Siyasi Manzar
قومی خبریں

جامعہ رحمانیہ ممبئی میں تقریب ختم صحیحین ودستارفضیلت کاشاندارانعقاد

کاندیولی،ممبئی( پریس ریلیز) جامعہ رحمانیہ کاندیولی شہر ممبئی کا ایک قدیم ومعروف تعلیمی ادارہ ہے جہاں سے ہر سال ایک بڑی تعداد میں بچے اور بچیاں دینی اور عصری تعلیم سے لیس ہو کر فارغ التحصیل ہوتے ہیں امسال بھی 10 بچوں نے فضیلت کی تعلیم مکمل کی اور5 بچے حافظ قرآن بنے اور 27 بچیاں عالمہ ہوئیں،اس مناسبت سے نیو ایگل میرج ہال چارکوپ کے وسیع وخوبصورت گراؤنڈ میں 27/ جنوری 2024ء بروز سنیچر بعد نماز عصر تا 10 بجے شب ایک خوبصورت مجلس تقریب ختم صحیحین اور دستارحفظ و فضیلت کی منعقد کی گئی جس میں عصر بعد سے مغرب تک بچوں نے شاندار تعلیمی مظاہرہ پیش کیا اور اس کے بعد مغرب سے رات 10 بجے تک ختم صحیحین اور اجلاس عام کی تقریب عمل میں آئی، نظامت کا فریضہ شیخ الحدیث ،مصنف تصانیف کثیرہ اور مورخ اہل حدیث مولانا عبد الحکیم عبد المعبود مدنی حفظہ اللہ نے انجام دیا،سب سےپہلے جامعہ رحمانیہ کاندیولی ممبئی کے روح رواں فضلیۃ الشیخ قاری نجم الحسن فیضی صدارت کی کرسی پر جلوہ افروزہوئے۔

