم ہوتے ہیں سردی، گرمی، خزاں، بہار،ان کا سامنا اور مقابلہ کرنے کے لئے انسان دنیوی اور مادی لحاظ سے تیاری کرتا ہے۔
قدرت نے انسان کے لیے ہر موسم کو مفید بنایا ہے۔ انسان جیسا موسم دیکھتا ہے اُسی کے اعتبار اور تقاضوں کے پیشِ نظر اپنے اندر اور باہر اپنے رہن سہن، لباس، غذا و خوراک، معاملات اور معمولات میں تبدیلی لاتا ہے۔ برسات کا موسم آتا ہے تو بارش سے بچاوکے انتظامات کئے جاتے ہیں۔ خستہ حال مکانوں کی مرمت کی جاتی ہے، گرمی کا موسم آتا ہے تو پہلے سے اس کے اعتبار سے لباس تیار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب سردی کے موسم کا آغاز ہوتا ہے تو انسان اس کے اعتبار سے سردی کی شدت سے بچنے کے انتظامات کرتا ہے۔ گرم لباس، اور گرم بستروں کی تیاری زور و شور سے کرتا ہے اس کے ساتھ موسم سرما کے شروع ہوتے ہی اپنے رہن سہن اور خوراک و غذا میں تبدیلی لاتا ہے۔
سردیوں کا موسم آتے ہی ایک بہار سی آجاتی ہے۔ موسم سرما سارے موسموں سے زیادہ خوشگوار ہوتا ہے۔ اس موسم میں چہاروں اطراف دلفریب اور دلکش مناظر ہوتے ہیں۔سر سبز میدان و جنگلات باغات میں مختلف اقسام کے رنگ بہ رنگے پھول نظر آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس موسم کو موسموں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔
موسمِ سرما میں سورج کی شعاعیں سیدھے رخ نہیں آتیں اس وجہ سے موسم سرما ہوتا ہے۔ جب شمالی نصف کرہ میں موسم سرما ہوتا ہے تو جنوبی نصف کرے میں موسم گرما۔اس موسم میں دن چھوٹے ہو جاتے ہیں اور راتیں لمبی۔ درجہ حرارت گر جاتا ہے۔اس موسم میں رس بھرے اور رنگ برنگے پھل کھانے کا موقع ملتا ہے۔

موسم سرما میں کہرے کا تو جواب ہی نہیں ہوتا۔ سورج کی شعاعوں کو بھی اپنی اغوش میں لے لیتا ہے یہاں تک کہ سورج کے کرن نظر بھی نہیں اتی۔سردی کا موسم ایمان والوں کے لئے اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتا ہے جسے موسمی تغیر اور رات دن کے چھوٹے بڑے ہونے میں قدرت کی نشانیوں میں غور و تدبر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ راتیں لمبی ہونے کی وجہ جہاں نیند اور سکون سے محظوظ ہوتا ہے وہیں قیام اور عبادت کا لطف بھی اٹھاتا ہے۔ نیک اور برگزیدہ لوگ اپنی رات ذکر اور عبادت میں کاٹتے ہیں۔ عبادت اور قیام کا ذوق رکھنے والے اپنے پروردگار کے ساتھ لمبی سرگوشیوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔ اپنی ضرورتیں اپنے مالک کے حضور پیش کرتے ہیں، اپنی غربت اپنے آقا کو دکھاتے ہیں اور خطا پوش کریم کے سامنے اپنے گناہوں کو یاد کرتے ہیں۔ دن چھوٹے ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سردی کے موسم میں قضاء روزے بھی بآسانی رکھے جاسکتے ہیں۔ سورج اور اس کی دھوپ سے حاصل ہونے والی تپش کی نعمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ موسم سرما کے مخصوص پھل نصیب ہوتے ہیں، جنہیں کھانے کے بعد شکر ادا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ٹھنڈی راتوں میں ’’وضو‘‘ اور ’’فرض غسل‘‘ کے اجر کی وجہ سے درجات کی بلندی نصیب ہوتی ہے۔ گرم بستر چھوڑ کر نماز پڑھنے اور مسجد جانے سے اللہ کی رضاء اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
موسم سرما کے شروع ہوتے ہی عام طور پر کھانے پینے اور رہن سہن کے روزمرہ کے معمولات میں مختلف تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ جس سے عام طور پر سردیوں کے موسم میں نزلہ، زکام، بخار، گلاخراش ہونا، کھانسی، جلد کا خشک ہو جانا، ہونٹوں اور ان کے گرد چھالے اور زخم وغیرہ کی شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سرد موسم میں پیاس کم لگنے کی وجہ سے ہم پانی کم پیتے ہیں اور پھر جسم میں پانی کی کمی کی شکایت ہونے لگتی ہے جس کے باعث جلد پر خشکی کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ سردی کے موسم میں ٹھنڈ لگنے سے جسم میں کپکپی جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سینے میں ٹھنڈ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ خاص طور پر اس سے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اس لیے سردی کی مختلف بیماریوں سے حتٰی الامکان خود کو محفوظ رکھیں اور آپ موسم سرما کی سرد ہوائوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔
موسم سرما، اپنے ٹھنڈے اور آسمانی مناظر کے ساتھ، ایک ایسا موسم ہے جو ہمیں خوبصورتی تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کی پُرسکون شان و شوکت میں تبدیلی کی طاقت ہے، خود شناسی کو فروغ دیتی ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھڑکاتی ہے۔ جب ہم فطرت کی نازک فنکاری میں اپنے آپ کو غرق کرتے ہیں، آرام دہ راحتوں اور گرمجوشی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اور سردیوں کی پیش کش کو گلے لگاتے ہیں، ہمیں چھپے ہوئے خزانوں کی ایک ایسی دنیا دریافت ہوتی ہے جو تلاش کیے جانے کے منتظر ہیں۔ موسم سرما ہمیں خاموشی میں خوبصورتی، لچک میں طاقت، اور اپنے پیاروں کے ساتھ بانٹنے والے بندھنوں میں گرمجوشی تلاش کرنا سکھاتا ہے۔ لہٰذا، آئیے ہم سردیوں کے سکون کا خیرمقدم کریں، یہ ہمارے دلوں پر ایک انمٹ نقوش چھوڑنے کی اجازت دیں۔ اور موسم کے لمحات کو یادگار بنائیں۔

Related posts

کجریوال کیا ہوں گےگرفتار

Siyasi Manzar

طائرکِ بلند بال دانہ و دام سے گزر

Siyasi Manzar

انجانے میں اپنی صحت سے کھلواڑکرتا انسان

Siyasi Manzar

Leave a Comment