Siyasi Manzar
راجدھانی

دین کو محض رسم و رواج کا مجموعہ بناکر رکھ دیا گیا ہے: قرآن کانفرنس، دلی

سالانہ قرآن کانفرس سے ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، جناب ثاقب غفور پاریکھ، ڈاکٹر کامران خان، ڈاکٹر عقیل احمد اور ڈاکٹر ضیاء الدین ندوی کا خطاب: قرآن کو سمجھ کر پڑھنے پہ زور

نئی دہلی ،26 نومبر(پریس ریلز)جو قرآن رسول ﷺ پر نازل ہوا اور آپ ﷺ نے جس کا عملی نمونہ پیش کیا وہ ہماری زندگی میں کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ عملی زندگی میں ہم نے قرآن کو محض چند رسوم و رواج کا مجموعہ بناکر رکھ چھوڑا ہے۔ یہ بات کتنی حیرت انگیز ہے کہ سینہ بہ سینہ اور نسلا بعد نسل منتقل ہونے والے چند اَعمال و اَذکار کے مجموعے کا نام ہم نے اسلام رکھ دیا ہے۔ اور جس اِسلام کو اللہ نے اپنا پسندیدہ دین قرار دیا ہے، ہماری عملی زندگی میں اس کا فقدان نظر آتا ہے۔ قرآن کو نہ سمجھنے کی بنیاد پر ہم تصورِ دین سمیت متعدد اہم چیزوں کو گنوا بیٹھے ہیں۔ جس طرح کسی باورچی خانے میں دنیا بھر سے منگوائے گئے عمدہ مسالوں کا ایک ذخیرہ موجود ہوتا ہے مگر کم علم یا لاپرواہ باورچی سبھوں کو ایک کوکر میں رکھ کر پکانے کی کوشش میں انھیں برباد کر دیتاہے اسی طرح ہم بھی قرآنی اور نبوی طریقۂ تربیت سے ناواقفی کی بنیاد پر قرآن و احادیث کی تعلیمات کی خوشبو کو اپنے بچوں پر بہترین طریقے سے مل نہیں پاتے ہیں اور وہ اپنی ناپخت تربیت سے سماج میں ہماری جگ ہنسائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پیڑ میں صرف پتیاں ہی شکر بناتی ہیں اور اپنی بنائی ہوئی شکر میں سے ڈھائی فی صد سے بھی کم شکر خود استعمال میں لاتی ہیں اور باقی شکر کو وہ پیڑ کے ان حصوں میں بانٹ دیتی ہیں جو شکر نہیں بناپاتی ہیں، جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ڈھائی فی صد بھی ایمان داری سے ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اگر اپنے بچوں کو قرآن کا پابند بنانا چاہتے ہیں تو روزانہ اُن کے ساتھ بیٹھ کر قرآن پڑھیں اور انھیں اس کی کچھ تفسیر بھی سُنائیں۔ اگر ہم قرآن میں غور نہیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم صاحبِ عقل نہیں ہیں۔ اب ہمارے گھروں میں بو علی سینا پیدا نہیں ہوتے ہیں کیوں کہ ماؤں کی گودیں عقل اور فکر کے اعتبار سے بانجھ ہوچکی ہیں۔