مجلس کا آغازجماعت سادسہ کے طالب علم جنید احمد فراست علی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔بعدہ نعت نبی مکرم ﷺ سفیر الدین ادریسی صاحب کی خوش کن آواز میں سنا گیا،اسکے بعد افتتاحی اور تمہیدی کلمات کے لیے بزرگ عالم دین فضلیۃ الشیخ الطاف حسین فیضی شیخ الجامعہ جامعہ رحمانیہ کو دعوت دی گئی شیخ محترم نے تمام مہمانان اور علماء کرام اور حاضرین کے شکریہ کے ساتھ طلباء کوقیمتی نصیحتیں فرئیں، بعدہ فارغین کے خوبصورت تعلیمی مظاہرے ودستابندی کی شروعات ہوئی اورحفظ قرآن کی تکمیل کرنے والے طلباء نے قرآن کی تلاوت فرمائی اور انکے استاذ حافظ وقاری عبد الکریم صاحب سلفی، حفظہ اللہ نے درس قرآن دیا اور بچوں کو نصیحت فرمائی ۔اسکے بعد ناظم محترم نے جامعہ کے موقر اور بزرگ استاذفضیلۃ الشیخ ضمیر احمد حقیق اللہ مدنی صاحب،حفظہ اللہ کو درس صحیح مسلم کے لیے دعوت دی شیخ محترم نے نہایت مختصر وقت میں صحیح مسلم کی آخری حدیث کا مختصر وجامع درس دیا اور طلبا کو دعاؤں سے نوازتے ہوئے انھیں حسن عمل کی تلقین کی۔بعدہ ناظم اجلاس شیخ الحدیث مولانا عبد الحکیم عبد المعبود مدنی صاحب ،حفظہ اللہ نے بچوں کو درس بخاری سے فیضیاب کیا جو نہ صرف بچوں کے لئے بلکہ عوام الناس کے لئے بھی بے حد مفید تھا،جس میں مدنی صاحب نےامام بخاری رحمہ اللہ کے تفقہ اور انکے عقیدہ کا ذکر کیا اور آخری حدیث کو آخر میں کیوں رکھاگیاانکا بالتفصیل ذکر فرمایااورفارغین طلباء کے خوشحال وسنھرے مستقبل اوردنیاو آخرت میں کامیابی کی دعائیں کیں۔درس اسقدر عمدہ رہا کہ دل چاہ رہا تھا وقت ٹھہر جائے اور یہ علم کا سمندر اپنی علمی نگارشات سے ہم تشنگان علوم نبوت کو سیراب کرتا رہے۔ درس صحیحین کے بعد فارغین و فارغات کی دستار بندی اور ردا پوشی ہونی تھی ناظم محترم کی شاندار اورپرلطف نظامت میں طلباء کی دستار بندی ہوئی اور یہ نظارہ بے حد حسین ،روح پرور،پرکیف وخوش منظرنیز قابل دید تھا،اورطلباء کے والدین اورانکے اساتذہ کے لئے فرحت بخش اور دلوں کو چھولینے والااوربےحد خوشنماتھا۔عوام الناس فرط جذبات اور مسرت سے لبریزآنکھیں سے قوم کے ان نونہالوں اورجیالوں اورانکی زندگی کے اس خوشنما منظرکو دیکھ کر لطف اندوزی کے ساتھ ان بچوں کو دعائیں دے رہی تھی اور ساتھ ہی اھل خیر احباب کی جانب سے انعامات کی بارش ہورہی تھی ،جامعہ کی جانب سے بھی فارغین طلباء کو ڈھیرساری کتابیںبطورانعام دی گئیں فللہ الحمد۔ناظم محترم اپنے منفرداندازمیں طلباء کو دعاؤں کا گلدستہ پیش کرتے رہے اور سبھی مہمان علماء اور اساتذہ بھی دعاؤں سے نوازتے رہے،اوراس طرح یہ حسین منظراختتام کوپھونچا اور یوں ایک جماعت نے میدان عمل میں قدم رکھا اور امت کی اصلاح کا بیڑا اپنے سر لیا۔اللہ انھیں سلامت رکھے اور علم و عمل کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ان تمام خوبصورت مراحل کے بعد خطاب عام کا سلسلہ شروع ہوا نوجوان خطیب محترم و مکرم فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الحسیب صاحب مدنی حفظہ اللہ کو دعوت دی گئی جنکی حاضری کسی بھی پروگرام کے کامیابی کی سند ہے، شیخ محترم نے مدارس کی اہمیت و فضیلت اور ضرورت پر زبردست خطاب فرمایا اور طلبا و طالبات کو گراں قدر نصیحتیں فرماتے ہوئے بچوں کو اپنا تشخص برقرار رکھنے اور اپنی شناخت سے کبھی فرار نہ اختیار کرنے کی تلقین کی،پھر ذوق سماعت کی تبدیلی کے لئے عبد المنان مفتاحی صاحب سے ایک نظم سنی گئی جنھوں نے اپنی آواز سے سماں باندھ دیا۔سلسلہ خطاب عام کی دوسری کڑی جماعت وملک کی نامور شخصیت اورعالمی داعی فضیلۃ الشیخ ظفر الحسن مدنی صاحب،حفظہ اللہ کو دعوت سخن دی گئی،آپ نے مجلس اور اھل مجلس اور طلبا کے لیے دعا کرتے ہوئے منتظمین اجلاس کو مبارکباد پیش فرمائی اورپھر چند امور کی جانب توجہ دلائی کہ دینا میں جہالت عام تھی اور اسی جہالت کی تاریکی ختم کرنے کے لیے اللہ نے اپنے نبیﷺ کو علم کی روشنی پھیلانے اورخاص طورپر چار باتوں کے لئے مبعوث کیا گیا ۔ تلاوت کرنا پڑھنا ،ہر قسم کی اخلاقی برائی اور منکرات سے پاک کرنا، کتاب کی تعلیم دینا ،سنت کی تعلیم دینا،اور بتایا کہ بعد کی نسلیں بھی انھیں چار چیزوں کو اپنا کر خیر کو پا سکتی ہےاور یوں علم اور اھل علم کی اہمیت کو تاریخ کے حوالوں سے اجاگرکرتےہوئے جامعہ وطلباء کے نیک مستقبل کی دعائیں کیں اوراسکے بعد اخیر میں صدر مجلس فضیلۃ الشیخ قاری نجم الحسن فیضی صاحب کا عمدہ اورجامع صدارتی خطاب ہوا اوریوں مجلس بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوئی ۔مجلس کو شیخ خالد جمیل مکی،ڈاکٹر اجمل منظور،شیخ رشیدسمیع سلفی، بھیونڈی ،شیخ عبدالوحید سلفی ناسک، شیخ فاروق عمری ،شیخ عاطف سنابلی ،شیخ شمیم فوزی مدنی،شیخ عبدالشکورمدنی ،شیخ پرویز مدنی ،مولانا جلال الدین فیضی مولانا امتیازرحمانی ،مولانا شاہ عالم مدنی ،شیخ طہ مدنی ،مولانا عبدالخالق مدنی ،عبدالعزیزرحمانی ،نسیم رحمانی ،مولاناجرارارحمانی ۔مولانا عبدالرحیم مدنی ،حافظ عبدالرب مدنی،مولانا عزیزالرحمن رحمانی ،حافظ عثمان رحمان. ،مولانا يونس رحمانی،حیدر بھائی ،عبداللطیف بھائی ،خالد بھائی ،مولانا اشیاق ،مولانا منصور ،نسیم بھائی،اکبر بھائی ،نظام بھائی ،شکیل بھائی ،ریاض بھائی ،عبیداللہ بھائی ،عبید بھائی ،اجمل بھائی ،ضیاءالحق بھائی ،کلام بھائی ،اخترملک صاحب ،قادربھائی وغیرہم ودیگر فارغین جامعہ ،اساتذہ،سرپرست ورشتہ داران فارغین وفارغات ، اوردیگر کئی سماجی وملی وعلمی شخصیتوں کے ساتھ کاندیولی پولیس سینئر اورچارکوپ پولیس سینئرودیگر انسپکٹرس نے رونق بخشی۔سامعین سے ہال بھراہوا تھااورخواتین کی ایک بڑی تعداد تھی۔ پروگرام بے حد کامیاب اور عوام وخواص کے لئے مفید اور نفع بخش تھا اور اس میں دینی وعصری تعلیم کے ساتھ سماج میں امن وآشتی اوربھائی چارہ وانسانیت کو فروغ دینے کا پیغام آفریں تھا۔رب العالمین سب کی محنتوں کو قبول فرمائے۔

Related posts

ملک کے بڑے اسپتالوں کی طرح ہمارے اسپتال میں سہولیتیں مہیا ہوں گی:ڈاکٹر ایوب

Siyasi Manzar

سماج اور مختلف النوع سماج کا پہلا اتحاد مدینے میں عمل میں آیا: مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

Siyasi Manzar

یوپی بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن قانون منسوخ

Siyasi Manzar

Leave a Comment