ان خیالات کا اِظہار مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی حیدرآباد کے سابق وائس چانسلر اور قرآن سینٹر ذاکر نگر کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے غالب انسٹی ٹیوٹ منڈی ہاؤس نئی دلی کے آٹوڈریم ایوانِ غالب میں آج منعقد ہوئے سالانہ قرآن کانفرس سے خطاب کے دوران کیا۔ موصوف نے قرآن کانفرنس کے مقاصد پہ روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم قرآن کو کتابِ ہدایت تو مانتےہیں مگر اسے سمجھے بغیر پڑھتے ہیں۔اس صورت میں ہدایت کہاں سے ملے گی؟
ممبئی کے مشہور کینسر سرجن ڈاکٹر کامران خان نے خالق اور سائنس کے موضوع پر بولتے ہوئے کہا کہ آسمانی کتابوں کی بے قدری نے ایسا ماحول بنایا ہے کہ اکثر سائنٹسٹ ملحد ہیں اور اکثر حاملینِ کتاب غیر سائنسی باتیں کرتے ہیں۔ انھوں نے نیوٹن کے اس بات کو بہ طور دلیل ذکر کیا کہ اگر کوئی ثبوت نہ بھی ہو تب بھی صرف انسانی انگوٹھے کی ساخت ہی خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آسٹن نے کہا تھا کہ خدائی وجود کے لیے دنیاوی نظام ایک اہم ثبوت ہے۔ ڈاکٹر کامران نے پاور پوائنٹ پروجیکٹ پہ ہمارے جسموں کے اندر پنپنے والے زخموں اور ان کے طریقۂ علاج کے اینیمیشن کو دکھاکر خالق کے وجود پہ دلیلوں کو پیش کیاکہ کس طرح تمام انسانوں میں خالق نے یکسانیت رکھی ہے۔ اور اسی تھیوری پر میڈیکل سائنس کھڑا ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر چیز کو توازن میں بنایا ہے اور اس کا کوئی کام مقصد سے خالی نہیں ہوتا ہے۔ پیڑ سے گرنے والا پتا بھی کسی نہ کسی کی غذا ہی بنتا ہے۔دنیا کی ساری چیزیں ایک نظام میں کام کرتی ہیں جب کہ صرف انسان ایسا ہے جو نظام اور توازن سے ہٹ کر عمل کرتا ہے۔ اِنسانی تخلیق سے متعلق قرآن کی آیات اور ڈی این اے کے ساختیاتی نظام کو پیش کرکے انھوں نے قرآن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کینسر کے ڈی این اے کے طریقِ کار کو پیش کرکے قرآن کے تصورِ بعث بعد الموت کو ثابت کیا اور کہا کہ مذہبی طبقے کی سائنس سے دوری نے قرآنی نظام کو دنیا کے سامنے بہتر طریقے سے پیش نہیں ہونے دیا۔
ڈاکٹر ضیاء الدین ندوی الحکمہ فاؤنڈیشن دلی نے کہا کہ قرآنی تعلیمات کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ انسانی معاشرہ صالح اور صحت مند بنایا جائے۔ انھوں نے احادیث اور جدید سائنس کی روشنی میں صحت کی اہمیت اور فضائل بیان کیے جس میں جسمانی اور سماجی صحت دونوں شامل ہیں۔ نزول قرآن کے مقاصد میں ایک اہم مقصد انسانوں کو تاریکی سے نکالنا ہے۔ انھوں نے ہمارے معاشرے میں بیماری کے تناسب کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری من مانیوں سے اسپتالوں میں ہمارے مریضوں کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے۔ جس کا واحد علاج قرآن پہ عمل ہے۔ ہمارے نبی ﷺ کی بعثت اور ہدایت رسانی صرف عربوں یا اُس خاص زمانے کے لیے نہیں تھیں، بلکہ پوری انسانیت اور قیامت تک کے لیے ہیں۔
ڈاکٹر موصوف نے صفائی سے متعلق قرآنی آیات اور تفاسیر کو پیش کرتے ہوئے انسانی سماج کے لیے قرآنی احکام کو اہم قرار دیا۔ انھوں نے گھر، سماج اور دفتروں کے اندرنیز پڑوسیوں کے ساتھ معاملات کے متعلق قرآنی احکام کو بیان کرتے ہوئے غیر مسلموں کے ساتھ بقائے باہمی کے قرآنی احکام اور ان کے فوائد بتائے۔ نیز آئندہ دس سالوں کے لیے اپنے فخر کے معیار کو بدلنے اور ترجیحات کو نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق ترتیب دینے پر زور دیا۔
جناب ثاقب غفور پاریکھ نےکہا کہ قرآن کہتا ہے کہ صرف سچائی، نیکی یا انسانی بھلائی مقصود ہو تو ہی میٹنگیں اور اجلاس کامیاب ہوسکتے ہیں اور خدا کا شکر ہے کہ آج کے اس اجلاس میں یہ تینوں چیزیں موجود ہیں۔ سائنس دانوں کے الحاد کی اصل وجہ مجھے یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہم نے صحیح دین ان کے سامنے پیش ہی نہیں کیا ہے۔ انھوں نے قرآن سمجھنے کے فوائد اور نہ سمجھنے کے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی حرام چیزوں کی فہرست میں سے ہم مسلمان صرف کھانے پینے کی چیزوں کو لیتے ہیں اور ہماری حالت یہ ہوگئی ہے کہ مالِ حرام جیب میں رکھ کر حلال گوشت کی دکان ڈھونڈتے ہیں۔ ہم غیر سائنسی اور غیر مہذب بن کر اپنی آئندہ نسلوں کے روشن اِمکانات کو قتل کر رہے ہیں جسے قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔قرآن مجید نے پچھلی امتوں کے احوال ہماری اصلاح کے لیے ذکر کیے ہیں، نہ کہ ہمیں ان کی تنقید کرنے کا موقع دینے کے لیے۔
ڈاکٹر عقیل احمد نے پچھلی اقوام کی اجداد پرستی کو ذکر کرکے اس بات پہ زور دیا کہ ہم بچپن میں ملے اِسلامی خول سے نکل کر مطالعۂ قرآن پہ خود کو آمادہ کریں۔ دوسروں کی نظر سے قرآن کو پڑھنا یعنی کسی کی لکھی تفسیر پڑھ کے یہ سمجھ لینا کہ ہم نے قرآن کو سمجھ لیا بڑی نادانی ہے۔ کیوں کہ ہر تفسیر اپنے مفسر کی تعبیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح ہم کسی مفسر کی تعبیر پڑھ کے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے قرآن کو سمجھ لیا ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ دنیا ہمارے ساتھ انصاف کرے تو لازمی ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ بھی انصاف کریں۔
علمی تناظر میں قرآن فہمی کو عام کرنا اور عوام کو قرآن فہمی کا خوگر بنانا ہی ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کی زندگی کا مشن ہے۔ اور انھی مقاصد کے لیے انھوں نے 2011ء سے بہ طور عوامی اِجلاس سالانہ قرآن کانفرنس کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اجلاس کا آغاز قاری محمد نسیم صاحب کی تلاوتِ قرآن سے اور اختتام ڈاکٹر طارق ندوی کی دُعا کے ساتھ ہوا۔ شرکا میں دلی اور بیرونِ دلی کے عوام کے علاوہ کثیر تعداد میں مقامی علما اور دانش وربھی موجود تھے۔

Related posts

’’سنہ سمواد‘‘ مہم کے رابطہ سربراہ نے قومی صدر جمال صدیقی کو رپورٹ پیش کی

Siyasi Manzar

الحکمہ فاؤنڈیشن کا 31واں سالانہ اجلاس تزک احتشام کے ساتھ اختتام پزیر

Siyasi Manzar

دہلی کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو تمام قسم کے علاج، ٹیسٹ اور ادویات مفت فراہم کی جارہی ہیں: عمران حسین

Siyasi Manzar

Leave a Comment